حضرت سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ syed mohammad janbaz wali baramulla حضرت سید محمد جان باز ولی رحمت اللہ علیہ کا بارہمولہ میں قیام

Tajamul sir
0





       

Part-4  !!!!!!!.......
حضرت سید محمد جان باز ولی رحمت اللہ علیہ کا بارہمولہ میں قیام

 

جانباز پورہ کے مقام پر حضرت سید محمد جان باز ولی کا تبلیغی مشن بہت کامیاب رہا اس دوران انہوں نے وہاں پر ہزاروں گمراہوں کو راہ راست پر لانے میں بہت محنت کی اور اس مقصد میں کامیاب بھی ہو گئے ۔ بہت سارے گمراہ لوگوں کو راہ راست نصیب ہوا ۔روز بہ روز لوگوں کی آمد رفت میں اضافہ ہوتا گیا  ، یہاں پر بھی عوام کی کثرت کی وجہ سے حضرت سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ کی عبادت میں خلل انداز ہوئی۔ اس صورت میں حضرت سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ لوگوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے جو کہ ہر روز ان کے پاس آتے تھے بہت تنگ آچکے تھے ۔اور ان کی عبادت میں خلل ہونے کی وجہ سے حضرت سید رحمۃ کشتی میں بیٹھ کر دریائے جہلم کی سیر کرتے رہتے تھے ۔اور اکثر وہ بیشتر بارہمولہ کے جہلم دریا میں کشتی میں سیر کرتے رہتے تھے ۔ایک دن حضرت سید رحمۃ  جانباز پورہ کے قیام کے دوران ایک دفعہ کشتی میں اپنے رفقا کےساتھ بیٹھ کر دریائے جہلم کے سیر کرنا شروع کیا۔ اور کشتی چلتے چلتے موجودہ خان پورہ کے کنارے پر لگ گئی۔ جہاں پر حضرت سید محمد جان باز ولی رحمت اللہ علیہ نے اپنے رفقاء کو اشارہ کیا کہ ہم اس جگہ کا معائنہ کریں گے ۔جہاں اس وقت کوئی بستی وغیرہ نہ تھی حضرت سید اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کشتی سے اتر کر خانپورہ کے جنگل کی طرف چل پڑے۔


  قدیم تواریخ سے پتہ چلتا ہے کہ خان پورہ کے مقام پر ایک گھنا جنگل تھا۔ اور یہاں کوئی بستی وغیرہ نہ تھی  راج ترنگی میں بتایا گیا ہے۔ کہ ہندوؤں نے موجوددہ بارہمولہ کے مقام پر  "وارہااوتار" کی یاد میں ایک تیرتھ بنوایا ،جس میں شولنگ اور دوسری مورتیاں رکھی گئی۔ پھر 1030 قبل مسیح میں راجہ بیم سین دوم نے اس تیرتھ کے ارد گرد ایک قصبہ بسایا جس کو وارہا اوتار کی بنا پر وارہا مولا نام رکھا گیا ۔اس زمانے میں کشمیر میں شو مت کا زور تھا جس وجہ سے آس پاس کے علاقوں میں بھی چھوٹے چھوٹے تیرتھ بن گئے۔ کیونکہ شو مت کے پجاری آس پاس کے جنگلوں میں کچھ جگہوں پر ڈیرہ جمع کر شو کو پوجنے لگے۔ چنانچہ اس قسم کی مورتیاں وارہا مولہ  کی حفاظتی چوکی  درنگ بل وارہا مولہ کے سامنے والے جنگل میں جو دریا کے پار ہے پائی جاتی ہے۔ ان دونوں جگہوں پر چشمے پھوٹتے ہیں ۔کلہن نے جس تیرتھ کا ذکر کیا ہے وہ اب بھی چھٹی بادشاہی کے قریب موجود ہے لیکن مورتیاں اب موجود نہیں ہیں۔ اور موجودہ درنگ بل کے قریب کشمیر کی حفاظت کے لیے کشمیر کے راجاؤں نے ایک حفاظتی چوکی بنائی تھی۔ جہاں پر مکمل اور سخت پہرا ہوتا تھا کیونکہ بیرونی ممالک سے سیاہ اس راستے سے کشمیر میں آجاتے تھے ۔لیکن جب آہستہ آہستہ کشمیر میں شو مت کا زور ٹوٹ گیا تو یہ مورتیاں بھی وقت کے ساتھ ساتھ تباہ ہو گئی کلہن کے اس بیان کی تصدیق پروفیسر بولر نے بھی کی ہے


  وارہا مولہ بستی کے سامنے والے جنگل کی طرف جو اشارہ کیا گیا ہے وہ  وہی جگہ ہے جہاں پر حضرت سید محمد جان باز ولی رحمت اللہ علیہ کی زیارت ہے کیونکہ یہاں پر ایک چشمہ بھی پھوٹتا تھا اور اس جگہ پر پتھروں پر تراشے ہوئے بت بھی موجود تھے ۔ممکن ہے کچھ لوگ اس اشارے کو موجودہ دیو مندر سے منسوب کریں لیکن اصل میں ایسا نہیں ہے کیونکہ موجودہ دیوبندر پرانا نہیں بلکہ حضرت سید کی آمد کے بعد کا ہے 


چنانچہ ذکر جان باز میں درج ہے کہ حضرت سید محمد جان باز ولی رحمت اللہ علیہ نے اس مذکورہ خانپورہ کی جگہ کا معائنہ کیا اور اس جگہ پر ایک چشمہ دیکھا اس چشمے کے ارد گرد صفائی کی۔ یہ جگہ آپ کو بہت اچھی لگی چنانچہ چشمے کے اردگرد کی جگہ کو صاف کرنے کے بعد حضرت سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ نے جان باز پورا کی جگہ سے اپنا تبلیغی مرکز منتقل کر کے خوان پورہ کے اس جگہ پر قائم کیا۔ چونکہ یہ جگہ ایک تیرتھ تھا۔ اس تیرتھ کو اپنی باطنی قوت سے اسلامی تعلیمات کی اشاعت کے لیے اپنے تبلیغی مشن کا مرکز بنایا یہ اس ہستی کا کمال ہے کہ اس نے اپنے روحانیت کی مدد سے اس تیرتھ  کو ایک اسلامی درسگاہ اور تبلیغی مرکز کے ساتھ ساتھ اپنی آخری قیام گاہ بھی بنایا ۔چونکہ یہ ایک عام انسان کی بس کی بات نہیں کہ ایک تیرتھ کی جگہ کو ان لوگوں سے حاصل کرنے کے بعد ایک اسلامی مرکز اور تبلیغی مرکز بنا کر اسلام کی اشاعت کرنا ممکن نہیں ہے۔



چونکہ یہ بات بھی سننے میں آئی ہے کہ اس جگہ پر جو ہی آپ کا پڑاو پڑا تو وہاں پر بیٹھے ہوئے کچھ سادھوں نے آپ کو اس جگہ پر ڈیرہ جمانے سے منع کیا میں نے از خود بھی اس بات کو کہی باعلم شخصیات سے سنا ہے ۔کہ جو ہی اس جگہ پر یعنی اس خانپورہ کی جگہ پر سادھو اور حضرت سخی جانباز ولی رحمت اللہ علیہ کے درمیان بحث و مباحثہ شروع ہوا ۔چونکہ وہ اس جگہ کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے مگر اپنی باطنی قوت اور ولایت کی مدد سے حضرت سخی سید محمد جان باز ولی رحمت اللہ علیہ نے اس چشمے کی طرف اشارہ کیا تو اس چشمے سے ایک موزی کیڑانمودار ہوا جن کو ہم عرف عام  کشمیری میں "بمبر "کے نام سے جانتے ہیں ۔جو شہد کی مکھیوں کی طرح ہوا کرتے ہیں جن کی ڈسنےسے انسان کی موت واقع ہونے کی قوی اندیشہ ہوتا ہے وہ کیڑے اس چشمے سے نکلے  اور انھوں نے سادھوں پر حملہ کیا جنوں نے وہاں پر جگہ چھوڑنے سے انکار کیا تھا۔ چونکہ حملہ کرنے کے بعد وہ سب وہاں سے بھاگ چلے اور اس پوری جگہ کو خالی کر دیا اس کے بعد پرامن طریقے سے حضرت سخی سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ نے اس جگہ کو اپنی آخری آرام گاہ منتخب کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اسلامی مرکز بھی بارہمولہ خان پورہ کی جگہ پر قائم کیا اور جو آج بھی 700 سال گزرنے کے بعد بھی قائم ہے۔ اور وہاں پر ایک جامع مسجد قائم کی جس مسجد میں جمعہ کے دن ایک کثیر تعداد اجتماع بھی ہوا کرتا ہے ۔چونکہ پورے بارہمو لہ میں یہی سب سے پہلی مسجد ہے جو اللہ تعالی کے ایک برگزیدہ ہستی نے تعمیر کی ہے۔ اور اس قدیم مسجد میں نماز ادا کرنے سے باقی جو جدید مساجد قائم ہے زیادہ ثواب ہے جو کہ احادیث مبارک سے ثابت ہے  اور اس جگہ پر آج بھی لوگ جمعہ کے مبارک موقع پر کثیر تعداد میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے دور دراز سے لوگ آتے ہیں اور اس مبارک مجلس میں  شرکت کرتے ہیں ۔


یہ حضرت سید سخی جانباز ولی رحمت اللہ علیہ کی ایمانی قوت ہی تھی اور ولایت کا کمال تھا کہ آپ نے کفر کے اس مرکز کو اپنے تبلیغی مشن کا کام چلانے کے لیے اسلامی تعلیمات اور خدا  وحدت کی عبادت کا مرکز اُس وقت بنا دیا۔ محکمہ اثار قدیمہ کے مشاہدے سے معلوم ہوا ہے ۔کہ حضرت سید محمد عربی رحمۃ اللہ علیہ کے روزے کی تعمیر میں جو بڑے بڑے سرخ پتھر استعمال کیے گئے ہیں وہ اصل میں وہی بت ہیں جو حضرت سید کی آمد کے وقت وہاں پر موجود تھے ۔اور ان کو اُلٹا کر کے استعمال کیا گیا ہے ۔ایسے ہی کچھ پتھر زیارت شریف کی مسجد شریف کے نچلے حصے میں استعمال کیے گئے ہیں ان پتھروں اور اونتی پورہ کے کھنڈرات میں موجود پتھروں میں یکسانیت پائی جاتی ہے ۔اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ زیارت شریف کے اندر شمال کی جانب ایک کھڑکی میں ایک کشتی نما پتھر ہے جس میں خاک شفا رکھا جاتا ہے اصل میں ایک بت کو اُلٹا کر کے اس کام کے لیے استعمال کیا گیا ہے تاکہ لوگ ڈر سے عبرت حاصل کر سکیں۔ کہ واقعی اللہ تعالی کی مقدس ذات کے بغیر اور کوئی چیز باقی نہیں رہے گی ۔اور حق پرست انسان ہمیشہ غیراللہ کی پرشش کرنے والوں پر غالب رہے گا۔ مذکورہ پتھر پر ایک عقابی  صورت کا بت بنا ہے۔



  اس نو آباد شدہ بستی میں حضرت سید ایک طرف لوگوں کو دین اسلام سے روشناس کراتے تھے۔ اور دوسری طرف ان کے طعام کا بھی انتظام تھا ۔حضرت کے باورچی کھانےکی نشانی ایک بڑی دیگ ہے، جو اب بھی موجود ہیں سینکڑوں آدمیوں کو ہر روز کھانا ملتا تھا ۔اسی وجہ سے اس بستی کا نام خوان پورہ پڑا جو رفتہ رفتہ خان پورہ میں تبدیل ہو گیا ۔اس دیگ کی تفصیل آگے آئے گی حضرت سید خانپورہ میں مقیم ہو کر اصلاح معاشرہ کے کاموں میں مشغول ہو گئے عبادت و ریاضت سے فراغت پا کر وہ لوگوں سے ملتے اور ان کو تبلیغ دین کی محاسن سمجھاتے ۔ان کی مجلس میں تبلیغ و قران اور درس حدیث ہوتا تھا ۔لوگ کافی تعداد میں ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور باطنی فیوض حاصل کرتے۔ اس بارے میں" تاریخ الا اولیاء "کے مورخ سید امام الدین احمد بن سید عبدالفتح گلشن آبادی لکھتے ہیں، جامعہ علوم ظاہری و باطنی اور صاحب ارشاد تھے اور تحریر میں اپنی عمر گزاری۔ ہر روز آپ کے دربار میں اتنے آدمیوں کا ہجوم ہوتا تھا کہ راستہ چلنا لوگوں کا دشوار ہوتا تھا سینکڑوں آدمی آپ کی ذات و بابرکت سے فیوض یافتہ ہیں،


حضرت سید سخی محمد جان باز ولی رحمت اللہ علیہ کا مشن۔۔۔۔!!!!


  حضرت سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ کی خدمت میں جو بھی شخص حاضر ہوتا۔ اس سے راہ حق پر چلنے کی تلقین فرماتے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ کی زندگی کا مقصد صرف اشاعت اسلام تھا حضرت سید کا دور کشمیر تو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انہوں نے اشاعت دین کی غرض سے کاروبار اہل و عیال اور عزیز و اقارب کو داغ مفارقت دیا اور اللہ کی راہ میں نکل کر بے شمار مصائب و تکالیف برداشت کر کے کلمہ حق کو تقویت پہنچاتے رہے۔ قران و سنت ان کی زندگی کا سب سے بڑا وظیفہ تھا۔ اور اس کی برکت کو عام کرنا ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ یہی ان کا مشن بھی تھا ایران سے کشمیر تک پیدل سفر کرنے میں ان کا کوئی ذاتی نفع نہیں تھا ۔بلکہ وہ صرف اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنے جد و امجد جناب رسول محترم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین حق کی روشنی پھیلانے کے لیے دنیائے مصائب جیلتے ہوئے وارد کشمیر ہوئے۔ اور یہ وہ زمانہ تھا کہ اس وقت نہ ریل تھی نہ موٹر گاڑی اور نہ ہی ہوائی جہاز اور واقعی قران پاک کی یہ آیت حضرت سید سخی محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ پر صادق آتی ہے" ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات بل احياء ولكن لا تشعرون " یعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہے مگر تمہیں شعور نہیں یعنی تم انہیں دیکھ نہیں سکتے .'


حضرت سید کا جان باز لقب۔۔۔!!!!!!



  حضرت سید محمد رفاعی رحمت اللہ علیہ اس وقت جانباز لقب پاچکے تھےجب آپ وارد کشمیر ہوئے حضرت سید علی اپنی تاریخ میں فرماتے ہیں جس کا اردو ترجمہ یوں ہے " یعنی چونکہ آپ نے ریاضت میں انتہائی جان فشانی کا مظاہرہ کیا اس لیے آپ کو جانباز کہتے تھے خواجہ اعظم دید مری اپنی تواریخ میں فرماتے ہیں جس کا اردو ترجمہ یوں ہے  "یعنی خدا کی رہ میں ظاہری اور روحانی ہر لحاظ سے جان بازیوں کا مظاہرہ کیا " شاہ نامہ کشمیر میں حضرت سید کی جانبازی کی طرف متعد جگہوں پر اشارہ کیا گیا ہے اس لیے یہ بات پاے ثبوت کو پہنچتی ہے کہ حضرت سید نے دین اسلام کا مشن عام کرنے کے لیے بڑی جانبازی اور دلیری کا مظاہرہ کیا ہے ۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت سید نے دین کی اشاعت میں ایران اصفان سے لے کر کشمیر تک ہزاروں میل کی مسافت پیدل طے کی۔ اس کٹھن سفر میں انہیں کتنے مصائب برداشت کرنے پڑے ہوں گے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس زمانے میں ذرائع آمد رفت کی یہ سہلتیں نہ تھی۔ جتنی کہ آج کل ہے راستے بڑے پرخطر ہوتے تھے ۔جگہ جگہ راہزنو اور ڈاکوؤں کا خطرہ ہوتا تھا۔ لیکن اللہ کے اس عظیم بندے نے محض خدائی خوشنودی کی خاطر جان کی بازی لگا کر یہ سب کچھ برداشت کیا اور جانباز کا لقب حاصل کیا اور اسی جانباز کے لقب سے یہاں کشمیر میں مشہور ہے ۔


حضرت سید کے روز شریف کے اندر  جو چیزیں ملتے ہیں ان سے ان کی جانبازی کی طرف کچھ اشارہ ملتا ہے۔ جیسا کہ ان کے روز شریف کے اندر قبلہ کی جانب ایک کونے میں گول پتھر پر کھڑے تین بہت ہی لمبے لوہے کے علمےہے جن کے دست اور سر لوہے کے ہیں۔ اور بیچ والا حصہ لکڑی کا ہے جن کو لوگ عرف عام میں علم شریف کہتے ہیں ۔جب سے حجاج اور دیگر عرب ممالک سے بیرون دنیا کے لیے قافلے جاتے رہے تب سے قافلوں کے سالار اس قسم کے علم اور پرچم اپنے آگے لے جایا رہتے ہیں۔ مسلمانوں کا پرچم ہمیشہ ایک رہا ہے جس کی امتیازی شان کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اور اسی کلمے کی سربلندی کے لیے اسلامی قافلے آگے آگے یہ علم اور پرچم رکھتے تھے۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ حضرت سید ایک بڑے قافلے کے سالار  بھی تھے ۔



حضرت سید کو عرف عام میں سخی جانباز ولی کہا جاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت سید جان باز ولی ہونے کے علاوہ سخی اور ولی بھی تھے پہلے بھی اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت سید کے تبلیغی مرکز پر ہزاروں آدمیوں کو مفت کھانا ملتا تھا ۔حضرت سید کی دیگ جس میں ایک وقت تین خروار غلہ  پکتا ہے ۔ان کی سخاوت کا واضح ثبوت ہے شاہ نامہ کشمیر میں حضرت سید کی سخاوت اور مہمان نوازی پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔جس کا اردو ترجمہ یوں ہے کہ حضرت سید کے دربار میں مسافر و مقیم غریب و امیر سب کو ایک خاص قسم کا پلاؤ ملتا تھا ۔اور حضرت سید کی دیکھ صبح و شام دیگدام پر گرم رہتی تھی۔ یعنی جو جس وقت چاہتا اس وقت اسے کھانا ملتا۔ ڈاکٹر برنیر نے بھی اپنی تصنیف میں اس دیگھ کے بارے میں ایسا ہی واقعہ بیان کیا ہے وہ لکھتا ہے " اس مقبرے کے متصل ایک باورچی کھانا ہے جہاں مجھ کو بڑی دیگ گوشت اور چاولوں سے بھری ہوئی نظر ائی" ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سید جامباز ولی رحمت اللہ ہونے کے علاوہ بہت فیاض اور سخی تھے۔ اسی لیے ان کے نام کے ساتھ آج بھی سخی کے حروف کو بھی لکھا جاتا ہے اور اس کے نام کو حضرت سخی سید محمد جانباز  ولی رحمت اللہ علیہ کے نام سے بھی کشمیر میں جانا جاتا ہے۔ (ذکر جانباز۔     1985-1982  )


تحریر از شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر

                                                                                         27october 2024




 

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)