Part----1
جیسا کہ ہم سب باخبر ہیں کہ وادی کشمیر میں اللہ تعالی کے برگزیده ہستیوں نے تشریف لا کر اس وادی کشمیر کی مختلف علاقوں میں اپنی عبدی آرام گاہ بنائی ہے ہم سب کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ اللہ تعالی کے برگزیده اولیاء کرام نے وادی کشمیر میں تشریف لا کر لوگوں کو حق شناس کرنے میں, اور انسانیت کا درس دینے میں اپنا پورا من و تن لگا کر اس مقصد میں کامیاب ہو گئے اور اس وادی کشمیر کو ایک عظیم الشان دین یعنی دین اسلام کے نور سے روشناس کرانے میں اپنی پوری زندگی خرچ کی اور اس وادی کو نورحق سےروشناس فرمایا. ان اولیاء کا ملين میں سے ایک مشہور ولی کاملین جس کا نام سید محمد جانبازولی رحمت اللہ علیہ ہے جو بارمولہ قصبے کے ایک مشہور جگہ جس کا نام خان پورہ ہے وہاں پر تشریف فرما ہے یہاں پر اس کی زیارت شریف تعمیر کی گی ہے جس کے ساتھ میں مسجد شریف بھی قدیم دور کی تعمیر میں ہی موجود ہے اور ایک پرسکون جگہ ہے جہاں پر دور دور سے لوگ آکر فیض حاصل کرتے ہیں . اس کی زیارت شریف پورے ڈسٹرکٹ بارمولہ کے لوگوں کے لیے ایک مقدس اور مکرم جگہ جانی جاتی ہے اور ملت اسلامہ کے قیمتی اثا ثوں میں شمار کی جاتی ہے. جہاں پر پورےڈسٹرکٹ و غیر ڈسٹرکٹ کے لوگ اس زیارت عالیہ پر حاضری دیتے ہیں اور اور ایمانی قوت کو تر و تازہ کرتے ہیں ان کی خدمت دین اور تشریف آوری کشمیر اور اپنی آرام گاہ خان پورہ بارہمولہ میں رکھنے تک کی ہم مختصر سے حالات کا جائزہ لیں گے
حضرت سید سخی محمد جانباز دین ولی رحمت اللہ علیہ اعلی درجہ کے, بزرگ اور ولی گزرے ہیں خداوند کریم نے انبیاء و مرسلین کے بعد اولياءکرام کو روے زمین پر ممتاز مقام بخشا ہے قانون قدرت اور آئین فطرت ہے کہ اللہ تعالی نے کسی شخص کو اس وقت تک بلند مرتبہ عطا نہیں کیا ہے جب تک نہ وہ اس کا مستحق ہوگا. نبوت اور رسالت کی سند انبیاء اور مرسلین کو سستے داموں میں نہیں ملی تاریخ گواہ ہے کہ انبیاء و مرسلین نے احکام الہی کی تبلیغ کرنا اور رضائی الہی پورا کرنے کی خاطر کن کن ناقابل برداشت مصائب اور مشکلات کا سامنا کر کے نبوت کی سند لی ہے اور اسی طرح ایمان اور ولایت کی سند اولیا ء,اللہ آسانی سے حاصل نہیں کر سکتے ہیں خداوند کریم سے قرب قائم کرنا ہر شخص کا کام نہیں اس کے لیے نہ صرف مال و زر و قیمتی اوقات کی قربانی دینا پڑتی ہے بلکہ عزیز و اقارب اولاد اور پیاری جان تک کی پیشکش کرنی پڑتی ہے
حضرت جناب رسول محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا,,, علماء' امتى کا نبیاء بنی اسرائیل ,,میری امت کے علماء بنی اسرائیل کی انبیاء کی طرح ہوں گے یعنی جس طرح بنی اسرائیل کی اصلاح و ہدایت کے لیے اکثر وہ بیشتر انبیا ءمعبوس ہوتے رہے تھے اسی طرح امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت و اصلاح کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے اولیاء مامور ہوتے رہے ہیں یہاں پر علماء اور فقراء کے مابین اختلاف ہے کیونکہ علماء تفسیر و حدیث کی ماہروں کے لیے مخصوص ہے یہ مہارت فقرا کو بھی ہوتی ہے علماء وہ بھی ہوتے ہیں لیکن تیسری صدی ہجری میں انہوں نے خود کو صوفیا ء کے ذیل میں لیا اور علماء کا لفظ علوم ظاہری کے ماہرین کے لیے مخصوص ہو گیا فقرا بھی خود کو صوفی کہنے لگے اور علماء بھی انہی اسی طرح اسی لفظ سے موسم کرنے لگے ورنہ حضرت غوث اعظم رحمت اللہ تعالی علیہ , حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ تعالی علیہ حضرت یحیی بن معاذ رحمت اللہ تعالی علیہ, حضرت خواجہ غریب نواز رحمت اللہ علیہ وغیره بڑے بلند پایا کہ عالم بھی تھے لیکن یہ خود کو فقیر ہی کہتے اور لکھتے اور اسی نام سے مشہور ہوئے غور کیجیے اگر اجمیر شریف میں خواجہ غریب نواز رحمت اللہ کے بجاے کوئی عالم ہوتا تو وہ پرتھوی راج چوہان کی قوت قاہرہ کے مقابلے میں کیا کر لیتا ,اور جب جوگی جیپال اس کی طرف آگ برساتا ہوا بڑھتا تو اس وقت اس کا علم اس کے کیا کام آتاــــــــ--- پاک پتن میں جوگی کے مقابلے میں بابا صاحب رحمت اللہ کے بجائے کوئی عالم ہوتا تو اس سے کیا بن آتی ــــــــ--! لاہور کے قلعے کے محاصرے کے موقع پر جب جادو کے کھیل شروع ہوئے اس وقت اگر حضرت داتا گنج بخش رحمت اللہ علیہ کے بجائے علامہ ابن تیمیہ رح ہوتے تو کیا کرتے ---جیسے حضرت سید میر علی حمدانی رحمت اللہ علیہ کو جب ہوا میں اڑتے ہوئے اس شاہپور سے مقابلہ ہوا تو وہاں پر اگر کوئی عالم ہوتا تو کیا کرتا ۔
اگر ہم اس بات پر غور کریں گے کہ حدیث شریف میں جو علماء کو وراثت الانبیاء کہا گیا وہ علماء کون ہے ؟ یہ بات عیاں نظر آتی ہے کہ اولیاء کاملین نے اپنی کرامات کی قوتوں سے اور اپنی روحانی طاقتوں سے حریفوں کو زیر بھی کیا اور مترف بھی بنا یا۔اور ہم کو یہ بات بھی تسلیم کرنا پڑے گی،،،، کہ خواجہ حسن بصری رحمت اللہ علیہ حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ حضرت غوث الاعظم رحمت اللہ علیہ حضرت خواجہ غریب نواز رحمت اللہ علیہ حضرت بابا صاحب رحمت اللہ علیہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمت اللہ علیہ حضرت نظام الدین اولیاء رحمت اللہ علیہ وغیرہ سب کے سپرد اللہ کی طرف سے وہی کام تھا جو بنی انبیاء بنی اسرائیل کے سپرد رہا ہے --اور یہ اصلاح و ہدایت خلق پر مامور تھے اسی زمرے میں سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ بھی آتے ہیں--- جنہوں نے اپنی تمام تر زندگی راہ حق میں وقف کر دی اور اس دین اسلام کے لیے من و تن سے خدمت کی اور لوگوں کو دین حق سے آ شنا کیا۔
حضرت سید محمد جانباز ولی رفاعی رحمت اللہ علیہ نے 735 ہجری مطابق 1413 عیسوی کو اپنی ولادت سعادت سے اس جان فانی کو مشرف فرمایااصفہان ایران کے ایک مشہور شہر میں پیدا ہوئے- اس زمانے میں بھی یہ شہر تجارت پیداوار دنیاوی امور اور تہذیب و تمدن کا مرکز تھا روحانی فیوض و برکت نے اس شہر کو تاریخ, میں ایک بلند مقام بخشاء سید علی جو حضرت سید کے ہم اثر تھے اپنی تاریخ میں فرماتے ہیں؛--" یعنی آپ کا اسم شریف سید محمد اصفہانی رحمت اللہ تعالی علیہ ہے آپ خلوت گزین اور تنہائی پسندوں کے سردار تھے موحدوں کے مرشد تھے ملک کے تجدید اور تفرید کے سپاہ تھے اور سید محمد رفاعی کے نام سے مشہور تھـــے --"حضرت خواجہ اعظم د يده مری اپنی تاریخ میں حضرت سید کے اسم گرامی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ--" آپ کا اسم مبارک اصلی نام سید محمد رفاعی لکھا ہے سید علی رحمۃ اللہ علیہ جو کے حضرت سید محمد جانباز نے ولی رحمت اللہ علیہ کے ہم اثر تھے نے اپنی تاریخ میں حضرت سید محمد جانباز ولی کا سال ولادت 735 ہجری لکھاہے -اور ملا عبدالوہاب صاحب شائق نے حضرت سعید علی کی روایت کا حوالہ دے کر حضرت سید محمد جانباز ولی کا سال ولادت بھی 735 ہی لکھا ہے ۔
حضرت سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ کی شرافت نسبی اور عظمت نسلی کے اطراف میں ایک عالم کی زبان وقف منقبت چلی آئی ہے ---!!!! خزینۃ الاصفیہ میں مولانا سرور صاحب لاہور سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ کے نسبت کے بارے میں لکھتے ہیں جس کا اردو ترجمہ یہ ہے'' یعنی حضرت سید محمد جانباز ولی رفاعی کی نسبت کہی وجوہات کی بنا پر حضرت سید احمد رفاعی رحمہ اللہ تعالی کے ساتھ پائی جاتی ہے جب ہی تو آپ رفاعی کے نام سے بھی مشہور ہیں حضرت سید احمد رفاعی بن سعید ابو الحسن رضی اللہ تعالی عنہ عالم روحانیت میں بلند مرتبہ رکھتے تھے اور پھر شیخ الصلحاء اور ہادی الاتقیاء کے لقب سے سرفراز ہوئے تھے اور تو آپ حضرت سلطان الاولیاء قطب القونین نور القمرین شمس المشرقین والمغربین ابن الحسن والحسین غوث ثقلین شیخ سید القادر جیلانی رحمت اللہ تعالی علیہ کے مصاحب وسا تھی تھے آپ کی نسبت حضرت امام موسی کاظم رحمت اللہ تعالی علیہ تک پہنچتی ہے اور طریقت میں آپ کی نسبت حضرت شیخ شبلی رحمت اللہ علیہ کے ساتھ ہے آخر الامر آپ حضرت غوث الاعظم رح کی خدمت میں حاضر ہو کر روحانی فیوض و برکات سے مالا مال ہوے حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ انتہائی محبت کی وجہ سے آپ کی والدہ کو اپنی بہن اور میر سید احمد رفاعی کو اپنا بھانجا کہتے تھے ۔حضرت سید احمد رفاعی نے 22 ماہ جمادی الاول سن 572 ہجری جمعرات کو رحلت فرمائے۔
چونکہ حضرت سید احمد رفاعی رح اصفهان کے رہنے والے تھے اور حضرت سید محمد رفاعی جانباز ولی رحمت اللہ تعالی علیہ بھی اصفهانی تھے اس لیے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سید محمد رفاعی جان باز ولی رحمت اللہ علیہ حضرت سید احمد رفاعی کے اولاد سے ہے اور حضرت سید محمد رفاعی رحمت اللہ علیہ کی حضرت سید احمد رفاعی رحمت اللہ علیہ کی آپس میں قوی نسبت ہے۔فتوحات قادریہ میں حاجی سید محمد حسین قادری منطقی رحمت اللہ علیہ رقم دراز ہے کہ حضرت سید محمدجانباز ولی رفا عی قدس سرا کا اکابر و اعظم سادات عالی درجات سے ہے آپ کا نام سید محمد رفاعی قادری رحمت اللہ تعالی ہے اور نسبت قادریہ قوی رکھتے ہیں چنانچہ راقب نے بہت دفعہ خانپورہ میں زیارت شریف کے متوالیوں کے گھر میں جو دریا کے کنارے پر بستے ہیں ان کے شجر نسب کا مطالعہ کیا جو عربی زبان میں ہے اور صحیح سلامت موجود ہے معلوم ہوا کہ آپ کی نسبت جناب سید احمد رفاعی رحمت اللہ تعالی علیہ کے ساتھ ہے جو کہ حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ تعالی علیہ کے اصحاب میں سے تھے-" تاریخ الاولیاء" میں لکھا ہےکہ حضرت سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ رفاعی قدس سرا اعظم سادات عالی درجات سے ہے نام آپ کا سید محمد اور نسبت قادریہ قوی رکھتے تھے اوربہ واسطہ جناب سید احمد رفاعی طریقہ عالیہ کی اجازت لی یہاں پر بقول سعید امام الدین احمد جو تاریخ مذکور کے مصنف ہے حضرت کے نام کے ساتھ رفاعی اسی وجہ سے ہے کہ آپ نے حضرت سید احمد رفاعی کو پیر طریقت مانا ہے تواریخ سے یہ ثابت ہے کہ سید محمد رفاعی جامباز ولی رحمت اللہ علیہ حضرت سید احمد رفاعی کی اولاد سے ہیں اور قادری نسبت قوی رکھتے ہیں اسی طرح سے ایک طرف آپ کا سلسلہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور دوسری طرف سے آپ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ پر جا کر ختم ہوتا ہے اور حضرت بی بی فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہ پر جا کر ایک ہو جاتا ہے گویا آپ لخت جگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرزند بتول اور نور چشم حضرت حسنین علیہم السلام ہیں اور سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ آپ سید اور اولاد رسول ہیں اور عربوں کے سب سے محترم و موقر شاخ نسل ابراہیمی سے تعلق رکھتے ہیں .
حضرت سید محمد رفاعی جانباز ولی رحمت اللہ علیہ کا نصب بیسویں پشت میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے جیسا کہ نیچے درج ہے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بی بی فاطمہ زہرا اور رضی اللہ تعالی عنہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ حضرت امام محمد باقر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ حضرت امام موسی کاظم رضی اللہ تعالی عنہ حضرت سید احمد رفاعی کا سلسلہ نصب دس پشتو کے بعد امام موسی کاظم رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ ملتا ہے اور حضرت سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ تعالی علیہ کا سلسلہ نسب تیسری پشت میں حضرت سید احمد رفاعی کے ساتھ ملتا ہے اس طرح حضرت سعید جانباز ولی رحمت اللہ تعالی علیہ کا نصب بیسویں پشت میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا ملتا ہے
حضرت سید کی تعلیم و تربیت
خداوند کریم نے حضرت سید کو قابلیت ذہنیت اور فہم سے نوازا تھا آپ کو کسی مکتب سے تعلیم نہیں ملی بلکہ ایک بزرگ عالم سعید محمد عربی رحمت اللہ علیہ جن کا روضہ زیارت کے صحن میں موجود ہے سے آپ نے ظاہری تعلیم حاصل کی لیکن ظاہری تعلیم سے زیادہ سید موصوف کو علم الدنی باطنی علوم حاصل کرنے کا شوق اور جنون تھا لیکن علم لدنی کتابیں پڑھنے اور کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے سے حاصل نہیں ہوتا اس منزل میں علم کام نہیں کرتی بلکہ یہاں عمل محنت و ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے حضرت موسی علیہم السلام بڑے مرسل اور عالم تھے اللہ تعالی کے پیغمبر وں میں سے ان کا شمار ایک کلیم اللہ کے مقام سے جانا جاتا ہے مگر جب اس نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے علم الیقین کا منزل اور مقام حاصل ہے لیکن عین الیقین یعنی اپنی معرفت سے مجھے روشناس فرما لیکن قرآن گواہ ہے اللہ تعالی کی طرف سے آواز ائی آپ مجھے ہرگز دیکھنے کی تاب نہیں لائیں گی ۔طریقت اور علم لدنی حاصل کرنے کی خاطر ایک کنج نشین بزرگ سے ملاقات کرنے کا حکم ملتا ہے فرمان الہی کے مطابق حضرت خضر عہ سے ملتے ہیں لیکن جب علم لدنی کے بارے میں ان سے پوچھتے ہیں تو جواب ملا اے موسی آپ میں وہ قوت برداشت نہیں کہ آپ میری صحبت میں رہ کر اس چیز کو حاصل کر سکیں لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس دونوں عالم میں کامل تھی اسی طرح ان کی امت میں اولیاء اللہ کی ایسی برگزیدہ ہستیاں گزری ہیں جو دونوں علوم سے روشناس تھے جس طرح علوم ظاہری کے حصول کے لیے استاد کی صحبت کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح علم لدنی کے لیے مرشد کامل کی رہبری ضروری ہے اور علم لدنی حضرت سعید رحمت اللہ تعالی علیہ نے حضرت سید جلال الدین بخاری مخدوم جہانیاں علیہ الرحمہ سے حاصل کیا۔یہ بات حضرت سید جلال الدین بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے شاہنام کشمیر میں درج فرمائی ہے
حضرت سید کا شجر طریقت شیخ عبدالصبور ہادی صاحب اپنی تاریخ خوارق ا لسالکین میں فرماتے ہیں یعنی کتب العارفین غوث العااشقین حضرت سید محمد جان باز ولی رحمت اللہ علیہ حضرت سید جلال الدین بخاری کے عظیم المرتب مریدوں میں سے تھے اور طریقہ سہروردیہ پہ گامزن تھے تاریخ شایق میں عبدالوہاب صاحب لکھتے ہیں یعنی محرم بارگاہی ربانی سید محمد جانباز اصفہانی رحمت اللہ تعالی علیہ جن کو رفاعی بھی کہا جاتا ہے حضرت سید سادات سید جلال الدین بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں۔اس پورے اقتباس کو مطالعہ کرنے کے بعد ہم باخبر ہوئے کہ اللہ تعالی کے اس برگزیدہ ولی حضرت سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ کا مقام کتنا بلند پایا ہیں۔یہ حصہ اول تھا اس مضمون کا اس کا دوسرا حصہ بھی آپ مطالعہ کریں ۔
تحریر از; شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر
26 ستمبر4 202





