حضرت شہباز قلندر کی کرامت
بلخ بخارا کے بادشاہ ایک مرتبہ حضرت لعل شہباز قلندر کی خدمت میں حاضر ہوئے ،اور عرض کی کہ اے شہنشاہی ولایت ! میرے پاس خدا کی دی ہوئی ہر نعمت موجود ہے۔ میری بادشاہت میں میری حکم کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ نعمت خداوندی سے میں مالا مال ہوں لیکن ایک چیز کی کمی میں شدت سے محسوس کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ میں اولاد سے محروم ہوں۔ آپ میرے لیے دعا فرمائیے کہ خداوند کریم مجھ کو اس نعمت سے بھی نواز دے۔ حضرت شہباز قلندر صاحب نے بادشاہ کے لیے دعا فرمائی ،اور ساتھ ہی یہ بشارت بھی دی کہ بہت جلد اللہ تعالی تمہیں ایک فرزند صالح دے گا۔ لیکن اس میں ہمارا حصہ ہوگا ۔بادشاہ نے عرض کی حضرت مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میری سلطنت کا ولی عہد پیدا ہو جائے۔ کچھ عرصے کے بعد اللہ پاک نے بادشاہ پر مہربانی کر دی اور اس کو ایک فرزند ارجمند عطا کیا۔
بادشاہ نے بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں زر و جواہر تول کر حضرت لال شہباز قلندر رحمت اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کیے ۔مگر آپ نے ان تمام چیزوں کو رد کرتے ہوئے فرمایا ہمیں دنیاوی دولت سے کیا سرکار! ہم درویش لوگ ہیں ان جھگڑوں سے تو ہمارا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ ہمارا تو تمہارے بیٹے میں ساجھاہے۔ ہم اس میں سے حصہ لیں گے یہ کہہ کر آپ نے حکم دیا کہ بچے کو ہمارے سامنے لایا جائے بادشاہ نے فورًا آپ کے حکم کی تعمیل کی ۔آپ نے بچے کو اٹھایا اور اپنی گدڈی میں چھپا کر بادشاہ سے کہا کہ اب تم جو کچھ مرضی کر لو اس میں آدھا حصہ میرا ہوگا۔ آپ نے اس بچے کا نام ادہم رکھا یہ لڑکا ہی بڑا ہو کر سلطان ادہم کے نام سے مشہور ہوا ۔لیکن کچھ عرصے حکومت کے بعد اس نے دنیا ترک کر دی اور باقی آدھی عمر فقیری میں گزاری۔ سلطان ادھم نے حضرت لال شہباز قلندر کے حکم سے خیرپور کے پاس پہاڑی پر قیام کیا ۔اور یہاں پر ہی وفات پائی آپ کا مزار خیرپور میں موجود ہے۔ سلطان ادہم میں سے حضرت لال شہباز قلندر صاحب نے اس کی درویشی کی شکل میں آدھا حصہ لیا۔( تذکرہ شہباز قلندر)
******************************
(قصص الاولیاء عالم فقیری صفحہ نمبر 276)
تحریر از شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر 27اکتومبر2025
***********************************************************************************
-Also Read below articles
اسلام میں لڑکا اور لڑکی کے بالغ ہونے کا مسئلہ ۔
2 کیا نماز جنازہ کے بعد ہم دعا پڑھ سکتے ہیں.
مدرسہ کی گھاس اور کنواں ،اہم واقعہ حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی صاحب رحمت اللہ تعالی علی

