syed janbaz wali baramulla حضرت سید محمد جان باز ولی رحمت اللہ عہ part3

Tajamul sir
0



  حضرت سید محمد جان باز ولی رحمت اللہ علیہ کا وارد کشمیر ہونا __________!!!!!

Part-3


حضرت سید محمد جان باز ولی رحمت اللہ علیہ کا سری نگر میں قیام


                                  چونکہ حضرت سید محمد جام باز ولی رحمت اللہ علیہ کشمیر میں شوپیاں کے راستے داخل ہوئے اور وہاں سے چل کر ان کا تقریبا دو سال تک کا قیام گاہ سری نگر میں رہا جہاں پر انہوں نے اپنی توحید کے مشن کا پہلا دور شروع کیا۔ حاجی محمد حسین قادری اپنی تحریر" فتوحات قادریہ "میں لکھتے ہیں جس کا اردو ترجمہ یوں ہے یعنی حضرت سید جانباز ولی رحمت اللہ علیہ جو ظاہری و باطنی علوم میں کمال رکھتے تھے اور صاحب ارشاد تھے توحید کے تعلیم دیتے تھے پہلے پہل شہر یعنی سری نگر میں قیام فرمایا . یعنی حضرت سید جان باز ولی رحمت اللہ علیہ نے پہلے شہر سری نگر میں قیام فرمایا اور شاہ و گدا ان کے صحبت سے فیضیاب ہوتے رہے۔ سری نگر پہنچنے پر آپ نے عبادات و ریاضات کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیم کا  تبلیغ کا  کام بھی جاری فرمایا ۔سری نگر میں حضرت سید نے دو سال قیام فرمایا حضرت کی شہرت طول و عرض میں پھیل گئی اور لوگوں کی آمد و رفت کے سلسلے میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا ۔جس کی وجہ سے حضرت کے عبادات میں کچھ خلل پڑ گیا "تذکرۃ العارفین" میں سید علی فرماتے ہیں جس کا اردو ترجمہ یوں ہے ۔یعنی پہلے شہر میں قیام فرمایا اور ابتدائی ایام وہیں گزارے۔ لیکن چونکہ خاص و عام لوگوں کی بے انتہا کثرت آپ کے اوقات میں مخل ہو رہی تھی اس لیے گوشہ نشینی فراغت حاصل کرنے کے لیے اختیار فرمائی۔ 


                               مولانا عبدالقادری فرماتے ہیں یعنی اولا شہر میں قیام فرمایا اور کچھ مدت کے بعد اس بنا پر کہ مردان حق کی انفاس مبارک مشک ادفر کی بو کی مانند ہوا کرتی ہے ۔اور پھر جس قدر اسے پردہ کے نیچے رکھا جائے خوشبو زیادہ ہی پھیلتی ہے۔ پس اس قابل تعریف سیرت کے حامل کی خوشبو نے لوگوں کو معطر وہ متاثر کیا اور یوں لوگوں کی تعداد میں اتنا اضافہ ہوتا گیا کہ آپ کے لیے راہ چلنا دشوار گزار اور ناممکن ہوتا تھا ۔ظاہر پھر آپ کو بتایا گیا کہ شہر چھوڑ کر کسی گاؤں میں گوشہ نشینی اختیار کی جائے تاکہ لوگوں کی بھیڑ میں کمی واقع ہو۔ تاریکخ "شائق "میں بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے یعنی آپ کی درگاہ میں لوگوں کی کثرت ہوتی تھی جن میں خاص و عام سب شامل تھے اس حال سے حضرت سید کا دل تنگ ہوا کیونکہ انہیں عبادت کے لیے پورا وقت نہیں ملتا تھا۔ کیونکہ صبح و شام لوگ آپ کی صحبت سے فیضیاب ہونے کے لیے آتے تھے۔ لیکن جب لوگوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا تو آپ گوشہ نشینی اختیار کرنے کے لیے شہر کو چھوڑ کر جنگل کی طرف روانہ ہونے پر مجبور ہوئے ۔


دریائے جہلم کی سیر 


جناب سلطان زین العابدین کو اس بات کا علم ہوا کہ حضرت سید کسی گاؤں میں خلوت گزینی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ تو سلطان نے دریاے جہلم کی سیر کا انتظام فرمایا ۔اور پھر حضرت سید بڈ شاہ اور اپنے رفقا کے ساتھ کشتی میں بیٹھ کر دریائی جہلم سے ہوتے ہوئے جیل والوں کی سیر کو تشریف لے گئے ۔دریائےاور والر کی گرد نواہ کے مناظر روح کو تر و تازہ کرتے ہیں ۔جب آپ ولر پہنچے تو بادشاہ کی زبان سے ایک کہانی بیان ہوئی اور میر معظم کی خدمت میں عرض کی کہ یہ بڑی خطرناک جگہ ہے اور جب جیل کا پانی طوفانی صورت اختیار کرتا ہے تو بہت سے لوگ کناروں کی دوری کی وجہ سے مر جاتے ہیں اور ساحل تک سلامت نہیں پہنچ پاتے میں چاہتا ہوں۔ کہ اس جھیل کے وسط میں ایک مکان تعمیر کروں لیکن بزرگوں کی دعا درکار ہے اور وہ اس لیے کہ زندہ دلوں کی دعائیں بادشاہوں کی کامیابی میں مددگار ثابت ہوتی ہیں ۔اب میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ یہ کام آسانی کے ساتھ انجام پائے حضرت سید جانباز ولی رحمت اللہ علیہ نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور بادشاہ اور باقی افراد آمین کرتے رہے حضرت سید سخی محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ چونکہ مستجاب دعوات  ہیں۔ اس لیے ان کی دعا بھی اللہ تعالی نے قبول فرمائی اور آپ کی دعا کی برکت سے جناب بڈ شاہ جو کہ اس وقت کشمیر کا بادشاہ تھا نے اس ولر کے بیچ میں ایک چھوٹئ عمارت تعمیر کی جس کا نام زین لنک رکھا گیا ہے اور آج بھی اسی نام سے جانے جاتی ہے 

                           جیل ولر کے بعد کشتی کا رخ بارہمولہ کی طرف ہوا ۔چونکہ سری نگر سے بارہمولہ کی طرف دریائی جہلم روا ہے۔ اس لیے کشتی دریائی جہلم کے ہوتے ہوئے سوپور کے مقام پر پہنچی اور اس کے بعد قصبہ بارہمولہ جو اس وقت بھی ایک شہر کی صورت میں تھا۔ میں ایک مقام پر دریا کے کنارے رک گئی جس جگہ کا نام جانباز پورہ ہے۔ 



جانباز پورہ میں قیام


  جس وقت حضرت سید موجودہ جامباز پورہ کے مقام پر پہنچے اس وقت وہاں کوئی بستی نہ تھی۔ وہ علاقہ  ایک وسیع چراگا ہ تھا اور بعد ازاں سید سخی محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ کے نام سے منسوب ہو کر اس جگہ کا نام جان باز پورہ پڑا اور آج بھی اس پوری بستی کا نام بھی جانباز پوراہ ہے۔______!!!!!      اور وہ جگہ آج بھی وہاں موجود ہے  جہاں پر سخی سید محمد جان باز ولی رحمت اللہ علیہ نے قیام کیا تھا۔شاہ نامہ کشمیر میں لکھا ہے "اس جگہ کو حضرت سید جانباز ولی رحمت اللہ علیہ نے خدائی ذوالجلال کی عبادت و ریاضت کے لیے پسند فرمایا" سلطان زین العابدین نے جانباز پورا کے وسیع چراگاہ اور آس پاس کےکچھ گاؤں حضرت سید کے لنگر خرچے کے لیے وقف کی ،جیسا کہ شاہ نامہ کشمیر میں درج ہے" یعنی سلطان زین العابدین نے آپ کے خادموں کی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے غرض سے کہیں گاؤں و قف کی اور گھوڑوں کی چراگاہوں کے لیے جانباز پورا کا گاؤں مقرر کیا اس جاگیر کو حضرت سید نے قبول فرمایا اور بادشاہ بہت خوش ہوا۔


                             اس جاگیر کی آمدانی تبلیغ دین کے کاموں پر خرچ ہوتی تھی۔ جس مقام پر حضرت سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ نے جان باز پورا میں تشریف رکھا۔ اور عبادت الہی کی وہ جگہ آج بھی وہاں پر مکرم جانی جاتی ہے اور  وہاں پر ایک زیارت شریف تعمیر ہوئی ہے اس جگہ کو آج بھی لوگ وہاں پر بہت احترام سے پیش آے ہیں۔اور فیض و برکت حاصل کرتے ہیں چونکہ جہاں پر اللہ تعالی کے ولی کامل کی عبادت کی جگہ پائی جاتی ہے وہ جگہ برکت کی جگہ ہوتی ہے اور اس جگہ سے عام لوگ برکت اور فیض حاصل کرتے ہیں چونکہ اس کا درس قران مجید میں بھی دیا ہوا ہے کہ اللہ تعالی کے مقرب اور مومن بندوں کی برکت سے عام لوگوں کے مشکلوں میں آسانی اور برکت وہ فیض جاری ہوتا ہے۔

(ذکر جانباز۔     1985-1982  )


4oct.2024. تحریر از;     شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمر. ا







Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)