حضرت سید محمد جان باز ولی رحمت اللہ علیہ کا وارد کشمیر ہونا __________!!!!!
Part-2
جناب حضرت امیر کبیر رحمت اللہ علیہ سے قبل یہاں حضرت سید عبدالرحمن ترکستانی رحمت اللہ تعالی علیہ (المعروف بلبل شاہ صاحب )نے دین اسلام کا بیج بویا 1295 عیسوی سے لے کر 1325 عیسوی تک راجہ سہیم دیو ولد سنگرام چندر کشمیر کا حکمران رہا۔ اس کا وزیر رام چند نامی ایک نہایت ہی ہوشیار آدمی تھا جس کے سائے عاطفت میں تبتی شہزادہ ریچن پرورش پاتے ہوئے صاحب اقتدار بن گیا ۔اسی زمانے میں شاہ میر نامی ایک درویش سوات سے واردکشمیر ہوا۔ اور وزیر رام چندر کی عیانت سے صاحب منصب بن گیا اسی زمانے میں لوہر چک بھی دردستان میں اپنے محفلوں سے شکست کھا کر کشمیر میں پناہ لینے آیا اور راجہ سہیم دیو کے دربار سے جاگیر پائی یہی وہ زمانہ تھا کہ چنگیز کے پڑ پوتے ذوالقدرخان نے کشمیر پر 1322 عیسوی میں 70 ہزار سواروں کے ساتھ حملہ کر کے قتل و غارت کا بازار گرم کیا اسی دور میں ہندو دھرم٫ بدھ مت جین مت کے پیروں نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے فتنہ و فساد برپا کر دیا راجہ سہیم دیو ایسے خطرناک حالات میں بھاگ کر کشتواڑ پہنچا اور رینچن بھی اسی کے ساتھ چلاــ . وزیر رام چند کنگن کے قلعے میں اپنے عیال کی حفاظت کرتا رہا جب ترکستانی فوج واپس چلی گئی تو رام چند نے حکومت سنبھا ل لی . یہ خبر ملتے ہی رینچن نے کشمیر پر حملہ کر کے رام چند کو قتل کیا .اس کی بیٹی کوئٹہ رانی کے ساتھ شادی کر لی اور اس کے بیٹے راون چند کو وزیر بنا لیا اور حکومت کرنے لگا.
لیکن ہندو، بودھوں مذہب، اور جینیوں کے جھگڑے سے بہت تنگ ہوا۔ اپنی بیوی اور سالے کے ساتھ مشورہ کر کے اس نے ایک رات یہی عہد کیا کہ جس مذہب کے پیرو کو صبح سویرے دیکھ لوں گا . اسی کا مذہب اختیار کروں گا چنانچہ علی صبح اس کی نظر ایک فقیر پر پڑی جو قبلہ مغرب کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے میں مشغول تھا۔ یہی بزرگ حضرت سید سلطان عبدالرحمن بلبل شاہ صاحب رحمت اللہ علیہ تھےــــ_______!!!! ۔جو اس زمانے میں تبلیغ دین کی غرض سے وارد کشمیر ہوے تھے۔ اور چند ایک افراد کو حلق بگوش اسلام فرمایا تھا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے ۔تو رینچن نے فورٲ ان کو محل میں طلب کیا۔ اور ان سے نماز کے بارے میں پوچھا ۔ یعنی ان سے نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا کہ آپ یہ کیا کر رہے تھے انہوں نے تعلیم اسلام کی پوری تفصیل کے ساتھ اس کے سامنے بیان فرمایا۔ راجہ اسی وقت اپنے کنبے کی سات ان کے دست حق پر حلقہ بگوش اسلام ہوا۔ جناب بلبل شاہ صاحب نے اس کا نام صدردین اور راون چند کا نام شمس الدین رکھا ۔سلطان صدردین نے 1325 عیسوی سے لے کر 1327 عیسوی تک کشمیر پر حکومت کی ۔جب سلطان اس دارالفانی سے چل بسا ۔تو شاہ میر جس کا ذکر پہلے آیا ہے کی اولاد برسر اقتدار آئی سید بلبل شاہ صاحب کی تبلیغ زیادہ تر حکمران طبقہ تک ہی محدود رہی لیکن عوامی سطح پر جس برگزیدہ ہستی کو دین اسلام کی تبلیغ نشر و اشاعت صالح نظام کا قیام عمل میں لانے کا شرف اور صحرا حاصل ہے۔ وہ حضرت امیر کبیر رحمت اللہ تعالی علیہ ______!!!! کی بابرکت اور مقدس ذات ہے۔
حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی رحمت اللہ علیہ تین بار کشمیر تشریف لایے ۔پہلی بار آپ 774 ہجری میں تشریف لاے۔ دوسری دفعہ آپ 781 ہجری میں یہاں تشریف لائے تیسری دفعہ آپ 785 ہجری میں وارد کشمیر ہوئے۔یہ سلطان قطب الدین فرزند شہاب الدین شاہ میری کا عہد حکومت تھا۔ اکثر سادات جن کے مدفن آج کل کشمیر میں پائے جاتے ہیں, امیر کبیر رحمت اللہ علیہ کے ہمراہ یا ان کے بعد وارد کشمیر ہوئے ہیں۔ حضرت امیر کبیر رحمت اللہ علیہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے میر محمد حمدانی رحمت اللہ علیہ نےاپنے باپ کا مشن چلانے کے لیے 22 سال کی عمر میں سلطان سکندر کے حکومت میں وارد کشمیر ہوئے، سلطان سکندر سلطان قطب الدین کے فرزند تھے ۔
حضرت میر محمد ہمدانی رحمت اللہ تعالی علیہ نے 22 سال کشمیر میں قیام فرمایا ۔ ان کے ہمراہ 300 رفقا تھے سلطان سکندر کی وفات کے بعد ان کا فرزند ارجمند سلطان زین العابدین المعروف بڈشاہ 826 ہجری میں کشمیر کے تخت پر بیٹھا ۔سلطان کے تخت نشین ہونے کے ساتھ ہی حضرت سید محمد جانباز ولی رفاعی رحمت اللہ علیہ وارد کشمیر ہوئے ہیں سنہ 827 ہجری میں حضرت سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ علیہ شپیان کے راستے سری نگر پہنچے۔ مولانا عبداللہ قادری لکھتے ہیں جس کا اردو ترجمہ یوں ہے یعنی سید محمد جان باز ولی رحمت اللہ علیہ سلطان زین العابدین جو بڈشا کے نام سے مشہور تھے ۔جو عظیم الشان اور انصاف پسند بادشاہوں میں شمار ہوتے تھے جو اہل ولایت کے خاص الخاص جماعت سے تعلق رکھتے تھے کہ دور حکومت میں سید محمد جانباز ولی رح کشمیر تشریف لائے اور یوں اپنے قدم مبارک سے خط کشمیر کو شرف بخشا اصہفان سے کشمیر آتےہوئے حضرت سید نے ملتان میں حضرت شیخ بہاو الدین زکریا ملتانی رح اور اپنے مرشد کامل سید جلال الدین بخاری رحمت اللہ تعالی علیہ کے مزارات پرانوار پر حاضری دی جب آپ وارد کشمیر ہوئے تو آپ کے ساتھ بہت سے اولیاء بھی تھے ۔شاہ نامہ کشمیر میں بتایا گیا ہے یعنی جب آپ نے کشمیر کو اپنی تشریف آوری سے شرف بخشا اس وقت آپ کے ساتھ بزرگان دین اور اولیاء یہ کاملین کی ایک بہت بڑی جماعت تھی۔
شاہ نامہ کشمیر میں ایک اور جگہ درج ہے جس کا اردو ترجمہ یوں ہے "یعنی حضرت سید محمد جانباز ولی رحمت اللہ تعالی علیہ کے مریدوں میں سے صاحب کمال کی تعداد 120 تھے لیکن جن میں سے 20 راز حق کے واقفیت رکھتے تھے اور 20 محذوب تھے 20 غوث و قطب تھے اور 20 صاحب تمیز ا ابدال تھے اور 20 کا شمار عاشقوں میں ہوتا تھا اور باقی 20 جانباز تھے مولانا عبدالوہاب شائق نے یہ تعداد بحوالہ سید علی جو کہ حضرت سید کے ہم عصر تھے دی ہے بقول ان کے یعنی اس کی روایت ملا علی نے عارفوں کے تذکرے میں کی ہے ان اولیاء کے علاوہ حضرت سید کے ساتھ ان کے ظاہری علوم کے استاد حضرت سید محمد عربی رحمت اللہ علیہ بھی تھے جن کا روزہ زیارت شریف کے صحن میں ہے اور باقی بزرگان دین میں سے تقریبا 12 افراد زیارت شریف کے اندرونی حصے میں دفن ہے ان 12 افراد میں سے آٹھ کی قبر شریف تختہ پوش کے نیچے ہیں اور باقی چار افراد کی قبریں زیارت شریف کے بیرونی گردش میں ہیں .اور باقی بزرگان کے روزے خانپور اور آس پاس کے گاؤں میں ہیں جن کو عرف عام میں سید صاحب کہا جاتا ہے بارہ مولہ میں کہیں بزرگان کے مقبریں ہیں جن کے نام پر محلوں کے نام رکھے گئے ہیں جیسے بارہمولہ کے قدیم قصبے اولڈ ٹاؤن میں آج بھی موجود ہیں جیسے محلہ کریم صاحب محلہ جلال صاحب محلہ خواجہ صاحب وغیرہ وغیرہ۔
تحریر از; شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر 28 ستمبر4 202
حضرت سید جان باز ولی رحمت اللہ علیہ کا شجر نسب
حضرت سید جان باز ولی رحمت اللہ علہ کا سر نگر میں قیام
حضرت سید محمد جان باز ولی رحمت اللہ علیہ کا بارہمولہ میں قیام Part-4

