حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی اور علم و حدیث کے عظیم محافظ ہیں۔ ان کا اصل نام عبد الرحمن بن صخر الدوسی تھا، لیکن وہ اپنی کنیت "ابو ہریرہ" سے مشہور ہوئے۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گزرا، اور انہوں نے کثرت سے احادیث روایت کیں، یہاں تک کہ وہ صحابہ میں سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے صحابی مانے جاتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ کی زندگی کے چند اہم پہلو:
اسلام قبول کرنا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے تقریباً 7 ہجری میں اسلام قبول کیا جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ پہنچے۔
حدیث کے محافظ: آپ کا زیادہ تر وقت نبی کریم ﷺ کی صحبت میں گزرا، اور آپ نے رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو جمع کرنے اور یاد کرنے میں بڑی محنت کی۔ ان سے کثیر 5374 احادیث مروی ہیں، جو کہ کسی بھی صحابی سے سب سے زیادہ ہیں۔
تقویٰ اور عبادت: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی زندگی زہد و تقویٰ کی مثال تھی۔ وہ نہایت عبادت گزار اور دین کے احکام پر سختی سے عمل کرنے والے تھے۔
حضرت ابو ہریرہ کی کرامات:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کئی کرامات بھی منسوب ہیں جو ان کی ایمان داری اور اللہ پر یقین کو ظاہر کرتی ہیں۔ چند مشہور کرامات درج ذیل ہیں:
دعائے برکت: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک بار بھوک لگی، لیکن ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں1 دودھ کا ایک پیالہ دیا اور دعا کی کہ یہ پیالہ برکت والا ہو۔ حضرت ابو ہریرہ نے اس سے نہ صرف خود پیا، بلکہ کئی اور لوگوں کو بھی پلایا، اور پھر بھی دودھ ختم نہیں ہوا۔
علم کی دعا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے دعا کی درخواست کی کہ انہیں علم کا خزانہ عطا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی اور ان کے لیے علم میں برکت دی۔ اس کے بعد حضرت ابو ہریرہ کبھی کوئی بات نہیں بھولتے تھے۔
شیطان کا پکڑنا: ایک واقعہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ کے مال کی حفاظت پر مقرر کیا گیا تھا۔ رات کو ایک شخص چوری کرنے آیا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہنے اسے پکڑ لیا، لیکن اس نے معافی مانگی اور چھوڑ دیا۔ یہ واقعہ تین راتوں تک جاری رہا، اور تیسری رات اس شخص نے کہا کہ وہ شیطان ہے، اور پھر اس نے حضرت ابو ہریرہ کو کچھ دینی رہنمائی دی جو کہ نبی کریم ﷺ نے تصدیق فرمائی۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی زندگی، دین اسلام کی خدمت، اور ان کی کرامات، ان کے ایمان کی گہرائی اور اللہ کے ساتھ قریبی تعلق کو ظاہر کرتی ہیں۔
یمن کے قبیلہ روس سے ان کا خاندانی تعلق ہے۔ زمانہ جاہلیت میں ان کا نام عبد شمس" تھا مگر جب یہ سن ۷ ھ میں جنگ خیبر کے بعد دامن اسلام میں آگئے تو حضور اکرم ا نے ان کا نام عبداللہ یا عبدالرحمن رکھ دیا۔ ایک دن حضور عليه الصلوة والسلام نے ان کی آستین میں ایک بلی دیکھی تو آپ نے ان کو یا ابا هريرة١ے ہلی کے باپ کہہ کر پکارا۔ اسی دن سے ان کا لقب اس قدر مشہور ہو گیا کہ لوگ ان کا اصلی نام ہی بھول گئے یہ بہت ہی عبادت گزار انتہائی متقی اور پرہیزگارصحابی ہیں۔
حضرت ابو الدرداء ان کا بیان ہے کہ یہ روزانہ ایک ہزار رکعت نماز نفل
پڑھا کرتے تھے۔ آٹھ سو صحابہ اور تابعین آپ کے شاگرد ہیں۔ آپ نے پانچ ہزار تین سو چوہتر حدیثیں روایت کی ہیں جن میں سے چار سو چھیالیس بخاری شریف میں ہیں۔ من ۵۹ھ میں انہتر سال کی عمر پا کر مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ (اکمال ص ۳۲ و قسطلانی ج ا ص ۲۳ و غیره)
کرامت والی تھیلی
کرامت والی تھیلی : ان کو حضور اکرم ﷺ نے چند چھوہارے عطا فرمائے اور حکم دیا کہ " ان کو اپنی تھیلی میں رکھ لو اور جب جی چاہے تم اس میں سے ہاتھ ڈال کر نکال لو اور خود کھاؤ دوسروں کو کھلاؤ مگر خبردار اس تھیلی کو کبھی خالی کر
کے مت جھاڑتا۔ یہ چھوہارے کبھی ختم نہ ہوں گے "۔ سبحان اللہ ! یہ تھیلی ایسی بابرکت ہوگئی ک30 برس تک حضرت ابو هريره اس تھیلی میں سے چھوہارے نکال نکال کر کھاتے رہے اور لوگوں کو کھلاتے رہے بلکہ کئی من اس میں سے خیرات بھی کر چکے مگر چھوہارے ختم نہیں ہوئے
یہاں تک کہ حضرت عثمان غنی رضی الله کی شہادت کے دن ہنگاموں کی بھیڑ بھاڑ میں وہ تھیلی کمر سے کٹ کر کہیں گر پڑی جس کا عمر بھر حضرت ابو ہریرہ ان کو بے انتہا صدمہ اور رنج و ملال رہا۔ راستوں میں روتے ہوئے اور نہایت رقت انگیز اور
درد بھرت لجہ میں یہ شعر پڑھتے ہوئے گھومتے پھرتے تھے۔(کرامت صحابہ
للناس هم ولى في اليوم همان
فقد الجراب وقتل الشيخ عثمان
یعنی سب کو آج ایک ہی تو غم ہے مگر مجھے دو غم ہیں۔ ایک غم ہے تھیلی کے گم ہونے کا دوسرا غم حضرت امیر المومنین عثمان غنی رضی الله کی شہادت کا۔بحوالہ الکلام المبین
تحریر از; شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر تاریخ 20 ستمبر 2024
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مختصرحالات زندگی

