قصہ عزرائیل علیہم السلام کا بغور دیکھنا ایک شخص کو | The Story of Prophet Sulaiman (عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ) - My Islam | حضرت سلیمان علیہ السلام کا قصہ

Tajamul sir
0

 



قصہ عزرائیل علیہم السلام کا بغور دیکھنا ایک شخص کو 


               ایک سادہ انسان حضرت سلیمان علیہم السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کا چہرہ خوف سے زرد ہو رہا تھا ۔پس حضرت سلیمان علیہم السلام نے دریافت کیا کہ تم کیوں خوفزدہ ہو ؟اس نے عرض کیا کہ مجھے حضرت عزرائیل علیہم السلام نے غضب ناک نظر سے دیکھا اس وجہ سے مجھے بے حد تشویش ہے ۔ارشاد فرمایا کہ پھر تم کیا چاہتے ہو اس نے کہا مجھے یہاں سے ہندوستان پہنچا دیجیے ۔تاکہ میں دور بھاگ کر اس کی نظروں سے غائب ہو جاؤں گا۔ اور یہ دوبارہ مجھے اتنی خطرناک اور خوفناک نظر سے نہیں دیکھے گا۔حضرت سلیمان علیہم السلام نے ہوا کو حکم دیا کہ اس کو ہندوستان میں اس مقام پر پہنچا دو جہاں یہ جانا چاہتا ہے۔


                 دوسرے دن عزرائیل علیہم السلام سے حضرت سلیمان علیہم السلام نے بہ وقت ملاقات دریافت کیا۔ کہ آپ نے ایک مسلمان کو اس طرح غور سے کیوں دیکھا، جس سے وہ تشویش میں مبتلا ہے ۔کیا تمہارا ارادہ اس کی روح کو قبض کرنا تھا ۔اور بےچارہ کو اسی غریب الوطنی میں لاوارث کرنا تھا۔ انہوں نے عرض کیا میں نے اس کو تعجب سے دیکھا تھا ۔کیونکہ اس کی روح کے قبض کا حکم مجھے ہندوستان میں ملا تھا ۔یعنی مجھے اللہ تعالی سے حکم ملا تھا ۔کہ اس انسان کو آپ ہندوستان کے فلانے شہر میں روح قبض کرو چونکہ میں نے اس کو یہاں اتنا دور دیکھا۔ تو میں تعجب میں تھا ۔یہ کب  ہندوستان پہنچے گا، اور میں اس کا روح قبض کروں گا۔

کہ مرا فرمود حق کا مروز جاں

 جان اور     راتوبہندوستان 


                    "حق تعالی نے مجھے حکم فرمایا تھا۔ کہ آج اس کی جان تو ہندوستان میں قبض کر لے "


دید مش اینجا و بس حیرا ں شُدم 

در تفکر       رفته       سرگرداں      شُدم 


             اور میں نے اس کو یہاں دیکھا ۔تو بس حیران رہ گیا اور فکر میں سرغدہ ہو گیا۔ جب حکم الہی سے میں نے ہندوستان پہنچا ۔تو میں نے اس کو وہاں موجود پایا اور اس کی جان میں نے قبض کر لی ۔اے مخاطب تو اس جہاں کے تمام کارناموں کو اسی پر قیاس کر لے ۔اور آنکھیں کھول کر مشاہدہ کر لے ۔ہم کس سے بھاگ رہے ہیں ۔حق تعالی سے ارے یہ خیال محال ہے ہم کس سے سرکشی کر رہے ہیں۔ حق تعالی سے ارے یہ وبال ہی وبال ہے اس واقعہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ہر وقت اللہ تعالی سے معاملہ صاف رکھو یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کے تمام فرائض وہ واجبات ادا کر ہی کے چلیں۔


                   کیونکہ ایک انسان حضرت عزرائیل علیہ السلام کے پاس بے بس ہے۔ کوئی پتہ نہیں کہ عزرائیل علیہ السلام کو کب حکم ملے اور وہ آپ کو روح قبض کر لے۔اللہ تعالی کی نگاہ قدرت سے کوئی چھپا ہوا نہیں ہے یہ انسان چونکہ ایک شہر میں تھا ،لیکن اس کا روح قبض کرنے کا حکم دوسرے ملک میں تھا ۔اللہ تعالی نے کس طرح سے اس کا انتظام کیا اور اس کا روح وہاں ہی قبض ہوا۔ تو اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالی کا نظام الہی نظام وحدانیت جو کائنات میں کام کرتا ہے دنیا میں کام کرتا ہے ۔اس کے پاس انسان کا تکبر اور انسان کی سرکشی کا کوئی معنی نہیں ہے۔ وہ ایسا نظام وحدانیت ہے۔ جس کے سائے میں سب سربسجود ہے۔ اور وہ انسان سرکشی میں کب تک رہے گا ۔لیکن وہ اللہ تعالی کی وحدانیت اور نظام الہی سے چھپا ہوا نہیں ہے اس انسان کے سب کرتوت دیکھے جا رہے ہیں۔


____________________________________

تحریر از شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر28 ستمبر 2025

 (حکایت مثنوی شریف، معارف مثنوی مولانا جلال الدین رومی رحمت اللہ علیہ صفحہ نمر258)


------------------------------------------------------------------------------------------------------


👇::Also read below articles

               
 


Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)