حکایت گُفتگو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ با ابلیس
ایک دفعہ حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے گھر پر آرام فرما رہے تھے۔ کہ اچانک ایک شخص نے آپ کو بیدار کر دیا ۔جب آپ نے بیدار ہو کر دیکھا۔ تو وہ شخص پوشیدہ ہو گیا ۔آپ نے دل میں سوچا کہ میرے گھر کے اندر اس وقت تو کوئی نہیں آسکتا۔ ایسی جرات کس نے کی ہے۔ پھر آپ نے دیکھا ،کہ ایک شخص دروازہ کی آڑ میں اپنا منہ چھپائے ہوئے کھڑا ہے ۔آپ نے دریافت کیا تو کون ہے ؟
جواب دیا میرا فاش نام ابلیس شقی ہے۔ آپ نے فرمایا اے ابلیس تو نے مجھے کیوں بیدار کر دیا ،سچ سچ بتا اس نے کہا، نماز کا وقت ختم ہونے کے قریب ہے۔آپ کو مسجد کی طرف جلد دوڑنا چاہیے۔ آپ نے فرمایا ہرگز یہ غرض تیری نہیں ہو سکتی ؟کہ تو خیر کی طرف کبھی رہنمائی کرے ۔میرے گھر میں تو چور کی طرح گُھس آیا اور کہتا ہے۔ کہ میں پاسبانی کرتا ہوں ۔اور خاص کر تجھ جیسا چور کے رہزن بھی ہے ۔کس مقصد سے مجھ پر تجھے اس قدر شفقت ہے۔ ابلیس نے جواب دیا ،
گُفت ما اول فرشتہ بودہ ایم
راہ طاعت را بجاں پمیودہ ایم
"ابلیس نے کہا ہم پہلے فرشتہ تھے۔ اور اطاعت کے راستے کو اپنی جان سے طےکیا ہے۔ "
گر تیرا بیدار کردم بہر دیں
خوئے اصل من ہمیں است وہمیں
اگر آپ کو دین کے لیے میں نے بیدار کر دیا تو یہی ہماری اصل فطرت کا مقتدہ ہے ۔
گُفت امیر سے راہزن حجت مگو
مرترا رہ نیست درمن رہ مجو
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ۔اے رہزن ڈاکو مجھ سے بحث مت کر تجھ کو میرے اندر گمراہ کرنے کا راستہ نہ مل سکے گا۔ میرے اندر راستہ مت ڈھونڈ ،سچ سچ بتا کہ تو نے مجھے نماز کے لیے کیوں بیدار کیا۔ تیرا کام تو گمراہ کرنا ہے ۔اس خیر کی دعوت میں کیا راز ہے،جلد بتا۔ ابلیس نے کہا حضور بات یہ ہے کہ اگر آپ کی نماز فوت ہو جاتی تو آپ اللہ تعالی کی جناب میں آہ وہ فگاں کرتے جس سے آپ کا درجہ بہت بلند ہو جاتا، اور میں حسد سے جل کر خاک ہوتا ہوں۔ اس لیے میں نے سوچا کہ آپ کو بیدار کر دوں تاکہ آپ نماز ادا کر لیں۔ اور آپ کا وہ افسوس اور رونا اور ندامت و نیاز مندی اور شکستگی آپ کو 200 رکعت نوافل سے زیادہ مقرب بنا دیتی۔ اس لیے مجھے آپ کے قرب اعلی کے خوف اور حسد نے آپ کو بیدار کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ میں انسان کا حاسد ہوں میں نے اسی حسد سے ایسا کیا ہے۔ اور میں انسان کا دشمن ہوں میرا کام حسد اور کینہ ہے۔
من حسودم از حسد گردم چنیں
من من ودوم وکارمن مکر است وہیں
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اب تو نے سچ بات کہی ،اور حسد و دشمنی جو کچھ تو نے کی ہے تو تو اسی کے لائق ہے۔ اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ کوتاہی اور خطاؤں پر ندامت اور گری وزاری سے شیطان کو کتنا غم ہوتا ہے۔ اور حق تعالی کی رحمت کس قدر ایسے بندہ پر متوجہ ہوتی ہے حق تعالی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ندامت کے ساتھ حق تعالی کے حضور میں گری و زاری کیا کریں۔
تحریر از شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر26ستمبر 2025
(حکایت مثنوی شریف، معارف مثنوی مولانا جلال الدین رومی رحمت اللہ علیہ صفحہ نمر232)

