use of internet انٹرنیٹ کا بے جا استعمال رحمت یا زحمت

Tajamul sir
0


                                                                                                                                                                                          انٹرنیٹ کا بے جا استعمال رحمت یا زحمت؟                


انٹرنیٹ ایک عالمی کمپیوٹر نیٹ ورک ہے جو دنیا بھر کے کمپیوٹرز، موبائل ڈیوائسز، اور دیگر آلات کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ اس کی مدد سے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ، بات چیت، اور مختلف خدمات کا استعمال کر سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ نے دنیا کو

ایک "عالمی گاؤں" میں تبدیل کر دیا ہے جہاں فاصلے اور وقت کی حدود کم ہو گئی ہیں۔


بلا شبہ موجودہ دور میں انٹرنیٹ مختلف معلومات کے لیے ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، انسان مختصر وقت کے اندر جہاں دینی علمی،  اقتصادی اور سیاسی معلومات تک رسائی حاصل کرتا ہے وہیں حالات حاضرہ سے بھی واقفیت حاصل کرتا ہے۔ اس کے توسط سے دینی اور عصری اداروں میں دفتری کاموں کے اندر سہولت اور آپس میں معلومات کے تبادلے سے متعلق بھی کافی آسانیاں پیدا ہو چکی ہیں گویا انٹر نیٹ مختلف میدانوں کے اندر انسان کے لیے بے شمار سہولتیں فراہم کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میں بے شمار لوگ ، جن میں چھوٹے بڑے، مرد و عورت ، مال دار و غریب، پر ہیز گار اور آزاد خیال ہر قسم کے لوگ کسی نہ کسی حد تک اس سے منسلک ہیں۔ البتہ ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر فریفتہ ہونے والے اکثر لوگ اس کے نقصانات اور اس کے منفی گوشوں پر سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ آہستہ آہستہ مختلف دینی، دنیاوی، جسمانی اور نفسیاتی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

 انٹرنیٹ کا پہلا نقصان یہ ہے کہ وہ بے حیائی و عریانیت پھیلا نے فسق و فجور کے مناظر پیش کرنے کا سب سے بنیادی اور سستا    ذریعہ بنا ہوا ہے، اس کے ذریعہ اخلاقی و دینی تباہی ، نوجوان مرد و خواتین کی بے راہ روی و گم راہی ، شر وفساد کی وادیوں میں ان کی ہلاکت اور اسلامی اقدار و پاکیزہ روایات سے ان کی لاتعلقی عام ہوتی جارہی ہے۔ کئی سارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس انٹرنیٹ کے توسط سے مختلف جعلسازوں اور شیطان صفت افراد کے جھانسوں میں آکر اپنے لئے بدنامی ، ذلالت اور رسوائی کے وہ سامان پیدا کر چکے ہیں کہ جن سے انہیں نہ صرف دنیا میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ آخرت کے لئے بھی وہ خسارے کا شکار ہو رہے ہیں ۔ انٹرنیٹ سے منسلک اکثر لوگوں کے قیمتی اوقات اس کے  غیر ضروری استعمال کی وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں، و پھنٹوں تک بے حس و حرکت ہو کر اس کی اسکرین پر نظریں جما کر بیٹھتے ہیں اور غیر ضروری و نقصان دہ امور کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں، جس سے ان کی بینائی بھی متاثر ہو رہی اور ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ طلباء اور طالبات بھی انٹرنیٹ کے کثرت استعمال سے تعلیمی میدان میں کافی پیچھے رہ جاتے ہیں۔کتابوں سے  پڑھنے اور مطالعہ کرنے سے ان کا تعلق کمزور پڑ گیا ہے، اسکے استعمال نے اولاد و والدین، میاں بیوی اور دیگر قریبی رشتہ داروں کے درمیان دوریاں پیدا ہو رہی ہیں ، ان کے آپس کے حقوق متاثر ہو کر برائیاں جنم لے رہی ہیں یہاں تک کہ رشتے بکھر جانے کے بعد رشتے ٹوٹنے تک بھی بات پہنچ جاتی ہے۔ بغور جائزہ لیا جائے تو بھی و خاندانی جھگڑے ، قریبی رشتہ داروں اور میاں بیوی کے


درمیان تلخیاں اور دوریاں پیدا ہونے کی ایک اہم وجہ انٹرنیٹ کا غلط استعمال بھی دکھائی دے رہا ہے۔

   انٹرنیٹ کے ذریعے دینی و دنیوی موضوعات سے متعلق بڑے پیمانے پرغلط معلومات کی اشاعت کا کام وفاء بھی کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں

کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرانے ، ان کے عقائد کو بگاڑنے اور اپنے باطل  عقائد ونظریات کو پھیلانے کی کوششیں ہوتی رہتی ہیں۔ خود مسلمانوں میں سے بعض کم علم یا باطل افکر کے حامل لوگ تغیر و حدیث وفقہ اور دیگر دینی و اور دیگر علوم سے متعلق ایسی غلط معلومات انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلاتے ہیں جنھیں درست سمجھ کر ایک عام مسلمان دینی موضوعات سے متعلق غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لئے والدین اور سر پرستوں کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد اور بچوں کو انٹرنیٹ کے نقصانات اور منفی گوشوں سے اچھی طرح آگاہ کریں اور انہیں حتی الوسع انٹرنیٹ سے دور رہنے اور اس کے نقصانات سے بچنے کی تلقین کریں اور ان کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کریں، ان کو اس طرح آزاد ہرگز نہ چھوڑیں کہ وہ جو چاہیں کریں، تاکہ وہ شر و فساد کی خطرناک اور

بلاکت خیز پہلوؤں سے محفوظ رہیں ۔ ہر مسلمان کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان تمام حقوق کا

خیال رکھے اور اپنا نظام الاوقات اس طرح بنائے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سب کے سیب اپنے اپنے اوقات میں ادا ہوتے رہیں اور انٹرنیٹ کے بے جا استعمال سے اسے


قیمتی وقت ضائع

انٹرنیٹ کی خصوصیات:

معلومات تک رسائی: انٹرنیٹ پر دنیا بھر کی معلومات دستیاب ہیں، چاہے وہ تعلیمی مواد ہو، خبروں کا مواد، یا کسی خاص موضوع پر تحقیق ہو۔ گوگل، ویکیپیڈیا، اور دیگر سرچ انجن اس معلومات تک آسانی سے رسائی فراہم کرتے ہیں۔

رابطے کی آسانی: انٹرنیٹ کے ذریعے لوگ ای میل، ویڈیو کالز، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، واٹس ایپ، اور انسٹاگرام کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک رہتے ہیں

تفریحی مواد: انٹرنیٹ پر تفریح کے بے شمار مواقع موجود ہیں جیسے یوٹیوب ویڈیوز، آن لائن گیمز، موسیقی، فلمیں، اور سیریز وغیرہ۔

آن لائن خریداری اور کاروبار: انٹرنیٹ نے ای کامرس کو فروغ دیا ہے، جہاں لوگ گھر بیٹھے آن لائن خریداری کر سکتے ہیں اور کاروبار بھی

چلا سکتے ہیں۔ 

تعلیم: انٹرنیٹ کی مدد سے آن لائن تعلیم کا انقلاب آیا ہے۔ طلبہ مختلف آن لائن کورسز، ویبینارز، اور لیکچرز کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

آن لائن بینکنگ: انٹرنیٹ بینکنگ نے مالیاتی لین دین کو آسان بنا دیا ہے۔ اب لوگ گھر بیٹھے اپنے بلز ادا کر سکتے ہیں، پیسے بھیج سکتے ہیں، اور اکاؤنٹس کو مینیج کر سکتے ہیں۔

انٹرنیٹ کے فائدے:

علم اور معلومات کا ذریعہ: انٹرنیٹ لوگوں کو علم اور معلومات تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے۔

وقت کی بچت: آن لائن کام کرنے سے وقت کی بچت ہوتی ہے، جیسے آن لائن خریداری، بینکنگ، اور بلوں کی ادائیگی۔

رابطے میں آسانی: دنیا کے کسی بھی کونے سے لوگ ایک دوسرے سے رابطہ کر سکتے ہیں، چاہے وہ کاروباری مقاصد ہوں یا ذاتی۔

تعلیم اور مہارت میں اضافہ: آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگ مختلف ہنر سیکھ سکتے ہیں اور تعلیمی مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔


انٹرنیٹ کے نقصانات:

پرائیویسی اور سیکیورٹی کا مسئلہ: انٹرنیٹ پر ذاتی معلومات کے لیک ہونے یا ہیکنگ کے خطرات موجود ہیں، جس سے پرائیویسی متاثر ہو سکتی ہے۔

غلط معلومات کا پھیلاؤ: انٹرنیٹ پر غلط اور گمراہ کن معلومات بھی پھیلائی جاتی ہیں، جس سے لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔

وقت کا ضیاع: بہت سے لوگ انٹرنیٹ پر غیر ضروری وقت گزارتے ہیں، جیسے سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنا یا آن لائن گیمز میں مصروف رہنا۔

انٹرنیٹ کی لت: انٹرنیٹ کی زیادہ استعمال کی وجہ سے لوگوں میں لت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے ان کی روزمرہ زندگی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

نتیجہ:

انٹرنیٹ جدید دور کا ایک اہم ذریعہ ہے جو زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہا ہے۔ اگرچہ اس کے بے شمار فائدے ہیں، لیکن اسے مناسب اور محتاط طریقے سے استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ نقصانات سے بچا جا سکے۔


Tags

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)