حکایت ایک شخص کا اپنے ہاتھ پر شیر بنوانا
زمانہ جاہلیت میں کسی علاقے کے لوگ اپنے ہاتھوں پر شیر یا چیتے کی تصویر بنایا کرتے تھے ۔ ایک شخص نے اسی طرح تصویر بنانے والے سے کہا کہ میرے ہاتھ پر شیر بنا دے اس نے جب سوئی آگ میں گرم کر کے اس کے ہاتھ پر رکھی تو تکلیف سے اس کی چیخ نکل آئی۔ اور کہا ارے کیا بناتا ہے ،اس نے کہا شیر کی دُم بناتا ہوں۔ کہا ارے بغیر دم کے بھی تو شیر بن سکتا ہے۔ مجھے بہت درد ہو رہا ہے ،اس مصُوّر نے دوبارہ سوئی آگ میں گرم کی اور اس کی کھال پر رکھی۔ وہ پھر چلایا اور کہا ارے کیا بناتا ہے، مصُّور نے کہا اب شیر کا کان بناتا ہوں ۔چونکہ آپ نے بولا کہ دُم مت بناؤ۔ اب میں شیر کا کان بناؤں گا اور شیر بناؤں گا دُم کے بغیر۔ کہا اے ظالم بغیر کان کے بھی تو شیر ہو سکتا ہے۔ مُصّور نے پھر سوئی گرم کی اور اس کی خال پر رکھی یہ پھر چیخا کہ اب کیا بنا تھا۔ اس نے کہا اب شیر کا شکم، شیر کا پیٹ بناتا ہوں۔ اس نے کہا رہنے بھی دے بغیر شکم ، پیٹ کے شیر بنا دے ۔
اسی طرح جب سر بنانے سے بھی اس نے انکار کیا۔ تو مُصّور نے غصے سے سوئی پھینک دی۔ اور کہا دور ہو جا دفع ہو جا یہاں میرے اس دکان سے،
شیر بے دُم و سر و اشکم کہ دید
انیچنیں شیر ےخدا ہم نا فرید
" ارے ناداں بے دم و بے سر و بے شکم کا شیر کس نے دیکھا۔ اس طرح کا شیر تو خدا نے پیدا ہی نہیں کیا۔
چوں نداری طاقت سوزن زدن
از چنیں شیر ژیاں پس دم مزن
"اے شخص جب تو سوئی کی تکلیف کا برداشت نہیں کر سکتا ۔تو آپ اپنے ہاتھ پر شیر بنانے کی بات پھر مت کر
اب یہاں پر مولانا جلال الدین رومی نصیحت فرماتے ہیں
اے برادر صبر کن بردر دنیش
تا رہی از نیش نفس گبر کیش
اے بھائی اُستاد یا مرشد کی تربیت میں سختیوں کو جیل، تاکہ نفس کے تقاضے کفر و فسق سے نجات پا جائے ۔
گرہمی خواہی کہ بفر وزی چو روز
ہستے ہچوں شب خود را بسوز
یعنی اے انسان اگر تو مثل دن کے روشن ہونا چاہتا ہے۔ اپنے آپ کو چمکانا چاہتا ہے ۔تو اپنی ہستی کو مثل رات کے فنا کر دے۔ یعنی جس طرح رات کے فنا ہونے سے دن روشن ہوتا ہے ،اسی طرح تو اگر نفس کے برے تقاضوں کی اصلاح کسی مرشد کامل سے کرائے گا۔ تو گویا اس کی ظُلمت و تاریکی فنا ہو جائے گی اور تیری حیات تعلق اللہ کے نور سے روشن ہو جائے گا اور تو دنیا میں لوگوں میں چمکے گا ۔
کا گروہے کہ ناہید ندا ز وجود
چرخ و محر وماہ شاں آرد سجود
مثل اولیاء کرام کی اپنی ہستی کی قید سے خلاصی حاصل کر لے۔ کیونکہ اس مجاہدہ کے بعد ایسی تجلیات قرب ان کے باطن کو عطا ہوتی ہے ۔انوار شمس وقمر و افلاک ان کے نور باطن کے غلام بن جاتے ہیں ۔
فایدہ۔ اس حکایت سے مولانا جلال الدین رومی عام لوگوں کو نصیحت فرماتے ہیں ۔کہ اگر آپ کو اپنی زندگی میں کچھ بننا ہے۔ اپنے آپ کو زندگی میں کچھ حاصل کرنا ہے۔ تو آپ کو مشکل راستے ،سختیاں لازًما برداشت کرنے پڑیں گے۔ کیونکہ سختیوں کو برداشت کرنے کے بغیر آپ کوئی اچھا مقام حاصل نہیں کر سکتے ہو۔ جس طرح سے مولانا جلال نے رومی صاحب نے اس واقعہ میں فرمایا ہے۔ کہ اس شخص کے ہاتھ پہ شیر بنانے کے لیے اس کو مصُّور کے پاس جانا پڑا لیکن شیر تب ہی ہاتھ پہ بن سکتا تھا۔ جب یہ زخم سوئی کو برداشت کر کے اس مصور کو شیر بنانے دیتا ،اور اپنے آپ میں صبر قائم کرتا۔ اسی طرح سے ہمارے لیے بھی یہ نصیحت ہے۔ کہ اگر ہم کو بھی کسی مقام پہ پہنچنا ہے۔ کوئی مقام حاصل کرنا ہے، تو ہمیں سختیوں کو برداشت کرنے کا عادت اپنے آپ میں بنانا پڑے گا۔ اور اپنے جسم کو اس صورتحال میں صبر کرنے کے لیے تیار کرنا پڑے۔
تحریر از شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر24ستمبر 2025
(حکایت مثنوی شریف، معارف مثنوی مولانا جلال الدین رومی رحمت اللہ علیہ صفحہ نمبر356)
---------------------------00000000000000000000----------------00000000000000---------------------
👇::Also read below articles

