حضرت عبداللہ بن مبارک کی زندگی مبارک کا ایک واقعہ _____!!!!!
ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ حج فرمانے کے بعد بیت اللہ شریف میں سو گئے۔ اور خواب دیکھا ،کہ دو فرشتے باہم باتیں کر رہے ہیں ۔اور ایک نے دوسرے سے سوال کیا ؟کہ اس سال کتنے لوگ حج میں شریک ہوئے اور کتنے افراد کا حج قبول ہوا۔ دوسرے نے جواب دیا کہ چھ لاکھ آدمیوں نے حج ادا کیا۔ لیکن ایک فرد کا بھی حج قبول نہیں ہوا ،مگر دمشق کا ایک موچی جو حج میں شریک تو نہیں ہوا۔ لیکن خدا نے اس کا حج قبول فرما کر اس کے طفیل میں سب کا حج قبول کر لیا ہے۔ یہ خواب دیکھ کر بیداری کے بعد حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ بے چین ہوئے ،اور اِرادہ کیا کہ میں اس موچی کو ضرور ملوں گا اور اس کے ساتھ ضرور ملاقات کروں گا ۔اور دمشق کا سفر کیا ،اور دمشق پہنچے اور ملاقات کے بعد جب اس کا نام وہ نسب دریافت کر کے حج کا واقع دریافت کیا۔ تو اس نے اپنا نام پیشہ بیان کرنے کے بعد جب آپ کا نام پوچھا تو آپ نے بتا دیا کہ میں عبداللہ بن مبارک ہوں یہ سنتے ہی وہ چیخ مار کر بے ہوش ہو گیا۔
ہوش میں آنے کے بعد اس طرح اپنا واقعہ بیان کیا ۔کہ بہت عرصے سے میرے قلب میں حج کی تمنا تھی۔ اور میں نے اس نیت سے 300 درہم بھی جمع کر لیے تھے۔ لیکن ایک دن میرے پڈوسی کے یہاں سے کھانا پکنے کی خوشبو آئی۔ تو میری بیوی نے کہا کہ اس کے یہاں سے تم بھی مانگ لاؤ تاکہ ہم بھی کھائیں۔چنانچہ میں نے اس سے جا کر کہا کہ آج آپ نے جو کچھ پکایا ہے۔ ہمیں بھی عنایت کریں ۔لیکن اس نے کہا کہ وہ کھانا آپ کے کھانے کا نہیں ہے۔ کیونکہ سات یوم سے میں اور میرے اہل و عیال فاقہ کشی میں مبتلا تھے۔ تو میں نے مردہ گدھے کا گوشت پکا لیا ہے۔ یہ سُن کر میں خوف خداوندی سے لرز گیا ۔اور اپنی تمام جمع شدہ رقم جو میں نے حج کرنے کے لیے جمع کی تھی ،اس کے حوالے کر کے یہ تصور کر لیا ،کہ ایک مسلمان کی امداد میرے حج کے برابر ہے ۔
حضرت عبداللہ بن مبارک رحمت اللہ علیہ نے یہ واقعہ سن کر فرمایا۔ کہ فرشتون نے خواب میں واقعی سچی بات کہی تھی۔ اور اللہ در حقیقت قضا و قدرت کا مالک ہے۔تو اس سے ہمیں سبق لینا چاہیے کہ اللہ تعالی کے نزدیک خدمت خلق کا کتنا رتبہ ہے۔ کہ ایک بندہ اتنا دور رہنے کے باوجود حج میں شریک نہیں ہو سکا۔ لیکن اس نے جو ایک خدمت خلق کا کام کیا ،جو اللہ تعالی کو قبول فرمایا،اور اتنے بڑے عالم بزرگ عبد اللہ ابن مبارک کو خواب میں یہ پورا معاملہ دکھایا گیا ۔کہ اللہ تعالی کے نیک بندے نے کیا کام کیا ہے۔ جس کام کی وجہ سے اتنے سارے لوگوں کا حج اللہ تعالی نے قبول فرمایا۔
قصص الاولیا صفحہ نمبر 87
تذکرۃ الاولیا
تحریر از شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر23ستمبر 2025

