زیارت شریف ہیون حضرت سید مومن وہ شاہ رسول صاحباں/ baramulla kashmirziyrat shareef heewan /hazrat syed momin wa shah rasool sahib heewan

Tajamul sir
0



تعمیر نو زیارت


                   قدیم زیارت شریف ہیون; زیارت شریف ہیون جو کہ ایک قدیم ترین زیارت شریف ہے۔ اس زیارت شریف سے متعلق جب ہم نے اپنے پرانے بزرگوں سے اس کے بارے میں پوچھا! تو وہ کہا کرتے تھے۔ کہ یہ زیارت شریف علاقے  نارواؤ بارہ مولہ کی قدیم ترین زیارت ہے ۔جیسا کہ ہم سب باخبر ہے کہ جس جس اللہ تعالی کے ولی نے بارہمولہ میں تشریف فرمایا ہے۔ یا جو بھی زیارت بارہمولہ قصبہ یا اس کے آس پاس کے علاقوں میں ہیں۔ ان سب کی کسی نہ کسی طرح سے حضرت شاہ ہمدان رحمت اللہ علیہ سے وابستہ نکل آتا ہے ۔یعنی جو بھی صوفی بزرگ بارہمولہ میں موجود ہے۔ ان میں سے کثیر تعداد شاہ ہمدان رح سے منسلک ہے۔ یعنی ان کے آنے کے ساتھ ہی ان سب نے اس وادی کشمیر میں تشریف لایا ہے ۔مگر چونکہ علاقے نارواو میں بہت سارے بزرگان دین کے زیارات موجود ہے۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے، کے ان سب اولیاء کاملین کے قیام سے پہلے ہیون گاؤں میں اس اللہ تعالی کے بزرگ نے تشریف  فرمایا ہے.


                ان کا نام حضرت سید مومن رحمت اللہ علیہ اور حضرت سید شاہ رسول صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ ہیں۔اصل میں یہ دونوں بھائی ہیں یعنی حضرت سید مومن صاحب اور حضرت سید شاہ رسول صاحب دونوں آپس میں بھائی ہے۔ ان دونوں کی قبر اندر ایک ساتھ موجود ہے۔ یعنی اس زیارت شریف کے اندر دو قبریں ہیں۔ یہ دونوں ساتھ ساتھ ہیں ۔اور اس زیارت شریف کے جنوب کے سمت اور بھی قبریں ہیں۔ جو ان کے اہل و عیال کے قبریں ہیں۔ اس کے علاوہ اس زیارت شریف کے مشرق کی جانب بھی کچھ پرانے بزرگوں کی قبریں موجود ہیں۔ اور شمال کے جانب بھی ان بڑے درختوں کے نیچے کچھ قبریں موجود ہیں۔ اس سے یہ پتہ چلا کہ یہ زیارت شریف ہی ون گاؤں میں اصل میں آج سے پہلے تقریبا ساڑھے سات سو سال ایک منظم مرکز رہا ہے۔ جس مرکز میں بہت سارے مکرم بزرگان دین اُس وقت موجود رہے ہیں ۔اسی لیے اس زیارت شریف کے ارد گرد یعنی اندر کی جو دو قبروں کے علاوہ جو باہر کی قبریں ہیں وہ سب جلیل و قدر بزرگوں کی ہے۔ اور ان کے اہل و عیال کی ہے۔ تو اس سے یہ بات واضع ہوتی ہے۔ کہ ہیون گاؤں میں یہ زیارت شریف ایک قدیم ترین مرکز رہا ہے۔ جہاں پر یہ سب اُس وقت ایک ساتھ جمع ہو کر بہت وقت گزارتے تھے ۔اور اسی جگہ پر طعام و قیام بھی کیا کرتے تھے۔


                 میں نے از خود جب بلوغت کی عمر میں قدم رکھا تقریبا میری عمر اُس وقت آٹھ یا 10 سال کی تھی ،جب میں اس زیارت شریف کے ارد گرد جایا کرتا تھا۔ اور اس زیارت شریف کے پاس میں بھی کبھی کبھی جایا کرتا تھا۔ یہ تقریبا 1990 کی بات ہے۔ کہ جب میں اس زیارت شریف کے پاس جاتا تھا اس وقت اس زیارت شریف کے اندر اتنے درخت موجود تھے۔ کہ اندر پوری نظر نہیں پڑتی تھی ، نہ اس طرح سے انسان اس زیارت شریف کے ارد گرد گھوم سکتا تھا۔ اتنا ہی نہیں اُس وقت  اس زیارت شریف کے گیٹ کے پاس میں ایک  ڈیڑھ بنی ہوئی تھی ۔ایک بہت بڑا حال جیسا تھا جس کے اوپر چھت لگا تھا۔ اور اس کے اندر گھاس رکھا گیا تھا ۔فرش کے بدلے،اور ہم اُس وقت معلوم کرتے تھے کہ یہ کیا ہے اُس وقت کے لوگ اس کمرے میں آکر ختم شریف وغیرہ پڈھا کرتے تھے۔ اور بیٹھا بھی کرتے تھے ۔چونکہ میری عمر اس وقت تقریبا 16 سال کی تھی یعنی میں دسویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ جب میں نے اُس وقت کےبزرگ جو اس زیارت شریف کے پاس آتے تھے۔ ان کو کہا کہ اس زیارت شریف کا دیکھ بھال کرنا ہم پہ لازم ہے۔ اور خود اس کام میں بچپن میں ہی لگا اور خود میں نے دو ہزار عیسوی میں اس زیارت شریف کے پاس ایک دوسری ڈیٹ جو تعمیر نو ہوئی تھی اس میں ایک درس گاہ بھی قائم کیا تھا۔ جو درس گاہ  تقریبا آٹھ سال تک اسلام کی خدمت کرتا رہا۔ اور بعد میں اس درس گاہ کو ہم نے مشرق کی جانب جو تھوڑی بہت زمین خا لی تھی ،وہاں پر تعمیر کیا ہے۔ اور آج اس کا نام مکتبہ تعلیم قران ھیون ہے۔ جو آج تک بچوں کو تعلیم دین سے آراستہ کرتا آ رہا ہے۔

eidgah near ziyrat shareef

                چونکہ عوام ان چیزوں سے بے خبر رہتی ہے۔ اور معلومات میں کمی ہونے کی وجہ سے اس برکت سے باخبر نہیں ہوتے ہیں ۔کہ آخر کار ہمارے گاؤں میں جو یہ اللہ تعالی کا ایک مرکز ہی سمجھو جو کہ ولی  کاملین کی جائے پناہ ہےاور آخری آرام کی جگہ ہے  ۔آج کل کے جوانوں میں اتنا علمی شعُور بیدار نہیں ہوا ہے۔ کہ وہ ان چیزوں پر غور و فکر کر کے ان کے  مشن اوراصل طرز زندگی کو سمجھیں، اور یہ بھی جاننے کی کوشش کریں کہ یہ اتنے دور سے کیسے یہاں آئے ہیں۔ اور یہاں پر انہوں نے کس طرح سے دین اسلام کی خدمت کی ہے۔میں اس چیز پر بہت سارے بزرگوں سے ملا اور اس زیارت شریف سے متعلق معلومات حاصل کرنے لگا ۔اللہ تعالی کا ایک بزرگ تھا جس کے پاس میں بہت ٹائم بیٹھا کرتا تھا ۔میں نے اس سے بھی اس بارے میں پوچھا کہ اس زیارت شریف کو میں نے ایک بورڈ لگانا ہے۔ جس پہ نام لکھنا ہے کہ جو اندر کی جو دو قبریں ہیں ان کے نام کیا ہے۔ کیونکہ تقریبا 2000عیسوی  تک ان بزرگوں کا نام بھی ہیون گاؤں کے لوگوں کو اچھی طرح سے معلوم نہیں تھا. تو ہم نے اس پہ کام کر کے  ان کے نام کسی خدا دوست سے پوچھنے کا ارادہ کیا۔تو میں نے اس بارے میں جب ایک نیک شخص سے معلوم کیا تو اس نے ان دو بزرگوں کے نام مجھے کاغذ پہ لکھا ے،ایک کا نام حضرت سید مومن صاحب رحمت اللہ علیہ ہے، اور دوسرے کا نام حضرت سید شاہ رسول صاحب رحمت اللہ علیہ ہےاور یہ بھی بولا ساتھ میں کہ ان دونوں کی قبریں اندر  ہیں۔ لیکن اس زیارت شریف کے ارد گرد اور بھی بہت سارے بزرگ دفن ہیں خاص کر اس زیارت شریف کے جنوب کے جانب ان کے اہل و عیال مدفون ہے ۔جن کی قبریں آج بھی وہاں پر دکھائی دے رہی ہے۔

image of old ziyrat shareef

                اس زیارت شریف  کی حد بندی  اس زیارت شریف  کے ارد گرد میں  اس کی حد بندی آج یعنی 2025 میں موجود ہے, یہ قدیم ہے اور اسی حالت میں موجود تھی۔ یعنی جنوب کے طرف روڈ تک قبرستان تک اس کی حد بندی ہے۔ اور مشرق کی جانب اس کی پوری حد بندی دیوار بنایا گیا ہے جو ہم نے  دوبارہ  بنایا اور آج موجود ہے ۔اور اس کے شمال کی جانب جو حد بندی ہے یہ راستے تک ہے جہاں پر آج روڈ بنا ہوا ہے ۔اور ہم نے بعد میں ایک دیوار تعمیر کر کے اس کی حد بندی مکمل طریقے سے بند کی۔ تو اس طرح سے تقریبا آج یعنی 2025 عیسوی میں اس زیارت شریف کے پاس 20 کنال سے زیادہ زمین اس کے حد بندی میں موجود ہے ۔جس کی پوری طرح سے قدیم زمانے سے حد بند ی ہوئی ہے۔ اس زیارت شریف کے متعلق ہم نے یہ بھی معلوم کیا کہ کیا یہاں کوئی تبرکات موجود ہے۔ جس کے لیے  بزرگوں نے ہمیں یہ کہا کہ ہاں اس زیارت شریف پر سالانہ ایک مجلس ہوا کرتی تھی۔ جو رات بھر ہوتی تھی اور دن میں تبرکات کی زیارت ہوتی تھی۔ بعد میں نامسائل حالات کی وجہ سے وہ تبرکات کہیں پر چھپا دیے گئے ہیں۔ جو آج تک ہم کو نہیں ملے تبرکات چونکہ اس زیارت شریف میں ابھی بھی موجود ہیں جو معلوم نہیں ہو پا رہا ہے کہ کس جگہ پر مدفون ہے ۔یا کس جگہ پر رکھے گئے ہیں۔اس کے علاوہ ہم نے اپنے بزرگوں سے یہ بھی سنا کہ اس زیارت شریف پر سالانہ جو مجلس ہوتی ہے جو عرف عام میں مجلس عرس کہلاتی ہے ۔وہ 12 زیٹھ کے دن میں ہوتا ہے ۔اور 11 زیٹھ کو رات بھر شب خانی ہوا کرتی ہے۔ جس شب خانے کو ہم نے دوبارہ 2003 میں شروع کیا۔ اور بعد میں زیارت شریف تعمیر نو ہونے تک چلتا اآرہا تھا اور پھر سے شروع کرنے کا مکمل ارادہ بھی ہے ۔

north side boundry




                چونکہ یہ شب کی محفل جب بھی ہوا کرتی تھی۔ تو اس شب میں پورے گاؤں کے سب لوگ شرکت کرتے تھے۔ جس میں جوان و بزرگ سب رات بھر اس زیارت شریف میں جاگتے رہتے تھے۔ اور علاقے بر سے بھی بہت سارے مہمان آتے تھے۔ اور اس مجلس میں پوری رات بھر شرکت کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ان کا کھانا اور چائے وغیرہ کا پورا انتظام ہوتا تھا ۔جس میں شام کا کھانا اور رات بھر چائے کہوہ وغیرہ حاضر ہوتا تھا۔ اور صبح کو سب حاضرین چائے پینے کے بعد اپنے اپنے علاقے یا گاؤں کی طرف روا ہوتے تھے۔ اس طرح سے اس زیارت شریف میں شب کے موقع پر پورا گاؤں شرکت کرتا تھا۔ اور پورے جوش و جذبے سے اور ادب و احترام سے زیارت شریف کی سالانہ مجلس میں شرکت کرتے تھے۔ اور بہت سارے گھر اپنی طرف سے زیارت شریف کی اس مجلس کے لیے قہوہ چائے وغیرہ کا انتظام کرتے تھے۔

under construction masjid

              اس زیارت شریف سے متعلق بہت سارے کرامات ہیں۔جو میں نے اپنے بزرگوں سے سنی ہے۔ اور خود بھی اپنی آنکھوں سے کچھ ایسی چیزوں کا مشاہدہ کیا ہے ۔ میں آپ سب کو ان سے باخبر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔یہ زیارت شریف چونکہ مقدس جگہ ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ احتیاط کرنے کی جگہ بھی ہے۔ یعنی اس زیارت شریف میں یا اس زیارت شریف کے ارد گرد جب بھی آپ جائیں تو ادب و احترام کا خیاس خیال کیا کریں ۔کیونکہ میں نے اپنے بزرگوں سے یہ سنا ہے۔ کہ اس زیارت شریف کے پاس جب بھی کسی نے کوئی بے ادبی کی یا کوئی گستاخی کی وہ یا تو جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھا ،یا اس کو کوئی نہ کوئی جسمانی تکلیف میں اللہ تعالی میں مبتلا کیا ۔اور بعد میں ہلاکت کا منہ دیکھنا پڑا۔

south side boundry road

                اس زیارت شریف سے متعلق جو میں نے خود بھی اپنےآنکھوں سے دیکھا، کہ ہمارے گاؤں میں ایک جوان تھا جس کا نام نذیر احمد گنای تھا۔ وہ مزدوری بھی کرتا تھا ،لیکن بیچ بیچ میں کبھی اس کو ایسی حالت ہو جاتی تھی۔ کہ انسان لرض اٹھتا تھا ۔میں نے از خود دیکھا کہ ہم مسجد شریف میں نماز ادا کرتے تھے ۔یہ جوان نظیر احمد گنائی بھی اسی مسجد میں اسی صفحے میں نماز پڑھتا تھا۔ اچانک اس کی ایسی چیخ نکلتی تھی ۔ چیخ کے بعد  وہ سیدھے نیچے زور سے گرتا تھا۔ اور مسجد میں جتنے بھی صف ہواکرتے تھے ۔سب پہ لرزہ طاری ہوتا تھا۔کیوں یہ آواز اتنی خطرناک ہوا کرتی تھی، میں از خود اتنا ڈر تھا جس کی وجہ سے صف سے دور جاتا تھا ۔لیکن یہ جو ہی ایک چیخ نکال کر گر جاتا تھا۔ تو کوئی اس کے نزدیک نہیں جاتا تھا تقریبا ادھے گھنٹے کے بعد اس کا ہوش آتا تھا۔ اور پھر واپس اٹھتا تھا ۔چونکہ میں عمر سے چھوٹا تھا میں نے اس کے بارے میں جاننا چاہا کہ اس کو یہ کیا ہو رہا ہے ۔اور ایسی بیماری یا کوئی ایسی اس کو جنات نے حملہ کیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ اس طرح سے نماز کے دوران یا غیر نماز میں بھی چیخ نکال کر گر جاتا تھا۔ تو معلوم کرنے کے بعد یہ پتہ چلا کہ اس نے اس زیارت شریف میں ایک مٹی کا برتن کسی نے رکھا تھا۔ جس مٹی کے برتن کو اس نے تکبر سے توڑ ڈالا توڑنے کے بعد دور پھینکا جس کے بعد اس کو اس زیارت شریف کی بے ادبی کرنا مہنگا پڑ گیا ۔ اور ایسی حالت ہوا کرتی ہے۔ چونکہ اس جوان کو یہ تکلیف اب ہوا تھا اس نے بہت کوشش کی تھی کہ اس مشکل سے وہ آزاد ہو جائے مگر اس کو کبھی اس بیماری سے آزادی نہ مل پائی بلکہ بہت دیر تک وہ پیروں فقیروں کے پاس جاتا تھا۔ مگر کچھ حاصل نہیں ہوا آخر کار میں نے از خود دیکھا کہ اچانک وہ زیادہ بیمار ہو گیا ۔وہ جو ہی روڈ پر چلتا تھا تو وہ سیدھا کہتا تھا کہ  میرے پیچھے سانپ صاف آرہے ہیں ۔جو مجھے کاٹنا چاہتے ہیں ۔اور بھاگ جاتا تھا۔ جس کے بعد وہ اچانک بھاگا، اور مسجد شریف کے مشرق کے جانب ایک کنواںں wellتھا ۔جس  میں اس نے چھلانگ لگائی اور ہلاک ہو گیا ۔یہ تھی ایک غلطی جو اس نے اس زیارت شریف کے پاس کی تھی۔ اور بعد میں موت کا شکار ہو گیا۔

main entry ziyrat shareef south side

                     دوسرا ایک بزرگ جس سے میں نے سنا عبدالغنی ڈار اس کا نام تھا۔ وہ کلاڑی لے کر آیا اور زیارت شریف کے مشرق کی طرف ان درختوں کے سے شاخ تراشی کرنے لگا تو ایک دن آیا اور تھوڑی بہت شاخ تراشی کی اور بکریوں کے لیے پتے لے لیے رات کو جب سویا اس نے میرے سامنے یہ واقعہ بیان کیا۔ کہ جو ہی میں سو گیا تو رات کو میں دیکھ رہا ہوں کوئی بندہ میرے بستر کے اوپر سر کی جانب آگیا۔ اور وہ مجھے کہہ رہا ہے !اس کے ہاتھ میں چاکو تھی وہ سیدھے مجھے کہہ رہا ہے۔ کہ میں آپ کو اس چاقو سے گردن کاٹوں گا تو میں نے پوچھا اس کو ، میں نے کیا غلطی کی اس نے بولا آپ نے زیارت شریف کے درخت  کاٹے درختوں کی شاخ کاٹے اگر پھر دوبارہ تو آیا میں تیری گردن اسی بستر پہ الگ کروں گا ۔جس کے بعد وہ بزرگ مجھے ملا اور کہا کہ میں کبھی دوبارہ اس طرف کے نزدیک بھی نہیں جاتا ہوں ۔وہ ڈر کے مارے  دور سے سلام کر کے اپنے زمین پر جاتا تھا۔ اور آخری دم تک کبھی زیارت شریف کے نزدیک یا اس زیارت شریف کے ان درختوں کا پتہ کاٹنے سے بھی احتیاط کرتا تھا۔

pics of nemaz istiska in ziyray shareef

                کتنے واقعات میں بیان کرو ہم اس زیارت شریف کی خدمت میں 1999ء سے منسلک ہیں۔  زیارت شریف کے پاس درسگاہ بھی چلتا تھا۔ کبھی کبھار ہم اس زیارت شریف کےچھوٹے موٹے کام بھی کرتے تھے۔ جیسے راستہ بنانا صفائی کرنا دیوار بنانا وغیرہ ۔ تو میں درسگاہ کے بچوں کو ساتھ لے کر اس زیارت شریف کا کام کرتے تھے۔ جو ہی چھٹی ہوتی تھی ،تو میں بچوں کو بھی ساتھ لے کے اس زیارت شریف کا کوئی نہ کوئی کام کرتا تھا۔ ایک دن ہی نہیں بلکہ جب بھی ہم کام کرنے آتے تھے۔ اس زیارت شریف میں تو ایک عجیب معملہ ہوتا تھا۔ جو ہی ہم کام شروع کرتے تھے کبھی آدھے گھنٹے کے بعد کبھی ایک گھنٹے کے بعد ضرور یا تو زیارت شریف پہ چائے آتی تھی، یا زیارت شریف پہ کوئی کھانا لاتا تھا ۔جس کو تحری کا نام بھی ہم کہتے ہیں۔ اور ہم اس کو کھاتے تھے۔ یعنی ہمیں کبھی بھی کام کے دوران گھر کھانے کے لیے نہیں جانا پڑتا تھا ۔جب بھی ہم زیارت شریف کا کام کرتے تھے تو زیارت شریف میں ضرور دن کا ایک یا دو بار کھانا پہنچتا تھا جس کو ہم کھاتے تھے۔ اور کبھی چائے بھی آتی تھی۔

old ziyrat shareef

             اس زیارت شریف میں چونکہ میں نے از خود بہت وقت اس زیارت شریف کی خدمت میں گزارا ہے۔ اور یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس زیارت شریف میں جیسے کوئی ہبہو چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔ ایسے ہی کچھ اللہ تعالی کی مخلوقات جو اس زیارت شریف کی محافظ ہے۔ اس زیارت شریف میں کبھی کبھار سیدھے نظر آتے ہیں۔ کہ وہ کیسے چلتے ہیں کوئی زیارت شریف کا تحفظ کرتے ہیں اس لیے اس کے ارد گرد  سب رہنے والوں کے لیے گزارش ہے۔ کہ کبھی بھی اس زیارت شریف کے پاس کوئی ناپاکی یا بے ادبی کرنے کی کوشش نہ کرے جس کا آپ کو کوئی نہ کوئی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

old ziyrat shareef west side

                 میں کتنی کرامات بیان کروں جو کہ انگنت ہے ۔ہمارے گاؤں میں ایک شخص تھا۔ جس کا نام حبیب اللہ گنائی تھا جس کی تین چار بکریاں ہوا کرتی تھی ۔یہ تقریبا 2001 کی بات ہے وہ ان بکریوں کو لا کر زیارت شریف کے درختوں کا شاک تراشی کر کر ان بکریوں کو کھلاتا تھا۔ جس کے لیے اس کو بہت سارے لوگوں نے کہا تھا۔ کہ آپ کیوں زیارت شریف کے درختوں کو کاٹ کر ان کو کھلاتے ہو ۔تو وہ چونکہ زبان سے تیز تھا وہ شرارتی بھی تھا لیکن نرم طبیعت بھی تھا اب چونکہ زیارت کے درختوں کے پتے وہ بکریوں کو وہ کھلاتا تھا۔ جس کے لیے اس کو کوئی کچھ نہیں کہتا تھا ۔تو ایک دن ایسا ہوا وہ چار بکریاں جنگل کو گئی شام کو جب وہ انتظار کر رہا ہے ، جنگل سے واپس آئیں گے چونکہ وہ سب بکریوں کے ساتھ جاتے تھے۔ جن کا ایک بندہ بھی ساتھ ہوتا تھا چرواہ لیکن شام کو جب وہ انتظار کرتا تھا کہ بکریاں واپس ائیں گے ۔اس دن وہ چار بکریاں واپس نہیں آئی جو اس زیارت  کےدرختوں کے پتے کھاتے تھے ۔اور یہ ان کو ان درختوں کا شاخ کاٹ کر دیتا تھا۔ تو  اس نے تلاش کرنا شروع کیا تو دوسرے دن اس کو ملا کہ وہ چاروں بکریاں جنگل کے اوپر ایک جگہ ہے جس کا  نام  بمبور پل بولتے ہیں ۔وہاں پر وہ چاروں بکریاں شیر نے کھائی تھی۔ اور اس حبیب اللہ گنائی صاحب کو بعد میں پچھتانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔

 چونکہ اس زیارت شریف سے متعلق پورے گاؤں کی بہت اُمیدیں وابستہ ہے۔ گاؤں میں کسی بھی گھر میں جب بھی کوئی مشکل پیش آتا ہے۔ تو وہ اس زیارت شریف پر چاول تیار کر کے تحری کی صورت میں لاتے ہیں اور بچوں میں تقسیم کرنے کے بعد ان کو یہ مشکل حل ہو جاتا ہے۔ یہ اس گاؤں میں پورا ایک معمول رہا ہے ۔کہ جب بھی کسی بھی گھر میں چاہے گھر  سے متعلق ہو یا بچوں سے متعلق کوئی بھی مشکل پیش آتی ہے۔  تو وہ ضرور اس زیاد شریف پر اآکر اس زیارت شریف میں کچھ خیرات کر کے اس مشکل کو ضرور حل کر پاتے ہیں۔


                 اور ایک مشہور کرامت جو اس زیارت شریف سے متعلق پورے گاؤں میں بسی ہوئی ہے۔ اس گاؤں کے سبھی لوگوں میں معلوم ہے۔ اور عقیدہ بھی رکھتے ہیں اور عمل بھی کرتے ہیں کہ جب بھی کبھی بھی خشک سالی ہوتی ہے میں نے اپنی پوری عمر میں دیکھا ہے۔ کہ جب بھی کبھی بھی بارش بند ہو جاتی ہے۔ خشک سالی کی خطرہ ہو جاتا ہے ۔تو اس گاؤں کے سب لوگ کچھ چاول جمع کر کے اور کچھ گوشت وغیرہ لا کر اس زیارت شریف پر ایک نیاز کرتے ہیں۔ جس کو عرف عام میں بنڈار بولتے ہیں ۔جس بنڈار میں ہم وہ کھانا تیار کر کے پھر گاؤں کے سب  لوگوں میں بچوں میں عورتوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔اور اس زیارت شریف پر نماز استسقہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ پورے دن ختمات اور ذکر و اذکار کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی کا کرم آپ کو بیان کرتا ہوں ۔کہ جب بھی ہم نے یہ بنڈار کیا ہے چاہے وہ بارش کے لیے ہو یا بارش بند ہونے کے لیے ہو، تو جب بھی ہم بنڈار ختم کرتے تھے۔ تو ایک دن یا دو دن کے بعد  یا اسی دن  ضرور پوری بارش لگتی تھی ۔اور ہمارے زمین و باغ سیراب ہو جاتےہے۔ یہ پورا لگاتار میں دیکھتا آرہا ہوں تقریبا38سال سے ،اس کرامت کے سوا اور کیا آپ کو میں اس زیارت کے کرشمے بیان کروں ۔اب لوگ ہی ایسے ہونے چاہیے جو اللہ تعالی کے ان نیک درباروں میں فیض حاصل کریں۔

nemaz istiska in ziyrat shareef

                    میں اپنے بزرگوں سے سنتا تھا۔ کہ ایک بندہ تھا ۔جس کے آنکھوں کی بینائی چلی گئی تھی۔ اور اس کو پرانے بزرگوں نے اس زیارت شریف پہ لایا اور رات کو وہاں بیٹھے کچھ کلمات پڑھےاور توبہ استغفار کی، وہ جو بندہ اندھا تھا ۔رات کو وہ اسی زیارت شریف میں موجود تھا۔ اور وہ کہتا ہے کہ کوئی آیا جس نے میری آنکھوں کو رات کے اندھیری میں کچھ منہ سے پانی نکال کر لعاب دہن ،جس کو بولتے ہیں لگایا ۔صبح کو جب وہ واپس نکلا تو اس کی انکھوں کی روشنی واپس آئی تھی۔ یہ بھی میں نے اپنے بزرگوں سے  سنا ہے۔

                       الغرض قران میں بھی یہ  حکم موجود ہے کہ اللہ تعالی کے نیک بندوں سے کبھی بھی نہ بے ادبی کرنی چاہیے ۔ نہ ان کی گستاخی کرنی چاہیے، جس کی وجہ سے اس انسان کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔اس زیارت شریف کی خدمت اگاؤں کے بہت سارے بزرگوں نے کی ہے ۔جس میں عبدالرحمن ڈار حاجی ،غلام محمد شیخ المعروف امکاک،غلام رسول بٹ،غلام محمد راتر،عبدالحد شیخ،عبدالرحمن رتر،ماسٹر غلام محمد شیخ،اور میں شیخ تجمل الاسلام، وغیرہ وغیرہ بہت سارے لوگوں نے اس زیارت شریف کی خدمت کی ہے۔

under construction govt hospital near ziyrat

                    اس زیارت شریف میں مسجد شریف نہیں تھی میں بھی بہت وقت سے اس انتظار میں تھا ۔کہ کوئی ایسا سبب ہو جائے جس سے میں اس زیارت شریف میں ایک مسجد  بھی تعمیر ہو۔2009 کا سال تھا کہ اس زیارت شریف کے ارد گرد کچھ نئی بستی آباد ہوئی۔ جو میرے پاس آی انہوں نے اس زیارت شریف میں ایک مسجد شریف تعمیر کرنے کی گزارش کی ۔جس کو بعد میں ہم نے پورا مشورہ  کیا چونکہ  زیارت شریف کو تعمیر کرنا ہے۔ اس لیے زیارت کمیٹی دو تعمیرات ایک ساتھ نہیں کر سکتی ہے ۔جس کے لیے یہ ارد گرد کے کچھ محلے والے اس بات کا اقرار کرتے ہیں اور اسرار بھی کرتے ہیں کہ ہم زیارت شریف کے لیے مسجد تعمیر کریں گے ۔جو مسجد شریف زیارت شریف کی ہی ہوگی لیکن ہم اس مسجد شریف میں عبادت کیا کریں گے۔ اور اس کی خدمت بھی کریں گے ۔جس کے لیے ان کو بعد میں پورا مشورہ کرنے کے بعد اجازت دیا گیا۔ کہ اس مجلس شریف جس کا نام بھی اسی وقت 2009 میں ہے منتخب ہوا کہ اس زیارت شریف کا نام زیارت شریف پرہی ہوگا۔ جس کا نام مسجد سید مومن رحمت اللہ علیہ رکھا گیا۔ اور زیارت شریف کا زمین اور زیارت شریف کے کچھ درخت اس وقت اس زمین پر کھڑا تھے جو بھی تقریبا اُس وقت کے قیمت کے مقابل ایک لاکھ سے زیادہ  بنتا تھا، وہ بھی اس مسجد شریف کو دیے گئے۔ اور مسجدشریف ابھی بھی زیر تعمیر ہے ۔


                آخر پر اس زیارت شریف سے متعلق ایک اور بات جو لازما کہنا چاہتا ہوں کہ اس بزرگان دین کا جو ہم نے معلوم کیا کہ اس کا کہاں سے تشریف اوری ہے وہ افغانستان سے مل رہی ہے کہ یہ اس بزرگ نے اپنے باقی ساتھیوں کے ساتھ افغانستان سے ہی ہجرت کی تھی۔ اور یہاں اس ہیون گاؤں میں سکونت پذیر ہوئے اور آخری آرام گاہ بھی  اسی ہی ون گاؤں میں ہی فرمائی۔

high school near ziyrat

east side of ziyrat

             اس علاقے نارواو میں اور بھی بہت سارے اللہ تعالی کے بزرگ تشریف فرما ہے ۔جن میں حضرت نظام الدین بخاری رح صاحب آڈورا گاؤں میں اور حضرت سید جمال الدین بخاری رح صاحب فتح گڑھ میں تشریف فرما ہے ۔لیکن ہیون زیارت شریف ان دونوں زیارت شریفوں سے قدیم تر ہے ۔چونکہ علاقے کے ان اللہ تعالی کے بزرگوں نے تقریبا نو سو ہجری میں ہی اس علاقے نارواو میں تشریف لایا ہے۔ لیکن ھیون  گاؤں کی جو زیارت شریف ہے۔ یہ 900 ہجری سے پہلے ہی یہاں پر قائم ہوئی ہے۔

26اگست2025

شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر

*******************************************************************************

* کچھ مفید باتیے |kuch mufeed batiea


* syed janbaz din wali | سید جانباز ولی بارہمولہ





Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)