حضرت سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدومی کشمیری رحمۃ اللہ علیہ
کشمیر میں جب ہم اولیاء کاملین کا تذکرہ کرتے ہیں ۔تو کچھ نام ہماری زبان پہ ضرور`آتے ہیں۔ان میں حضرت شیخ نور دین نورانی رحمت اللہ علیہ، حضرت شیخ حمزہ مخدوم رحمت اللہ علیہ ،حضرت شاہ ہمدان رحمت اللہ علیہ، حضرت شیخ یعقوب صرفی رحمت اللہ علیہ وغیرہ ہیں ۔ان کا رتبہ اور شہرت دیکھ کر ہمیں اس بات پر فخر ہیں۔ کہ کشمیر کی زمین ایک ایسی زمین ہے، جس میں اللہ تعالی نے ایسے با ولایت شخصیت کو پیدا فرمایا ہیں، جن کی وجہ سے وادی کشمیر کی اس سرزمین کو ایک خاص رفعت اور فیوض و برکات حاصل ہے۔ ان میں سے چند کے نام کشمیر کے فرد فرد کی زبان پر ہے ۔جیسے شیخ حمزہ مخدوم رحمت اللہ علیہ اور حضرت شیخ نورالدین نورانی رحمت اللہ علیہ ہے۔کشمیر کے سب رہنے والوں کے لے یہ لازم ہے۔ کہ وہ ان ولی کاملین کی سیرت سے بھی باخبر ہو۔اور ان کی تعلیمات سے بھی باخبر ہو۔
شیخ حمزہ مخدومی رحمت اللہ علیہ کا تعلق یہاں کے بارسوخ خاندان رینہ خاندان سے تھا۔تواریخ کی کتابوں کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں۔ تو حضرت شیخ حمزہ مخدومی کا نسب نامہ یوں درج ہے ،حضرت شیخ حمزہ سلطان العارفین بن حضرت عثمان رینہ، بن زیتی رینہ ،بن جهانگیر رینہ ،بن دولت رینہ، بن ابدال رینہ ،بن احمد رینہ ،بن راون رینہ، بن رام چندر بن سنگرام چندر بن بلاد چندر بن، ملُچندر سوسرم چند رہے( دسُتورا السالکین صفحه 14) مؤلف بہارستان شاہی نے آپ کا نسب نامہ یوں دیا ہے۔ مل چندر سو سوم چندر ،کہکہ چندر، سنگرام چندر، رام چندر ،راون چندر، کوٹا رانی، دولت رینہ، ابدال رینه ،جهانگیر رینہ احمد رینہ ،عثمان رہنا حمزہ رینہ، آپ کے اسلاف میں سے سب سے پہلے رام چندر کے بیٹے ،راون چندر ، حضرت بلبل شاہ کے ہاتھوں مشرف اسلام ہوئے ہے۔ اور اُس وقت کے پہلے مسلمان بادشاہ سلطان صدردین نے جو اسلام لانے سے پہلے بودنام رگیا بولہا چن ریچن سے جانا جاتا تھا ،نے آپ کو رینہ کا خطاب دیا تھا ۔اس زمانے میں رینہ، مدارالمہام کو کہتے تھے ۔
چنانچہ رینہ کا خطاب پانے کے بعد یہ خاندان رینہ کے نام سے ہی مشہور ہو گیا ۔ .رام چندر کے بعد اس کی اولاد سلاطین کشمیر کے عہد میں مدار الہامی اور عہد وزارت پر فائز ہوتے رہے ۔سلطان زین العابدین بٹ شاہ کے عہد میں ہلمت رینہ ایک نامورسپہ سالار تھا۔ اور اس کا بھائی احمدرینہ مدارالمہام تھا۔ احمد رینا کا بیٹا جہانگیر رینہ، حسن شاہ کی حکومت میں ارباب اقتدار میں سے تھا۔ اس کا بیٹا زیتی رینہ اپنی پشتی جاگیر موضوع تجر میں جا کر سکونت پذیر ہوا۔ اس کا بیٹا عثمان رینہ تھا۔ جو ایک صوفی منشی فاضل کامل اور صاحب حال وقال شخص تھا ۔حضرت شیخ حمزہ کشمیری اسی کے فرزند ہیں ۔آپ کے اسلاف نے اگر چہ یہاں کے شاہی درباروں میں اقتدار پانے سے اپنا نام پیدا کیا ۔لیکن شیخ حمزہ مخدومی رحمت اللہ علیہ نے شاہی دربار سے کنارہ کش ہو کر اپنی روحانی کمالات سے ابدی نام حاصل کیا ۔
حضرت شیخ حمزہ مخدوم 900 ہجری میں علاقہ زینہ گیرموضوع تجر شریف میں پیدا ہوئے۔ چنانچہ پیدائش کے دن سے ہی آپ پر عنایات ربانی کا سایہ تھا ۔اس ضمن میں ایک مولف کا بیان یوں ہے کہ آپ کی ولادت کے چند دنوں بعد ایک بزرگ اور عارف کامل نے خواب دیکھا ۔کہ حضرت سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام اور بزرگان دین کی ایک محفل منعقد کی تھی ۔جس میں آپ ایک نو زائد بچے کو بڑی نرمی شفقت و عنایت سے پیار کرتے ہیں۔ اور اس کی پیشانی کو بوسہ دیتے تھے۔ اور اس بچے کی صحت و سلامتی اور خیر و برکت کی دعا فرماتے تھے۔ اس مرد عارف نے آپ کے نزدیک جا کر التماس کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نوزاید بچہ کس کا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ اگرچہ عثمان رینا کا بیٹا ہے مگر معنوی لحاظ سے ہمارا فرزند ہے ۔
بعض مصنفین نے آپ کے شیر خوگی کے ایام سے تعلق رکھنے والا یہ واقعہ لکھا ہے۔ کہ ایک بار آپ کی والدہ محترمہ بی بی مریم کے دودھ میں کمی واقع ہوئی تھی۔ اس لیے قریبی گاؤں سے ایک دودھ دلانے والی عورت بلائی گئی۔ مگر آپ نے کہی دونوں تک اس کا دودھ نہیں پیا سب حیران و پریشان ہوئے کہ آپ دودھ پیے بغیر زندہ کیسے رہیں گے ۔لیکن اس کے باوجود بھی آپ کے صحت و توانائی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ،تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ یہ عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر چار ماہ کی لڑکی کو گھر پر چھوڑ کرآ گئی تھی۔ایسے کئی واقعات ہیں جن سے آپ کا مادرزاد ولی ہونا ثابت ہو جاتا ہے ۔
مقامی تاریخوں میں درج ہے ۔کہ آپ کو بچپن سے ہی نیکو کار لوگوں اور درویشوں سے میل جول کی رغبت تھی ۔اور ہمیشہ سچ بولا کرتے تھے ۔ابتدا میں آپ نے حسب روایت اپنے گاؤں کے ہی ایک مدرسے میں داخلہ لیا۔ یہاں پر قران شریف کی تعلیم دی جاتی تھی ۔ایک دن راستے میں بچوں کے کھیل کود میں مصروف ہوئے ،اچانک ادھر سے آپ کے والد بزرگ کا گزر ہوا۔ اور آپ کو کھیل کود میں مصروف دیکھا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ آپ مدرسہ نہیں گئے تھے۔ تو اس پر اس قدر خفا ہوئے اور اس کو تنبیہ کی کہ آپ بیمار ہو گئے۔ بیماری کے ایام میں ہی آپ نے اپنے دل میں مکمل ارادہ کیا۔ کہ صحت یاب ہوتے ہی شہر جا کر علم حاصل کروں گا۔ چنانچہ صحت یاب ہوتے ہی آپ اپنے دادا کے ہمراہ سری نگر چلے آئے اور اپنے پیر طریقت بابا اِسماعیل اور ان کے بیٹے بابا فتح اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بابا اسماعیل نے بڑی مسرت کا اظہار کیا ۔
ان کی خدمت میں آپ نے ایک سال تک قران شریف کی تعلیم کو ختم کر لیا۔ بابا فتح اللہ خانقاہی کوہ ماران کی اعلی درسگاہ میں ایک بلند پایا عالم ومدرس تھے۔ قرآن شریف کی تعلیم تک پہچنےکے بعد آپ بابا فتح اللہ کی اجازت سے مدرسے شمسی چک میں علم دین حاصل کرنے کے لیے داخل ہوئے ۔اور یہاں پر آپ نے فقہ حدیث تفسیر منطق فلسفه اخلاق و آداب اور اذکار اور تصوف کے علوم میں عبور کامل حاصل کیا ۔اس طرح آپ کو عربی فارسی میں کافی دستگاہ پیدا ہوئی۔ مولف تحفہ محبوبی کا بیان ہے کہ آپ نے علوم دین حاصل کرنے کے لیے ازخود ملا لطیف اللہ کے سامنے زانوے شاہ گردی تہہ کیا ۔
![]() |
| View of city from ziyrat shareef |
مدرس شمسی چک کی خانقاہ میں ہی آپ عبادت ریاضت میں مشغول ہو گئے۔ لیکن آپ کو اس درسگاہ میں الگ کمرہ نہیں دیا گیا ۔بلکہ ایک درویش سیرت آدمی کے ساتھ ایک کمرے میں رہے ۔یہ صاحب آدھی رات کو اٹھ کر نماز تہجد کے بعد سورہ کہف با آواز بلند پڑھا کرتا تھا۔ اور آپ بھی اسی وقت اٹھ کر غسل اور وضو کر کے بیدار رہ کر اس کی تلاوت سنتے تھے۔ کچھ دن بعد آپ نے بھی یہ سورہ شریف ازبر کر لیا۔ اور اس صاحب کو سنایا وہ درویش سیرت آدمی حیران رہ گیا۔ اور کہا کہ وہ کئی سال سے یہ سورہ پڑھ رہا ہے لیکن زبانی یاد نہیں کر سکا اس پر اس نے حضرت مخدوم شیخ حمزہ رحمت اللہ علیہ کو شاباشی دی۔ اور آپ کے ہاتھ چومنے چنانچہ یہ واقع خود حضرت مخدوم رحمت اللہ کی زبان سے سنایا گیا ایک واقعہ ہے بعد فرماتے ہیں کہ «ای بیداری شب اذاں وقت عادت من بود »
غرض کم عمری سے ہی آپ ریاضت عبادت کے وسیع میدان میں شہسواری کرنے لگے۔ آپ دن رات اور اد وظائف عبادت و ریاضت جن کی اجازت صالحہ وقت سے حاصل کی تھی میں گزارتے تھے ۔قران مجید کو بھی روزانہ پڑھتے تھے۔ آپ نے خانقاہی شمسی چک کے پیشوا مولانا درویش سے قران مجید کی پوری تکمیل کی ۔اور علم قرات حافظ عربی سے سیکھا۔ اب آپ کے دل میں ہمیشہ ایک مرشد کی آرزو رہتی تھی ۔خداوند تعالی نے اپنی خاص عنایت سے آپ کی تربیت عالم غیب سے و انبیاء و اولیاء کی روحوں کی وسا طت سے یا غیبی اللہاموں سے اور یا ہاتفی کی زبان سے کی۔ مورخ واقعات کشمیر یوں رقم دراز ہے، (اکثر تربیت ازغیب درخواب و معاملہ مئی یافت میوان گفت کی اویسی بعد) گویا معرفت کا علم ان کے حق میں علم لدنی تھا ۔جب کبھی سلوک کے کاموں میں آپ کوئی سستی کاہلی یا غفلت سرزد ہو جاتی۔ تو عالم غیب سے آپ کو ڈانٹا جاتا تھا۔ اور غفلت اور قائل سے بعض رکھا جاتا تھا ۔اور جب کبھی تہجد کے وقت نید کا غلبہ ہوتا۔ تو آپ کے کمرے کے دروازے کو کھٹکھٹایا جاتا اور غیبی آواز اٹھو وقت ہو گیا ہے، آپ چونک پڑھتے اور جاگ اٹھتے تھے ۔غفلت کے بارے میں عالم غائب سے آپ کو تنبیہ کی جاتی تھی۔ اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ اس طرح ابتدائی زمانے سے ہی عالم غائب کی تربیت آپ کے شامل حال رہی ۔اور آپ وقتا فوقتا خضر علیہم السلام ،عیسی علیہم السلام، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابہ کبار اولیاء کرام کی غیبی ملاقاتوں سے مشرف ہو جاتے تھے۔ اور ان کے مواعظ سے مستفید ہوتے تھے ۔
عالم غیب سے روحانی و باطنی تربیت پانے کے باوجود بھی آپ کے دل میں رہنمائی کامل اور مرشد خاص کی رہنمائی کی آرزو تھی ۔اور اللہ تعالی نے آپ کی یہ آرزو بھی پوری فرمائی۔ انہی دنوں حضرت سید جمال الدین بخاری رحمت اللہ علیہ اس وادی جنت بے نظیر میں تشریف فرما ہوئے۔ حضرت شیخ ہمزہ مخدومی رح غیبی فرمان کے تحت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔سید جمال الدین بخاری رحمت اللہ علیہ نے آپ کو اپنی تربیت اور فرزندی میں قبول کیا۔ اور آپ ان کی بیت سے مشرف ہوئے ۔مرشد موصوف نے آپ کو ذکر ضرب سلطان، وغیرہ کی تلقین فرمائی اور چھ مہینے تک آپ کی تربیت کرتے رہیں ۔اس کے بعد وہ خلافت نامہ عطا کیا، جو بڑے بزرگ مشائیخوں سے ان کے پاس پہنچا تھا۔ اور یہ اجازت بھی دے دی کہ جب کوئی راہ سلوک کا حقیقی طالب آپ کے پاس رہبری کے لیے ائے تو آپ اس کی رہنمائی کریں گے۔ اور یہ خلافت نامہ بھی اس کو عطا کرگے۔ اور یہ خلافت نامہ آپ نے اپنے مرید صادق بابا داؤد خاکی رح کو عنایت فرمایا ۔
بہرحال حضرت شیخ ہمزہ مخدوم کشمیری مادرزاد ولی تھے ۔اور بچپن سے ہی ربانی فیوض و برکات کا مجسمہ بھی تھے ۔روحانیت میں ترکیب کرتے کرتے آپ ابدالیت کے رتبے تک پہنچ گئے ۔
سیر و سیاحت اس میں شک نہیں کہ شیخ حمز مخدوم کشمیری رحمت اللہ نے کشمیر سے باہر قدم نہیں رکھا۔ اتنا ضرور ہے کہ آپ نے اپنے مرشد بزرگ کو سید جمال الدین بخاری رح کے کشمیر سے کوچ کرنے کے وقت انہیں اپنے ساتھ لے جانے پر سخت اصرار کیا تھا۔ لیکن مرشد بزرگوار کے یہ فرمانے پر کہ آپ تو کشمیر میں بیٹھ کر ہی عالم ملکوت اور لاہوت کے سیر کریں گے ۔آپ اپنے وطن میں ٹھہرنے پر رضامند ہو گئے۔ اگرچہ حضرت مخدوم رح کشمیری ظاہری طور پر رسومات حج ادا کرنے کے لیے نہیں گئے ۔لیکن کئی حاجیوں نے آپ کو رسوم حج ادا کرتے ہوئے کعبہ کا طواف کرتے ،اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ۔اس طرح سے آپ باطنی طور پر حج بیت اللہ کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے تھے ۔آپ کو طے زمانہ میں کمال حاصل تھا ۔
غرض آپ نے راہ سلوک اور تصوف میں واقعی بڑا کمال حاصل کیا ۔حضرت موصوف چک دور کی ایک درخشنده اور تابناک روحانی شخصیت ہیں۔ آپ کے فیوض و برکات سے یہاں کے بے شمار لوگوں کو روحانی تربیت اور قلبی سکون کی سعادت حاصل ہوئی ۔آپ کے کمالات کو کوئی کہاں تک بیان کرے البتہ آپ کے خلفاء نے آپ کا جو ذکر اپنے تصانیف میں کیا ہے ،وہ فارسی نصر کی خدمت کے ساتھ ساتھ ایک بڑی دینی خدمت بھی ہے ۔
کرامات
حضرت سلطان العارفین کا معمول تھا۔ کہ کبھی کبھی ملہ کھاہ قبرستان تشریف لے جایا کرتے اور امت المسلمین کے حق میں دعائے مغفرت مانگتے۔ خصوصا اپنے مریدوں کے بارے میں۔ ایک دفعہ ایک صاحب قبر کی طرف متوجہ ہو کر جب پیر کامل فاتحہ پڑھنے لگے۔ تو بعد فراغت مسکرائے حاضرین نے وجہ دریافت کی ،فرمایا میں صاحب قبر کی طرف متوجہ ہوا مگر اس کی نظریں دوسری طرف لگی ہوئی تھی ۔میں نے نظریں دوڑائی تو معلوم پڑا کہ وہ اپنے فرزند کو چلتے دیکھ کر اسی کی طرف متوجہ ہوا اس کا خیال تھا کہ وہ شاید اس کی فاتحہ خوانی کے لیے آیا ہے ۔مگر وہ سیدھا وہاں سے گزر گیا۔ اس پر یہ صاحب قبر بڑا مایوس ہوا۔ اسی پر مجھے افسوس بھی ہوا اور ہنسی بھی آئی کہ کس طرح اس فرزند نے اپنے باپ کو مایوس کر دیا۔ آج کل دیکھیے ہمارا حال اس سے کہیں بدتر ہے اللہ رحم کرے۔(دسُتور سالکین صفہ 21)
تو اس واقع سے ہمیں پتہ چلا کہ حضرت شیخ ہمزہ مخدومی رحمت اللہ علیہ کا کشف کمال اور ولایت کا مقام کتنا اعلی تھا۔ کہ قبرستان میں جا کر بھی یہ ایسے چیز ملاحظ فرماتے تھے، جن کا ایک عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا ہے ۔تو اس طرح سے ان کے کمالات کا رتبہ ہمیں معلوم ہوتا ہے۔ کہ ان کا کمال اور ان کا رتبہ ،اور ان کو ولایت کتنی رفت والی ہے۔
Masjid Ashia RA.
دستور سالکین میں اور ایک واقع اس طرح سے درج ہے کہ ایک دن پیر کامل کے پاس ایک اجنبی شخص کوئی کاغذ لے کر آیا اور خدمت میں پیش کیا ۔آپ نے ڈانٹ کر فرمایا تم کس طرح یہ کاغذ میرے پاس سیدھے لے آئے یعنی بلاواسطہ یہاں لے آئے۔ اس کو عبدالرحمن میاں شاہ رحمت اللہ علیہ کے ذریعے میری پاس حاضر کرو۔ یعنی ایسے سیدھے اس کاغذ کو آپ میرے پاس نہیں لا سکتے ہیں، اس لیے فرمایا کہ اس کاغذ کو پہلے آپ حضرت عبدالرحمن میاں شاہ رحمت اللہ علیہ کے پاس لے جائیے ۔جب وہ شخص میاں صاحب کے یہاں حاضر ہوا۔ آپ نے کاغذ تھامے ہوئے فرمایا واہ ایسی دستاویز متبرک ہے کہ اس کو دل میں جگہ دینی چاہیے ۔چنانچہ منہ میں ڈال کر نگل گئی۔ وہ شخص غصہ ہوا اور شکایت لے کر پیر کامل کے حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا جاؤ کہیں وہ تمہیں بھی نہ نگل جائے ۔آخر پیر کامل نے فرمایا کہ یہ موکل تھا جو ہر شہر اور ہر ملک سے اس امر کی تعمیل کر کے لایا تھا ۔کہ وبا کے سلسلے میں کشمیر سے کتنے نفوس کی موت واقع ہونی ہے ۔ (26 صفہ دستور السالکین)
دستور سالکین میں ایک اور جگہ پر یوں درج ہے کہ حضرت بابا داؤد خاکی کو حضرت پیر کامل نے ایک کام پر مامور کیا کہ تمام جھیلوں اور چشموں پر جا کر جنیات کو مسلمان بنا کر مُطیع کیا جائے تاکہ میرے مریدوں کو تکلیف نہ پہنچے جب آپ کونثر ناگ پہنچے ۔اور حسب الحکم پیر کامل پانی میں کچھ ورد کرنے چلے گئے ۔تاکہ جنیات حاضر ہوں اسی اثنا میں ذہن میں ایک خیال آیا کہ اس خطرناک سردی میں پیر کامل رحمت اللہ علیہ نے مجھے کس کام پر مامور کیا ہے ۔یعنی سردی کی وجہ سے بابا داؤد خاکی کو یہ خیال ذہن میں پڑا کہ اس سردی میں مجھے اس خطرناک کام پہ کیوں لگایا گیا۔ تو یہ وسوسہ آنا ہی تھا کیونکہ بابا داؤد خاکی رح پانی میں تھے۔ اس کے پاؤں پانی میں تھے کسی نے نیچے سے ٹانگ کھینچی اور بابا داؤد خاکی رحمت اللہ علیہ صاحب ڈوبنے لگے۔ اسی اثنا میں اپنے پیر کامل کو روحانی طاقت کے ذریعے سے آواز لگائی ،یعنی روحانی طریقے سے اپنے پیر کا مل کو آواز لگای۔ کہ مجھے آزاد کر، اس وقت پیر کامل مخدوم منڈل میں تشریف فرما تھے۔ جلدی میں عصا مانگا اور دیوار میں ٹھونس کرخاکی رح کو اس بلا سے نجات دلائی ۔یہ مگرمچھ تھا جو علامہ باباداؤد خاکی رح کو ننگلنا چاہتا تھا ۔اپنی حالت پر آ کر پیر کامل نے فرمایا کہ یہ خاکی کو مگر مجھ سے آزاد کیا ہے اس کے دل میں یوں ہی وسوسے پیدا ہوتے ہیں۔
وفات حضرت شیخ ہمزہ مخدومی رح نے 24 ماہ صفر 974 ہجری کو انتقال فرمایا ۔کوہ ما را ن جو ہاری پربت کے نام سے بھی معروف ہے۔ کہ جنوبی گوشے میں آپ کا روزہ مبارک ہے ۔اس جگہ پر آپ وفات پانے سے پہلے خلوت گزیں ہو کر عبادت الہی میں مشغول رہا کرتے تھے۔
آپ کی وفات کے زمانے میں چک دور کا تیسرا حاکم علی شاہ چک کشمیر کا بادشاہ تھا ۔آپ کے جنازے میں کشمیر کے خاص و عام ،علماء وسادات اولیااور صلح خاص کر سلطان الوقت علی شاہ چک خود بھی شامل تھا ۔آپ کا مدفن آج بھی آپ کے عقیدت مندو اور مخلصوں کے لیے حاجت روائی اور مشکل کشائی کی ایک عظیم اور متبرک زیارت گاہ ہے۔ ہر سال 24 صفر کی تاریخ کو اس زیارت شریف پر سالانہ مجلس ہوتی ہے۔ جو مجلس عرس کے نام سے مشہور ہے۔ اور اس رات میں اور دن میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان اور عقیدت مند اس زیارت شریف پر رات بھر اور دن بھر اپنا وقت گزارتے ہیں ۔اور عبادت میں مشغول بھی رہتے ہیں،اور فیض و برکت حاصل کرتے ہیں۔
(ملاحظ فرمائیے! دستور سالکین،تاج العارفین،ریسرچ پیپر کشمیر یونیورسٹی،)
6سمتبر2025
تحریر از شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر۔










