واقعہ حضرت پیر چنگی رحمت اللہ علیہ
خلافت حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں ایک شخص خوش الحان چنگ بجایا کرتا تھا۔ چنگ ایک قسم کا سُریلا انسٹرومنٹ ہے۔جو منہ سے بجایا جاتا ہے ۔ یہ شخص اتنا اچھا جنگ بجاتا تھا ،کہ اس کی آواز پر مرد و عورت بچے سبھی قربان تھے۔اس کی آواز اتنی خوبصورت اور میٹھی ہوتی تھی ،کہ اگر کبھی مست ہو کر گاتا ہوا جنگل سے گزر جاتا تو چرند پرند اس کی آواز سننے کے لیے جمع ہو جاتے تھے۔
رفتہ رفتہ جب یہ شخص بوڑھا ہوتا گیا،اور آواز پیری کے سبب بھٌدی ہو گئی ۔تو عشاق آواز بھی رفتہ رفتہ کنارہ کش ہو گئے ۔یعنی اب لوگ اس کو نہیں سنتے تھے ۔اور اس کی چنگ بجانے کی آواز کو نہیں پسند کرتے تھے۔اب جدھرسے گزرتا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں نام و شہرت سب رخصت ہو گئے۔ یعنی لوگ اس کو پسند نہیں کرتے تھے ۔کیونکہ اس کی آواز اب وہ سرُیلی آواز نہیں رہی تھی۔جس کی وجہ سے اس کے کام پر بُرا اثر پڑا اور اس کو فاقہ پر فاقہ گزرنے لگے۔خلق کی اس خودغرضی کو سوچ کر ایک دن بہت مغموم ہوا۔ اور دل میں کہنے لگا کہ اے خدا جب میں خوش آواز تھا ۔تو مخلوق مجھ پر پروانہ وار گرتی تھی۔ اور ہر طرف میری خاطر تواضع ہوتی تھی۔ اب بڑھاپے سے آواز خراب ہو گئی تو یہ ہوا پرست اور خود غرض لوگ میرے سائے سے بھی گریزہ ہو گئے۔ ہائے ایسی بے وفا مخلوق سے میں نے دل لگایا۔ یہ تعلق کس درجہ پُر فریب تھا ۔کاش میں آپ کی طرف رجوع ہوتا اور اپنے شب و روز آپ کی یاد میں گزارتا اور آپ ہی سے اُمیدیں رکھتا ۔تو آج یہ دن نہ دیکھتا۔ پیر چنگی دل ہی دل میں نادم ہو رہا تھا ۔اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ کہ اچانک جذب غیبی نے اس کے دل کو اپنی طرف کھینچ لیا۔
پیر چنگی نے ایک آہ کھینچی اور خلق سے منہ موڑ کر دیوانہ وار مدینہ منورہ کے قبرستان کی طرف روانہ ہو گیا اور ایک پرانی وشکست قبر کی غار میں جا بیھٹا ۔روتے ہوئے اس نے حق تعالی سے عرض کیا۔ کہ اللہ آج میں تیرا مہمان ہوں۔ جب ساری مخلوق نے مجھے چھوڑ دیا تو اب تیری بارگاہ کے سوامیرے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں۔ اب اس وقت تیرے سوا میری اس آواز کا کوئی خریدار نہیں ہے۔ یہ مخلوق جو میری آواز سنتے تھے۔ اب انہوں نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ اور بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔
اب سوائے آپ کے میری کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ اے اللہ میں بڑی اُمیدیں لے کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں۔ اپنی رحمت سے آپ مجھے نہ ٹھکرائے۔ پرانی قبر کے اس غار میں پیر چنگی اس طرح آہ و زاری میں مشغول تھا۔ اور آنکھوں سے خون دل بہہ رہا تھا ۔کہ حق تعالی کا دریاے رحمت جوش میں آگیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو الہام ہوا کہ اے عمر رضی اللہ میرا فلاح بندہ جو اپنی خوش آوازی کے سبب زندگی بھر مخلوق میں مقبول وہ محبوب رہا ہے۔ اور اب وجہ پیری آواز خراب ہو جانے سے ساری خلقت نے اس سے چھوڑ دیا ہے۔ اور یہ قطع سلسلہ اسباب اور غم ناکامی اس کی ہدایت کا اور میری طرف رجوع کا سبب بن گیا ہے ۔تو اب میری رحمت واسعہ اس کے خریدا ری ہے۔
قبول است گرچہ ہنر نیست است
کہ جز ما پناہ و گر نیست است
اگرچہ زندگی بھر وہ نافرمان وہ غافل رہا ہے۔ لیکن میں اس کی آہ و زاری کو قبول کرتا ہوں۔ کیونکہ میری بارگاہ کے علاوہ میرے بندوں کے لیے کوئی اور جائی پناہ نہیں۔ بس اے عمر رضی اللہ تعالی عنہ آپ بیت المال سے کچھ متعد بررقم لے کر اس قبرستان میں جائیے اور میرے بندہ عاجز وہ مضطر کو میرا سلام پیش کیجئے ۔پھر یہ رقم پیش کر کے کہہ دیجیے کہ آج سے حق تعالی نے تجھے اپنا مقرب بنا لیا ہے۔ اور اپنے فضل کو تیرے لیے خاص کر دیا ہے۔ اب تجھے ملول خاطر ہونے کی ضرورت نہیں۔ نہ مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہے ۔اے عمر رضی اللہ تعالی عنہ میرے اس بندے سے کہہ دو کہ حق تعالی نے ہمیشہ کے لیے غیب سے تیری روزی کا انتظام کر دیا ہے ۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جس وقت حاتف غیبی سے یہ آواز سنی تو بے چین ہو گئے۔ فورا اٹھے اور بیت المال سے کچھ رقم لے کر قبرستان کی طرف چل دے۔ وہاں دیکھتے ہیں کہ ایک فرسوُدہ وشکست قبر کی غار میں ایک بڈھا جنگ لیے ہوئے سو گیا ہے۔ اور اس کا چہرہ داڑھی آنسوں سے تر ہے۔ اور اسی اشک ندامت سے اس کو یہ مقام ملا ہے۔ اسی کو مولانا رومی رحمت اللہ علیہ نے یوں فرمایا ہے
پیر چنگی کے بود خاص خدا
حبٌذا اے سر پنہاں حبٌذا
خلیفہ وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اس قبر کے سامنے با ادب کھڑا ہوئے انتظار فرما رہے تھے۔ کہ پیر چنگی بیدار ہوں، تو ان سے حق تعالی کا سلام پیام عرض کروں۔ اسی اثنا میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو چھینک آگئی جس سے پیر چنگی کی آنکھ کھل گئی۔ خلیفۃ الُمسلمین کو دیکھ کر کانپنے لگے ۔کہ اس چنگ کی وجہ سے نہ جانے مجھ پر کتنے درے پڑیں گے۔ کیونکہ عہد خلافت عمر رضی اللہ تعالی عنہ میں دٌُرا فاروقی کی شہرت تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب دیکھا کہ پیر چنگی لرز بر اندام ہے۔ تو ارشاد فرمایا کہ خوف مت کرو میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے بہت بڑی خوشخبری لایا ہوں۔ اور ارشاد فرمایا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی زبان مبارک سے پیر چنگی کو جب حق تعالی کے الطاف عنایات اور افضال کا علم ہوا۔ تو اس مشاہدہ رحمت ذخار سے اس پر شکر و ندامت کا حال طاری ہو گیا۔جب پیر چنگی خوب رو چکا اور اس کا درد حد سے گزر گیا ۔
تو اپنے چنگ کو غصے سے زمین پر پٹک کر ریزہ ریزہ کر دیا ۔اور اس کو مخاطب کر کے کہا کہ تو نے ہی مجھے حق تعالی کی محبت اور رحمت سے دور رکھا تھا ۔تو نے شاہ راہ حق سے میری رہزنی کی تھی۔ تو نے ہی 70 سال تک میرا خون پیا، یعنی تیرے ہی سبب لہو ولعب نافرمانی کرتے کرتے بوڑھا ہو گیا۔ اب تیری ہی سبب میرا چہرہ حق تعالی کے سامنے سیا تھا۔اس پیر چنگی کی آہ وزاری دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی عشق بار ہو گئے ۔آپ نے فرمایا اے شخص تیری یہ گر یہ وزاری تیری باطنی ہشاری کی دلیل ہے۔ تیری جان حق تعالی کے قرب سے زندہ اور روشن ہے۔ حق تعالی کی بارگاہ میں گناہگار کے آنسو کی بڑی قیمت ہے یعنی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پیر چنگی کو اپنے ساتھ لیا ۔اور اپنے صحبت میں رکھا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی صحبت مبارک کے فیض سے پیر چنگی پیر طریقت ہو گئے۔ اور اکابر اولیاء اللہ کی صف میں داخل ہو گے۔
اس واقعہ سے ہمیں سبق ملتا ہے ۔کہ انسان کو اپنی کسی بدحالی کی وجہ سے نا امید نہیں ہونا چاہیے ۔ہمیشہ حق تعالی کی رحمت سے اُمیدوار رہنا چاہیے۔اور معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے نزدیک توبے کا کتنا رتبہ ہے۔ توبہ کرنے سے انسان اللہ تعالی کے قریب ہو جاتا ہے۔
تحریر از شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر18 ستمبر 2025
(حکایت مثنوی شریف، معارف مثنوی مولانا جلال الدین رومی رحمت اللہ علیہ صفحہ نمبر82)

