بچوں کی اچھی کہانی بچوں کی نصیحت آموز کہانی | حکایت چوہے اور مینڈک کی دوستی | children best stories

Tajamul sir
0

  بچوں کی نصیحت آموز کہانی

حکایت چوہے اور مینڈک کی دوستی


 

ایک دریاکے کنارے ایک چوہا رہتا تھا ۔اور اسی دریا کے پاس میں ہی ایک مینڈک بھی رہتی تھی ۔یہ دونوں جب دن کی روشنی میں باہر نکلتے تھے ۔تو آپس میں بیٹھ کر کچھ باتیں کرتے تھے۔ بہت دن گزرنے کے بعد ان دونوں کے بیچ میں دوستی ہو گئی ۔اور دوستی ہونے کے بعد یہ دونوں اس دریا کے کنارے پر آکر ایک مقرر وقت پر ملاقات کرتے تھے ۔اور آپس میں باتیں بھی کرتے تھے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان دونوں کی دوستی اتنی بڑھ گئی ،کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ پاتے ہے۔ اور دونوں نے مشورہ کیا کہ ہم دونوں ایک ہی ٹائم پر ایک دوسرے کو اشارہ کر کے ملا کریں گے ۔کیونکہ چوہے نے کہا میں دریا کے کنارے آتا ہوں۔ لیکن تم مینڈک پانی میں ہوتی ہو۔ جس کی وجہ سے میں تم کو آواز نہیں دے پا رہا ہوں ۔اس لیے ہم اس پہ مشورہ کریں گے ۔کہ ہم ایک دوسرے کو کس طرح سے اشارہ کر کے ملا کریں گے۔



بہت دیر تک دونوں کے درمیان مشورہ ہونے کے بعد  چوہے نے مینڈک سے کہا ؟ کہ ہم ایک داگھا لا کر اس کو ایک دوسرے کے پاؤں میں بند کریں گے۔ پس جب مجھ کو ملاقات کرنی ہوگی ۔تو میں اس دھاگے کو ہلاؤں گا تو تم پانی سے باہر آجانا، مینڈک نے بھی کہا کہ جب مجھے ملاقات کرنے کا اشتیاق ہوگا، تو میں پانی میں ہلاؤں گا تو آپ باہر آ جایا کرے گا ۔تو اسی بات پر دونوں تیار ہو گئے ،کہ ایک دوسرے کے پاؤں میں ہم دھاگہ باندھیں گے ۔



تو دھاگا باندھنے کے بعد جب بھی چوہے کو مینڈک کو بلانا ہوتا تھا۔ تو وہ دریا کے کناری پرآنے کے بعد اس دھاگے کو ہلاتا تھا۔ اور مینڈک پانی سے باہر آتی تھی، اور ملاقات کرتے تھے ۔بہت دن گزرنے کے بعد یہ اسی طرح سے یہ ایک دوسرے کو اشارہ کر کے ملاقات کرتے تھے ۔



                 ایک دن ایسا ہوا چوہا دھوپ میں دریا کے کنارے پر بیٹھا تھا ۔اُوپر سے ایک بھوکا چیل آیا ،اس چیل نے اس دریا کے کنارے پر اس چوہے کو دیکھا ۔اور ایک دم اس پہ چپڑ پڑااور اس چوہے کو پکڑ لیا، اور اپنے پنجوں میں پکڑنے کے بعد ہوا میں اڑا ۔چونکہ چوہے کے پاؤں میں جو دھاگہ لگا ہوا تھا۔ وہ دھاگا سیدھا پانی میں مینڈک کے پاؤں کے ساتھ بندہ ہوا تھا ۔جو ںنہی چیل نے ہوا میں اڑنا شروع کیا۔ اور اس کی پنجوں میں چوہا تھا اور دھاگہ جوں جوں اوپر اٹھا تو نیچے سے مینڈک بھی پانی کے اندر سے لٹکا ہوا چیل کے ساتھ ساتھ اوپر فضا میں معلق ہوا۔ چوہا خبیث کا جو حشر ہوا ،وہی اس مینڈک کا بھی حشر ہوا۔ یعنی دونوں کو اس چیل نے کاٹ کر ہلاک کر دیا ۔اور اپنا لقمہ بنایا اگر مینڈک پانی کے اندر رہتا، اور چوہے خبیث سے دوستی کا یہ رابطہ قائم  نہ کرتا تو پانی کے اندر جیل کے دشمنی اس کا کچھ بال بیکا نہ کر سکتی ۔اور نہ ہی وہ اس چیل کا لقمہ بن جاتا ۔




                    اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے ۔کہ ہمیں کبھی بھی بری صحبت کے ساتھ اپنا رابطہ نہیں رکھنا چاہیے۔ کیونکہ جب برے صحبت رکھنے والے لوگوں کا حشر برا ہوتا ہے۔ اور ان کو سزا ملتا ہے اگر آپ ان کے ساتھ رابطہ رکھو گے آپ کو بھی ان برے لوگوں کی وجہ سے وہی سزا ملے گا ۔جو سزا ان برے لوگوں کو ملتا ہے ۔اس لیے مولانا جلال الدین رومی صاحب نے مثنوی شریف میں یہ حقائق درج کی ہے۔ تاکہ لوگ اپنے آپ کو برے اور بد  لوگوں کے ساتھ نہ جوڑے بلکہ اچھی صحبت کے ساتھ رہے، اور نصیحت کی ہے کہ برے صحبت میں رہنے والوں کا کیا حال ہوتاہے اور ان لوگوں کا بھی کا حال یہی ہوتا ہے جن کا رابطہ ان برے لوگوں سے ہوتا ہے۔

 (حکایت مثنوی شریف، معارف مثنوی مولانا جلال الدین رومی رحمت اللہ علیہ صفحہ نمبر 175)

14سمتبر2025

تحریر از شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر۔


Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)