حکایت قتل کرنا ہاتھی کے بچے کا اور اس کا انجام
ہندوستان کا واقعہ ہے۔ ایک دوستوں کی جماعت دور ایک سفر پر نکلی ۔بہت دور جانے کے بعد ان کو بھوک لگ گئی ۔ان کو راستے میں ایک عقلمند فقیر ملا جس نے ان کو نصیحت کی کہ یہاں راستے میں ہاتھی کے بچے ہیں۔ آپ ایسی غلطی نہیں کرنا ،ان ہاتھی کے بچوں کو نہیں مارنا ان کا گوشت نہیں کھانا۔بلکہ اگر آپ کو بھوک کی شدت اتنی زیادہ ہوئی ہے۔ تو جنگل کا گھاس یا پتے کھانا لیکن ان ہاتھی کے بچوں کو نہیں کھانا۔ہاتھی کہیں گیا ہوا ہے ،وہ واپس آکر تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا ۔اگر تم نے ایسی غلطی کی کہ ہاتھی کے بچوں کو مار کر ان کا گوشت کھا لیا۔ اس عقلمند شخص نے انہیں کہا کہ میری نصیحت کو غور سے سن لو بھوک کے سبب آپ بہت پریشان ہو,لیکن ہاتھی کے بچوں کے ساتھ نہ چھیڑنا, بلکہ اگر گھاس بھی کھانا پڑے پتے کھانا پڑے کھانا،لیکن ہاتھی کے بچے کو نہ مارنا اور اس کا گوشت نہ کھانا۔
اس گروہ کے ایک شخص نے اس عقلمند فقیر کی نصیحت پر عمل کیا اور اپنا پیٹ محفوظ رکھا اور کچھ پتے اور گاس کھا کر اس گروہ سے دور سویا۔ کیونکہ اس نے سوچا کہ ظالموں کے ساتھ رہ کر میں بھی انہی میں شمار ہو جاؤں گا۔ اور ہاتھی مجھے بھی نہ چھوڑے گا۔لیکن باقی ساتھیوں کوبھو ک کےسبب ان سے صبر نہ ہوا۔ اور انہوں نے ایک بچہ ہاتھی کا پکڑا اور اس کو مارا اور اس کا کباب کھایا۔ اس عقلمند نے کہا کاش تم لوگ اس جنگل کی اس گھاس کو ہی کھا لیتے، لیکن اس کا گوشت نہ کھاتے۔ اب تم لوگوں نے غلطی کی تم نے ہاتھی کے بچے کو مارا ہے۔ اور اس کا گوشت کباب بنا کر کھایا ہے اب اس کا انجام بھی تم لوگ دیکھ لو گے ۔کہ اس کا انجام کتنا برا ہوگا۔اور یہ شخص ناراض ہو کر ان سے دور سویا۔
تھوڑی دیر کے بعد ہاتھی آیا اور اپنے بچے کا خون دیکھا اور سمجھ گیا ۔اور شدت اور غضب و غصے سے اس کی سونڈ سے آگ نکلنے لگا۔ پس وہاں آیا جہاں یہ لوگ سوئے ہوئے تھے۔ اور ایک آدمی کو دیکھا، کہ الگ سویا ہوا ہے پہلے اسی دور سویا ہوئے آدمی کا منہ سونگا۔ اور تین مرتبہ اس کا چکر لگایا مگر اپنے بچے کے گوشت کی بو نہ پایا اس کو بے گناہ سمجھ کر معاف کر دیا۔ اور آگے بڑھا پھر اس گروہ کے پاس گیا اور ہر ایک کا منہ سونگا، اور ہر ایک کو اپنے بچے کے قتل کی پیدائش میں سونڈ سے کھینچ کر دو ٹکڑے کر کے ہوا میں بکھیر دیا۔اور اس ایک کے سوا باقی ان سبوں کو مار ڈالا۔
اس حکایت سے ہمیں سبق ملتا ہے۔ کہ ظلم کرنے والوں کے ساتھ کبھی نہیں رہنا چاہیے۔ نہ ظلم کرنے والوں کے ساتھ اپنی دوستی کرنی چاہیے۔ جتنا ہو سکے اللہ تعالی کے نافرمانوں سے دور ہی رہنا چاہیے ۔ان کی صحبت میں اپنا وقت نہیں گزارنا چاہیے۔ کیونکہ جب بھی ان کو اللہ تعالی کی طرف سے عذاب آئے گا۔ تو آپ کو بھی اس سزا کی پکڑ میں لے سکتا ہے۔
تحریر از شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر
15sept 2025





