sultan mahmood gaznai | محمود غزنوی رحمت اللہ علیہ نصیحت آموز واقعہ | mahmood gaznavi | محمود غزنوی

Tajamul sir
0

 



نصیحت آموز واقعہ سلطان محمُود غزنوی رحمت اللہ علیہ


ایک رات حضرت سلطان محمود غزنوی رحمت اللہ علیہ شاہی لباس اُتار کر عام لباس میں رعیت کی نگرانی کے لیے تنہا گشت فرما رہے تھے۔ کہ اچانک چوروں کے ایک گروہ کو رات  میں دیکھا۔ کہ آپس میں کچھ مشورہ کر رہے ہیں ۔چوروں نے سلطان محمود کو دیکھ کر دریافت کیا کہ اے شخص تو کون ہے۔


بادشاہ نے کہا کہ میں بھی تم ہی میں سے ایک ہوں ۔وہ لوگ سمجھے کہ یہ بھی کوئی چور ہے ۔اس لیے ساتھ لے لیا پھر آپس میں باتیں کرنے لگیں ۔اور یہ مشورہ ہوا کہ ہر ایک اپنا اپنا ہنر بیان کرے۔ تاکہ وہی کام اس کے سُپرد  کر دیا جائے گا ۔

ایک نے کہا صاحب میں اپنے کانوں میں ایسی خاصیت رکھتا ہوں۔ کہ کتُّا جو کچھ اپنی آواز میں کہتا ہے۔ میں سب سمجھ لیتا ہوں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ۔

دوسرے نے کہا کہ میری آنکھوں میں ایسی خاصیت ہے۔ کہ جس شخص کو اندھیری رات میں دیکھ لیتا ہوں اس کو دن میں بلا شک وہ شبہ پہچان لیتا ہوں ۔

تیسرے نے کہا کہ میرے بازو میں ایسی خاصیت ہے۔ کہ میں ہاتھ کے زور سے نقب لگاتا ہوں۔ یعنی گھر میں داخل ہونے کے لیے مضبوط دیوار میں بھی ہاتھ سے سوراخ کر دیتا ہوں۔ اتنی میری ہاتھوں میں طاقت ہے۔

              چوتھے نے کہا ! کہ میری ناک میں ایسی خاصیت ہے کہ مٹی سُونگ کر معلوم کر لیتا ہوں۔ کہ اس جگہ خزانہ مدفون ہے یا نہیں ۔جیسے مجنون نے بغیر بتلائے ہوئے خاک سُونگ کر معلوم کر لیا تھا۔ کہ اس جگہ لیلی کی قبر ہے۔ 


ہمچو  مجنوں بو کُنم ہر خاک را

خاک لیلٰی رابیا بم بے خطا 


        پانچواں شخص نے کہا کہ میرے پنجے میں ایسی قوت ہے۔ کہ محل کا کتنا ہی بلند ہو۔ لیکن میں اپنے پنجے کے زور سے کمند کو اس محل کے کنگراہ میں مضبوط لگا دیتا ہوں ۔اور اس طرح مکان میں آسانی سے داخل ہو جاتا ہوں۔ یعنی محل  کتنا بھی بڑا ہو میں اس محل میں داخل ہو سکتا ہوں ۔


          پھر سب نے مل کر بادشاہ سلطان محمود غزنوی رحمت اللہ علیہ جو کہ ان کے پاس  موجود تھا، سے دریافت کیا کہ اے شخص تیرے اندر کیا ہنرہے۔ جس سے چوری کرنے میں مدد مل سکے ۔بادشاہ نے جواب دیا :


مجُرماں راچو ں   بجلِّا داں دہند 

چوں بجنبد ریش من الیشاں رہند


         یعنی میری داڑھی میں ایسی خاصیت ہے۔ کہ پھانسی کے مجرموں کو جب جلّا دوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ اس وقت اگر میری داڑھی ہل جاتی ہے۔ تو سب اسی وقت راہی پا جاتے ہیں ۔یعنی جب میں ترہم سے داڑھی ہلا دیتا ہوں، تو مجرمین کو قتل کی سزا سے فلفور نجات حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ سنتے ہی چوروں نے کہا ۔


قوم  ُگفتندش کہ قطب ما تو ی

 روز محنت ہا خلاص ما توئی 


     "یعنی اے ہمارے قطب چونکہ یوم مشقت میں خلاصی کا ذریعہ آپ ہی ہے ۔یعنی اگر ہم پکڑے جاویں تو آپ کی برکت سے چھوٹ جائیں گے۔ اس لیے اب ہم سب کو بے فکری ہو گئی ۔کیونکہ اوروں کے پاس تو صرف ایسے ہنر ہیں ۔جن سے چوری کی تکمیل ہوتی ہے لیکن سزا کی خطرے سے بچانے کا ہنر کسی کے پاس نہیں ہے ۔یہی کسر باقی تھی جو آپ کی وجہ سے پوری ہو گئی۔ اور سزا کا خطرہ بھی ختم ہو گیا ۔بس اب کام میں لگ جانا چاہیے ۔اس مشورے کے بعد سب نے  یعنی وقت کے بادشاہ کے خزانے کی طرف چوری کرنے کے لیے نکلے۔ مگر یہ بے خبر تھے کیونکہ بادشاہ انہی کے ساتھ تھا۔ راستے میں کتُّا بھونکنے لگا، تو کتُّے کی آواز سمجھنے والے نے کہا، کہ کُتّے نے کہا ہے!  کہ تمہارے ساتھ بادشاہ بھی ہے۔لیکن اس کی بات کی طرف چوروں نے دھیان نہیں دیا۔ کیونکہ لالچ ہنر کو پوشیدہ کر دیتا ہے۔ایک نے خاک سونگی اور بتا دیا کہ شاہی خزانہ یہاں ہیں۔ ایک نے کمند پھینکی اور شاہی محل میں داخل ہو گیا ۔نقب زن نے نقب لگا دی اور آپس میں خزانہ تقسیم کر لیا۔ اور جلدی جلدی ہر ایک نے مال اپنے حصے کا پوشیدہ کر لیا۔ بادشاہ نے ہر ایک کا حُلیہ پہچان لیا۔ اور ہر ایک کی قیام گاہ کے راستوں کو محفوظ کر لیا اور اپنے  کو ان سے مخفی کر کے محل شاہی کی طرف واپس ہو گیا۔


بادشاہ نے دن کو عدالت میں شب کا تمام ماجرہ بیان کر کے سپاہیوں کو حکم دیا ،کہ سب کو گرفتار کر لو اور سزائی قتل سنا دو۔ جب وہ سب کے سب گرفتار ہو گئے۔اور عدالت  میں پیش کر دیے گئے۔ تو تخت شاہی کے سامنے ہر ایک خوف سے کانپنے لگا۔ لیکن وہ چور جس کے اندر یہ خاصیت تھی، کہ جس کو اندھیری رات میں دیکھ لیتا دن میں بھی اُس کو بے شبہ پہچان لیتا۔ وہ مطمئن تھا۔ اس پر خوف کے ساتھ رجا کے اثار بھی نمایاں  نہ تھے۔ یعنی ہیبت سلطانی اور قہر انتقامی سے ترساں اور لطف سلطانی کا امیُدوار تھا۔ کہ حسب وعدہ جب مراحم خسروانہ سے داڑھی ہل جائے گی۔ تو فلفور خلاصی ہو جائے گی ۔اور حسب وعدہ میں اپنے تمام گروہ کو بھی چھڑوا لوں گا ۔کیونکہ غایت مروت سے بادشاہ اپنی جان بچانے والے سے اعراض نہ کرے گا بلکہ عرض قبول کر کے سب کو چھوڑ دے گا۔


          اس شخص کا چہرہ خوف اور امید سے کبھی زرد کبھی سرخ ہو رہا تھا ۔کہ بادشاہ محمود نے جلالت کے ساتھ حکم نافظ فرمایا کہ ان سب کو جلادوں کی سپرد کر کے دار پر لٹکا دو۔ اور چونکہ اس مقدمے میں سلطان خود شاہد ہے۔ کیونکہ سلطان محمود غزنوی رحمت اللہ علیہ رات کو انہی کے ساتھ تھا۔ اس لیے وہ اس مقدمے کا از خود شاہد تھا۔ اس لیے کسی اور کی گواہی کی ضرورت نہیں تھی یہ سنتے ہی اس شخص نے دل کو سنبھال کر ادب سے عرض کیا ۔کہ اگر اجازت ہو تو ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں ۔اجازت حاصل کر کے اس نے کہا حضور ہم سے ہر ایک نے اپنے مجرمانہ ہنر کی تکمیل کردی۔ اب خسروانہ ہنر کا ظہور حسب وعدہ فرما دیا جائے ۔میں نے آپ کو پہچان لیا ہے۔ آپ نے وعدہ فرمایا تھا، کہ میری داڑھی میں ایسی خاصیت ہے کہ اگر کرم سے ہل جاوے تو مجرم خلاصی پا جاویں ۔لہذا  بادشاہ سلامت اب اپنی داڑھی ہلا دیجیے۔ تاکہ آپ کے لطف کے صدقے میں ہم سب اپنے جرائم کی سزا سے نجات پا جائے ۔ہمارے ہنروں نے تو ہمیں دار تک پہنچا دیا ۔ اب صرف آپ ہی کا ہنر ہمیں اس عقوبت کی سختی اس مشکل سے نجات دے سکتا ہے۔ آپ کی ہنر کے ظہور کا یہی وقت ہے ۔ہاں کرم سے جلدی داڑھی ہلا دیجیے کہ خوف سے ہمارے کلیجے منہ کو آرہے ہیں۔ اپنی داڑھی کی خاصیت سے ہم سب کو جلد مسرور اور رہا فرما دیجیے ۔


      سلطان محمود غزنوی رحمت اللہ علیہ اس گفتگو سے مسُکرایا ،اور اس کا دریائے کرم مجرمین کی فریاد و نالہ اضطرار سے جوش میں آگیا۔ ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص نے اپنی اپنی خاصیت دکھا دی ،حتی کہ تمہارے کمال اور ہنر نے تمہاری گردنوں کو مبتلا قہر کر دیا ۔بجز اس شخص کے کہ یہ سلطان کا عارف تھا ۔اور اس کی نظر نے رات کی ظلمات میں ہمیں دیکھ لیا تھا ۔اور ہمیں پہچان لیا تھا۔ پر اس شخص کی اس نگاہی سلطان شناس کے صدقے میں تم سب کو رہا کرتا ہوں۔ مجھے اس پہچاننے والے آنکھ سے شرم آتی ہے۔ کہ میں اپنی داڑھی کا ہنر ظاہر نہ کروں۔


اس واقعہ سے ہمیں نصیحت ملتی ہے کہ جس وقت ہم جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں شہنشاہ حقیقی ہمارے ساتھ ہوتا ہے ۔اور ہمارے کرتوتوں سے باخبر ہوتا ہے۔ جیسا کہ قران مجید میں حکم ہے"وهو معكم اينما كنتم" اور سلطان حقیقی تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں بھی تم ہو ۔بندہ جب کسی نافرمانی کا ارتکاب کرتا ہے تو گویا خزانہ حدود الہی میں خیانت کرتا ہے۔ اللہ کے حقوق کی خیانت ہو یا بندوں کے حقوق کی، یہ سب اللہ کے خزا نے کی چوری ہیں ۔ اس لیے ہر وقت یہ خیال رہے کہ شہنشاہ حقیقی ہمارے ساتھ ہے اور ہمیں دیکھ رہا ہے. اس کے سامنے خزانہ لوٹا جا رہا ہے ذرا سوچو تو صحیح تم کس کی چوری کر رہے ہو ۔وہ بادشاہ حقیقی کہہ رہا ہے کہ ہم تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ ہمارا قانون تو نازل ہو چکا تو آج تم قانون شکنی کر لو۔ آج دنیا میں تو میں تمہارے ستاری کرتا ہوں۔اس لیے ایک انسان کے لیے یہ سبق ہے کہ وہ جہاں بھی ہوتا ہے اس کو مالک حقیقی بالکل دیکھ لیتا ہے۔


تحریر از شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر22 ستمبر 2025

 (حکایت مثنوی شریف، معارف مثنوی،

مولانا جلال الدین رومی رحمت اللہ علیہ صفحہ نمبر46)




Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)