ابراہیم اور نمرود کا واقع | namrood ka waqa | namrood in quran | نمرود کا واقعہ۔ نمرود کی پیدائش کا واقعہ | نمرود کی پیدائش

Tajamul sir
0




حکایت کفران نمرود

 

            حق تعالی شانہ نے عزرائیل علیہ السلام سے کہا ،کہ تم نے اب تک جتنے لوگوں کی روحیں قبض کی ہے۔ تم کو ان سب میں کس پر زیادہ رحم آیا ۔عزرائیل علیہم السلام نے اللہ تعالی کے بارگاہ میں جواب دیا، کہ سبھی پر میرا دل سوختہ ہوتا ہےغم سے مگر آپ کے حکم کی تعمیل پر سر تسلیم خم کرتا ہوں ۔


       ارشاد ہوا کہ سب سے زیادہ کس پر دل رقیق اور غمگین ہوا۔ عزرائیل علیہم السلام نے جواب دیا کہ اے ہمارے رب ایک واقعہ نے میرے دل کو سب سے زیادہ رقیق کیا تھا ۔اور وہ یہ کہ ایک دن موج تیز پر ہم نے آپ کے حکم سے ایک کشتی توڑ دی ،یہاں تک کہ ریزہ ریزہ ہو گئی۔یعنی جب آپ نے حکم فرمایا کہ ایک کشتی جو سمندر میں چل رہی تھی! آپ نے حکم فرمایا اس کو ہوا کے لہروں سے توڑ واور ریزہ ریزہ کرو وہی ہم نے کیا۔ پھر آپ نے حکم فرمایا ،کہ سب کی جان قبض کر لو،سوائے ایک عورت اور اس کے بچے کے ۔اس گروہ سے سب ہلاک ہو گئے ۔بجز اس عورت اور اس کے بچے کے کہ دونوں ایک تختہ پر رہ گئے ۔تختے کو وہ موجیں سمندر کی لہریں چلاتی تھی۔ 


            جب کنارے پر اس تختے کو ہوا نے ڈالا۔ تو دونوں کی خلاصی سے میرا دل خوش ہوا۔ پھر آپ نے  حکم فرمایا ! کہ اب ماں کی جان قبض کرو اور بچے کو تنہا چھوڑ دو ۔آپ کے حکم سے جب میں نے ماں کی جان قبض کی اور بچے کو تنہا چھوڑا، اور بچہ ماں سے جدا ہو گیا۔ا اس وقت آپ خود جانتے ہیں کہ کس قدر مجھ کو تلخ معلوم ہوا۔ اور ہمارے دل پر کیا گزر گئی۔ مگر ہم آپ کے حکم کی تعمیل میں مجبُور تھے۔ آپ کے قضا وہ فیصلے سے کون  رو گردانی کر سکتا ہے۔


            اے رب میں نے ماں کی روح قبض کرتے ہوئے اپنے دل میں صدمہ عظیم دیکھا ۔اور اس بچے کی یاد اور اس کی بے کسی اب تک میری تصور خیال سے نہ گئی ۔حق تعالی نے فرمایا اب تم اس بچے کا ماجرہ سنو کہ میں نے کس طرح اس کی پرورش کی اس بچے کے لیے میں نے موجوں کو حکم دیا کہ اس کو ایک جنگل میں ڈال دو اور ایسے جنگل میں جہاں سوسن اور ریحان اور خوشبودار پھول ہوں۔ اور میوہ دار درخت ہوں۔ اور اس میں اب شرین کے چشمے ہوں میں نے اس بچے کو سوناز سے پالا۔ لاکھوں مرغ مطرب خوش صدا نے اس باغ میں سو اآوازیں ڈال رکھی تھی۔ اور میں نے برگ نسرین سے اس کا بستر بنایا۔ تاکہ فتن اور آفات سے وہ بچہ مامون رہے۔ میں نے خورشید کو حکم دیا کہ اس کی طرف شعایںں تیز نہ کر اور اپنی رفتار میں اس کا خیال رکھنا۔ ہوا کو حکم دیا کہ اس پر آہستہ چل ابر کو حکم دیا کہ اس پر بارش مت برسا۔ برق کو حکم دیا کہ اس پر تیزی سے میل مت کر۔ موسم خزاں کو حکم دیا کہ اس چمن سے اعتدال کو سلب مت کر۔ حاصل یہ کہ وہ باغ مثل روح عارفین کے صرصر اور سموم سے محفوظ رہا ۔ایک چیتے نے نیا بچہ جنا تھا میں نے اس کو حکم دیا کہ اس بچے کو دودھ پلایا کر۔ یہاں تک کہ وہ بچہ فربہ شیر مرد ہو گیا ۔جب اس کے دودھ چھڑانے کا وقت آیا تو میں نے جنات کو حکم دیا کہ اس کو بولنا اور حکومت کرنا سکھا و۔اس کی میں نے اس طرح پرورش کی جو تمام خلائق کے لیے عجیب اور حیرت خیز ہے، اور میرے تصرفات اسی طرح عجیب و غریب ہوتے ہیں ۔


             " میں نے حضرت ایوب علیہ السلام کے بدن میں کیڑوں کی پرورش کرائی" اور ان کو کیڑوں پر باپ جیسی شفقت عطا کی یہاں تک کہ اگر کوئی کیڑا جسم سے نکل کر دور ہوتا تو انہیں ایسا محسوس ہوتا کہ میری اولاد مجھ سے جدا ہو گئی ۔


دادہ  من ایوب    را مہر  پدر 

بحر  مہمانی  کرما ں  بے ضرر 


         غرض اس بچے پر میں نے صد عنایات اور صدہا علاقے کرم کیے۔ تاکہ وہ میرا لطف کرم بے واسطہ اسباب دیکھ لے۔ اور تاکہ وہ اسباب سے کشمکش میں مبتلا نہ ہو کیونکہ اسباب سے مسبب کبھی مختلف بھی ہو جاتا ہے۔ اور تاکہ اس بچے کی ہر استعانت مجھ سے ہی ہو ۔کیونکہ اسباب کی حجابات اس کے سامنے نہ تھے ۔یعنی بدون اسباب پرورش کا مقتدا یہی ہے ۔تاکہ وہ کسی اور پر نظر نہ کرے۔ تاکہ خود ہماری طرف اس کو عذر  نہ رہے گمراہ ہونے میں کہ میں اسباب پر نظر کرنے کے سبب آپ کے انعامات و آیات کی طرف متوجہ نہ ہو سکا اور ہر یار بد سے اس کو شکوہ نہ ہوا کہ فلاں نے مجھ کو گمراہ کر دیا ۔مگر عزرائیل علیہم السلام اس بچے نے میرا کیا شکر ادا کیا؟ یہی بچہ نمرود ہو گیا۔ اور میرے خلیل ابراہیم علیہ السلام کو جلانے والا نکلا یہی اس کا ارادہ یہی تھا مگر حق تعالی نے اپنے خلیل پر آتش نمرود کو گلزار من بنا دیا۔


گرگ درنده است نفس بد یقین 

چہ    بہانمی       نہی     بر     ہر قرین


مولانا جلال الدین رومی رحمت اللہ علیہ اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے۔ کہ اے بندہ فقیر زنجیر کتے کی گردن سے مت بحال کر یعنی نفس کو قید و بند میں رکھو اور اگر تم مغلوب ہو رہے ہو تو جلد کسی اللہ والے سے تعلق کرو تاکہ اس کی آہ سحر گائی اور دعاؤں اور صحبتوں کی برکت سے تم بھی غالب ہو جاؤ گے۔


تحریر از شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر19 ستمبر 2025

 (حکایت مثنوی شریف، معارف مثنوی مولانا جلال الدین رومی رحمت اللہ علیہ صفحہ نمبر191)




Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)