حکایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کا | انس بن مالک | حضرت انس بن مالک کی دعا | hazrat anas bin malik in urdu

Tajamul sir
1


 


حکایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کا 


                واقعہ ہے کہ ایک بار حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے یہاں چند مہمان آئے۔ بعد ضیافت دسترخواں زرد فام ہو گیا ۔دستر خواں میں شور با لگ جانے کے بعد اس کی صفائی کے لیے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے خادم کو حکم دیا ،کہ اس کو جلتے ہوئے تندور میں ڈال دو ,یعنی اس دستر خواں کو صاف کرنے کے لیے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے اس خادم کو حکم دیا۔ کہ اس  کو آگ میں ڈال دو۔ خادم نے حسب حکم ایسا ہی کیا ۔مہمانوں کو حیرت ہوئی ،اور دسترخوان کے جلنے اور اس سے دھواں اٹھنے کا انتظار ہونے لگا ۔لیکن اس کو جب تندور سے نکالا گیا، تو بالکل محفوظ تھا اور صاف ہو گیا تھا ۔

قوم گفتنا اے صحابی عزیز

 چوں نسوز یدومنقی گشت نیز


 ان مہمانوں نے کہا ،اے صحابی یہ دسترخواں آگ میں کیوں نہیں جلا ،اور بجائے جلنے کے اور صاف و ستھرا ہو گیا ۔


گفت زانکہ  مصطُفّٰے دست و دیاں

 بس بما لید اندریں دستار خواں


               حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اس کا سبب یہ ہے۔کہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دسترخواں سے بارہا اپنے دست مبارک ،ہاتھ مبارک اور لب مبارک کو صاف کیا ہے۔اب مولانا نصیحت فرماتے ہیں اے وہ شخص جس کا دل جہنم کی آگ اور عذاب سے خوفزدہ ہو۔ اس کو چاہیے کہ ایسے مبارک ہاتھوں اور لبوں سے قریب ہو جائے۔ جس کا طریقہ صرف اتباع سنت ہے تو اس سے اندازہ ملتا ہے ،کہ اللہ تعالی کی پیغمبر صاحب صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے لگا ہوا دسترخواں آگ میں نہیں چلا تو وہ انسان کیسے جل سکتا ہے جس کو اس محبوب پیغمبر صاحب صلی اللہ علیہ وسلم کا محبت اور الفت دل میں قائم ہو ۔تو اس الفُت اور محبت کو قائم رکھنے کے لیے اس صحبت کے قریب جانے کے لیے آپ کو اللہ تعالی کے ولیوں کے دربار میں ضرور رجوع کرنا پڑے گا۔


کیونکہ اللہ تعالی کے ولی کاملین جو دنیا میں ہیں ۔وہی لوگ ہیں جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قُربت اور قریبی نصیب ہوتی ہے۔ تو ان سے تعلق رکھنے سے ہم کو بھی ضرور فائدہ حاصل ہوگا ۔کیونکہ دسرخواں آگ میں نہیں جلا تو اس کی نہ جلنے کا وجہ یہ تھی کہ اس دستر خوان کی نسبت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تھی ،کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو استعمال کیا تھا۔ تو یہ انعام ہے ان لوگوں کے لیے جن کو اللہ تعالی کے ولیوں کے دربار میں نسبت ہو۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تحریر از شیخ تجمل اسلام بارہمولہ کشمیر28 ستمبر 2025

 (حکایت مثنوی شریف، معارف مثنوی مولانا جلال الدین رومی رحمت اللہ علیہ صفحہ نمر249)






Post a Comment

1Comments

Post a Comment