کچھ اہم مفید باتیں some important talks | کچھ اھم باتے

Tajamul sir
1

                             

                                                                                                                                                             کچھ اہم نکات                                                                                                                                                               

              علم اور ولایت: ولایت کے لیے علم ضروری ولا بدی ہے علم کے بغیر ولایت نہیں مل سکتی ۔علم چاہے کسی انسان سے حاصل کرے یا اللہ تعالی کی طرف سے علم لدنی عطا ہو علم بہت ضروری ہے ۔پہلے علم حاصل ہوتا ہے تو علم ولایت کا حصول ہوتا ہے۔حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں جو علم کے بغیر زہد کرتا ہے۔ اس کا خاتمہ ایمان پر ہونا مشکل ہے۔ حضرت سلطان العارفین سلطان باہو صاحب رحمت اللہ علیہ نے اسی کلام کا ترجمہ یوں فرمایا ہے علم کے بغیر حصول ولایت محال ہے کیونکہ قدم قدم پر شیطانی حملوں کا خطرہ ہے اور شیطان کے حملوں سے بچنے کے لیے بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے ۔

امام ابو حنیفہ کی قبر اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ :حضرت امام شافعی رحمت اللہ علیہ ہر سال فلسطین سے بغداد تشریف لے جاتے تھے ۔اور حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی قبر پر حاضر ہوا کرتے تھے۔ اور اس مسجد میں جو حضرت امام اعظم کے مزار کے قریب ہے نماز ادا فرماتے تھے ۔اور رفع یدین نہیں فرماتے تھے ۔ایک مرتبہ شاگردوں نے عرض کیا ہم دیکھتے ہیں کہ آپ یہاں اپنے اجتہاد پر عمل کی بجائے اس اجتہاد پر عمل فرماتے ہیں۔ جو امام ابو حنیفہ نے فرمایا امام شافعی نے جواب دیتے ہوئے فرمایا ۔کہ مجھے یہاں پہنچ کر اتنے بڑے امام کے سامنے اپنے اجتہاد پر عمل کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ حضرت اولیاء کرام کے مزارات پر حاضر ہونا اور انسے فیوضات و برکات حاصل کرنا الاسلام کا شروع سے طریقہ چلا آرہا ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے کثیر  واقعات کتابوں میں موجود ہے.


ایک لطیفہ : ایک فقیر حضرت داتا گنج بخش رحمت اللہ علیہ کے مزار کے سامنے بیٹھ کر کہہ رہا تھا۔ داتا 10 روپیہ دے دو داتا 10 روپیہ دے دو ایک بد عقیدہ شخص کا ادھر سے گزر ہوا اس نے کہا او فقیر کیا کر رہا ہے۔ اس نے کہا اپنے داتا سے 10 روپے مانگ رہا ہو اس نے کہا یہ شرک ہے ۔خدا سے مانگ وہ داتا ہے ۔اس قبر سے تمہیں کچھ نہیں ملے گا ۔فقیر نے کہا تیرے لیے شرک ہوگا میرے لیے نہیں۔ اس شخص نے کہا تجھے کچھ نہیں ملے گا تیری جھولی خالی رہے گی۔ یہ کچھ نہیں دے سکتے تم 10 روپیہ مجھ سے لے لو فقیر نے 10 روپے لے کر جیب میں ڈال لیے اور مزار کی طرف متوجہ ہو کر کہا ۔اے داتا مجھے یقین ہو گیا ہے تو واقعی داتا ہے دلایا بھی تو اس سے جو تیرے داتا ہونے کا ہی منکر ہے واہ دلایا تو کیسے موزی سے دلایا۔


عالم اور ولی; ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ علماء کی محفل میں زبان سنبھال کر بیٹھنا چاہیے۔ اور اولیاء کی محفل میں دل کو سنبھال کر بیٹھنا چاہیے ۔کیونکہ اولیایے عزام انسان کے دل کا نظارہ کرتے رہتے ہیں۔


باطنی نظام۔حضرت موسی و خضر علیہم السلام کا واقعہ اس باب کی بہت بڑی دلیل ہے۔ کہ پروردگار عالم جل جلالہ نے ایک مکمل باطنی نظام مقرر فرمایا ہے یہ نظام مقبولان بارگاہ الہی چلاتے ہیں۔ یعنی اولیا ہی عظام چلاتے ہیں ۔اس نظام کی پوری تفصیل کے لیے کافی ورق درکار ہے ۔یہاں پر ہم ایک حدیث مبارک کا تذکرہ کریں گے ،جوعلامہ شیخ محمد عبدالباقی رحمت اللہ علیہ نے اپنی کتاب زرقانی شرح مواحب لدنیہ میں یہ حدیث نقل فرمائی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بے شک اللہ تعالی کے لیے مخلوق میں 300 اولیاء ہیں ان کے دل آدم علیہ السلام کے دل پر ہے ۔اور 40 کے دل موسی علیہ السلام کے دل پر اور ساتھ کے دل ابراہیم علیہ السلام کے دل پر، اور پانچ کے دل جبرائیل علیہ السلام اور تین کے دل میکائیل علیہ السلام اور ایک کا دل اسرافیل علیہ السلام پر ہے۔ جب ان سے ایک فوت ہو جاتا ہے تو تین میں سے کوئی اس کا قائم مقام ہوتا ہے۔ اور جب ان میں سے کوئی فوت ہوتا ہے تو پانچ میں سے کوئی اس کا کوئی مقام ہوتا ہے۔ اور جب ان سے کوئی انتقال کر جاتا ہے تو سات میں سے اس کے کاکوئی مقام کر دیا جاتا ہے۔ اور جب سات میں سےکوی انتقال کرتا ہے تو 40 میں سے کوئی اس کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے۔ اور جب 40 میں سے کوئی مرتا ہے تو 300 میں سے اس کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے اور جب 300 سے کوئی فوت ہو جائے تو عوام سے لیا جاتا ہے۔ انہی سے حیاتی ،موت، مینا کا برسنا، نباتات کا اگنا بلاؤں کا دفع ہونا ہوا کرتا ہے ۔


اس حدیث سے ثابت ہوا کہ 356 اولیاء اولیاء اللہ ہے جو اس نظام کو چلاتے ہیں ۔نیز مصیبتوں کا دور ہونا بارش کا برسنا موت و حیات انہی اولیاء اللہ کی وسعت سے ہوا کرتی ہے۔


دریا یہ دجلہ: فتوح الشام میں ہے ۔کہ دریا یہ دجلہ کی وادی میں کفر و اسلام کی جنگ ہو رہی تھی۔ یہودی لشکر تعداد کے لحاظ سے لشکر اسلام سے کہی گناہ زیادہ تھا ۔سامان حرب بھی ان کے پاس بکثرت موجود تھا ۔اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اگر انہیں شکست بھی ہو جائے تو دریا یہ دجلہ پار کرنے کے لیے ان کے پاس کشتیوں اور جہازوں کا وافر انتظام تھا۔ اور دریا کے دوسرے کنارے مدائن کا قلعہ ایک مضبوط قلعہ تھا جو یہودی لشکر کو پورے طریقے پر پناہ دے سکتا تھا ۔

            جنگ زوروں پر تھی زخمیوں کی چیخیں گھوڑوں کی آواز نے اسمان کو سر پر اٹھا رکھا تھا۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ ایک دفعہ تو ایسا ہوا کہ قریب تھا۔ کہ لشکر اسلام شکست سے دوچار ہو جائے مگر لشکر کے سپہ سالار عزم حضرت سعد بن ابی وقاص کی ولولہ انگیز تقریر نے مجاہدین کے حوصلہ بڑھا دی۔ اور پھر لشکر اسلام نے تعقب کیا یہودیوں کے پاس دریائے دجلہ پار کرنے کا مکمل انتظام تھا۔ چنانچہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے دریا سے پار گزر گئے ۔اتنے میں لشکر اسلام دریا کے اس کنارے پر پہنچ چکا تھا 60 ہزار گھوڑے کنارے دریا پر کھڑے اپنے سپہ سالار کے حکم کے منتظر تھے۔ دریا اپنی طغیانی اور موجوں سے بہہ رہا تھا۔ کسی نے کہا ہے کہ دریا کو اپنے موج کی تغیانیوں سے کام کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے۔ تھوڑی دیر میں حضرت سعد آگے بڑھے  فرمایا سپاہیو کیوں کھڑے ہو گئے ہو۔ کیا دریائے دجلہ کی لہروں سے ڈر گئے۔ ہو مجاہدین نے کہا صرف اور صرف آپ کے حکم کا انتظار ہے۔  آپ حکم دیں تو ہم اپنے گھوڑے دریا میں ڈالنے کے لیے تیار ہے ۔آپ نے فرمایا سب سے پہلے میرا گھوڑا جائے گا آپ نے اپنے گھوڑے کو دریا میں ڈالتے ہوئے فرما یا۔ حضرت سعد کا گھوڑا پانی کی سطح پر سوار ہو گیا تو تمام لشکر اسلام نے اپنے گھوڑے دریا کی سطح پر ڈال دی ۔سب کی زبان پر جاری تھا بسم اللہ مجری لشکر اسلام کے گھوڑے دریا کی سطح پر دوڑتے جا رہے تھے۔ اور دریا سے چھینٹوں کی بجائے گرد اڑتی نظر آتی تھی۔ لشکری اسلام دریائے دجلہ پار کر گیا مگر کسی کے گھوڑے کی زین تک بھی نہیں بھیگی تھی۔ معلوم ہوا کہ مقبولان بارگاہ الہی کا پانی پر پورا پورا تصرف ہے ۔پانی بھی ان کا احترام کرتا ہے اصل بات یہ ہے کہ،

 کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

 یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

 لشکر اسلام دریا کو پار کر گیا تو سپہ سالار نے کہا اگر کسی سپاہی کی کوئی چیز دریا میں گر گئی ہو تو بتائیے میں دریا سے واپس لے کر رہوں۔ ایک سپاہی نے کہا اگر کوئی چیز گر گئی ہو تو دریا کا بہاؤ اس سے بہا کے لے گیا ہوگا ۔اب واپس کیسے مل سکتی ہے ۔آپ نے فرمایا اگر تمہاری کوئی چیز گر گئی ہے تو بتاؤ ۔اس نے عرض کیا حضور میرا لکڑی کا پیالہ گر گیا ہے۔ آپ نے دریا کو حکم دیا کہ میرے سپاہی کا پیالہ واپس کر دے پیالہ پانی سے بہہ کر دور نکل چکا ہے۔ دریا کے پانی میں ایک چکر سا بنتا ہے وہ بنتا گیا اور پیالہ دریا کے اوپر کی سطح کی طرف آتا گیا اخر در یا نے پیالہ اچھال کر باہر پھینک دیا۔

23اگست2025


Post a Comment

1Comments

Post a Comment