صحابی وہ شخص جس نے بحالت ایمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ہو اور اسلام پر وفات پائی ہو ۔صحابی لفظ واحد ہے اس کی جمع صحابہ ہے مذکر کے لیے صحابی کی اصلاح استعمال کی جاتی ہے جبکہ مونث واحد کے لیے صحابیہ اور جمع کے لیے صحابیات کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے
جو مسلمان بحالت ایمان حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سے سرفراز ہوئے, اور ایمان ہی پر ان کا خاتمہ ہوا ان خوش نصیب مسلمانوں کو صحابی کہتے ہیں۔ ان صحابیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے چنانچہ حضرت امام بیہقی کی روایت ہے کہ حجت الوداع میں ایک لاکھ 14 ہزار صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے ۔اور بعض دوسری روایت سے پتہ چلتا ہے کہ حجۃ الودا ع ایک لاکھ 14 ہزار صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے اور بعض دوسری روایت سے پتہ چلتا ہے کہ حجۃ الوداع میں صحابہ کرام کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار تھی واللہ اعلم
صحابی کا اصل معنی ساتھی اور رفیق کے لیکن اسلام کی ایک مستقل اصطلاح ہے اصطلاحی طور پر صحابی کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے۔ جنہوں نے بحالت ایمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ہو اور ایمان ہی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے ہوں۔
افضل الاولیاء
تمام علماء امت و اکابر امت کا اس مسئلے پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ افضل الاولیاء ہے۔ یعنی قیامت تک کے تمام اولیاء اگرچہ وہ درجے ولایت کی بلند ترین منزل پر فائز ہو جائیں ۔مگر ہرگز ہرگز کبھی بھی وہ کسی صحابی کے کمالات ولایت تک نہیں پہنچ سکتے ۔خداوند قدوس نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع نبوت کے پروانوں کو مرتبہ ولایت کا وہ بلند و بالا مقام عطا فرمایا ہے۔ اور ان مقّدس ہستیوں کو ایسی ایسی عظیم الشان کرامتوں سے سرفراز فرمایا ۔کہ دوسرے تمام اولیاء کرام کے لیے اس معراج کمال کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ سے اس قدر زیادہ کرامتو ں کا صادر نہیں ہوا۔ جس قدر کے دوسرے اولیاء کرام سے کرامت منقول ہے لیکن واضح رہے کہ کثرت کرامت افضلیت ولایت کی دلیل نہیں۔ کیونکہ ولایت درحقیقت قرب الہی کا نام ہے۔ یہ قرب الہی جس کو جس قدر زیادہ حاصل ہوگا۔ اسی قدر اس کی ولایت کا درجہ بلند سے بلند تر ہوگا ۔صحابہ کرام چونکہ نگاہ نبوت کے انوار اور فیضان رسالت کے فیوض و برکات سے مستفید ہے۔ اس لیے بارگاہ خداوندی میں ان بزرگوں کو جو قرب و تقرب حاصل ہے وہ دوسرے اولیاء اللہ کو حاصل نہیں اس لیے اگرچہ صحابہ کرام سے بہت کم کرامت صادر ہوئی۔ لیکن پھر بھی صحابہ کرام کا درجہ ولایت دوسرے اولیاء کرام سے بہت زیادہ افضل و اعلی اور بلند و بالا ہے۔ بہرحال اگر تعداد میں کم صحیح لیکن پھر بھی بہت سے صحابہ کرام سے کرامتوں کا صادر وہ ظہور ہوا ہے ۔
(کرامت صحابہ)
خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جیسے قیامت تک کے لیے نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ بعینہ صحابیت کا باب بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ اب قیامت تک آنے والے مردان حق دین متین کی سربلندی کے لیے خواہ کتنے ہی جدوجہد کر لیں مگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے مقام وہ مرتبے کی دھول تک بھی نہیں پہنچ سکتے ۔حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مصداق اگر کوئی کلمہ گو احد پہاڑ کے برابر سونا بھی اللہ رب العزت کی راہ میں صدقہ کر دے تو پھر بھی وہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ جیسا مقام و مرتبہ حاصل کرنا تو درکنار ان کی غبار راہ تک پہنچنے سے بھی قاصر رہے گا ۔
ان اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب قران سے براہ راست قرانی افکار کو اپنے قلوب صدور میں جاگزیں کیا ۔ یہ وہ بے مثال شخصیت ہیں جنہوں نے نزول وحی کا قریب سے مشاہدہ کیا اور اسے متصف دہن مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث مبارکہ کے گہر ہائے گراں مائے کو وارد ہوتے دیکھا ۔انہوں نے ان انوار احادیث کو اپنے متاع حیات سمجھا اور محدود ذرائع کے باوجود انہیں دنیا بھر میں پھیلا کر قیامت تک اہل حق کی ہدایت کا بیش قدر سرمایہ فراہم کیا۔ یہ وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے خود اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت بابرکات کے لیے منتخب فرمایا یہ بلند پایا ہستیاں علم و حکمت اور دین متین کے لیے مینار ہے ۔جن سے قیامت تک اہل حق ہدایت کی تابا نیاں حاصل کرتے رہیں گے۔
صحابہ کبار کی تعریف قرآن پاک کی روشنی میں ؛
لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ-وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-اُولٰٓىٕكَ حِزْبُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(سورہ المجادلتہ آیت 22)
تم ایسے لوگوں کو نہیں پاؤ گے جو اللہ اورآخرت کے دن پرایمان رکھتے ہوں کہ وہ ان لوگوں سے دوستی کریں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یاان کے بھائی یا ان کے خاندان والے ہوں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور وہ انہیں اُن باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ،یہ اللہ کی جماعت ہے، سن لو! اللہ کی جماعت ہی کامیاب ہے۔ (کنزالعرفان)
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ-ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ ﳝ- وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ ﱠ كَزَرْعٍ اَخْرَ جَ شَطْــٴَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَؕ-وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا.(سورہ الفتح آیت9 2)
محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ، آپس میں نرم دل ہیں ۔ تُو انہیں رکوع کرتے ہوئے، سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا ،اللہ کا فضل و رضا چاہتے ہیں ، ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدوں کے نشان سے ہے ۔یہ ان کی صفت تورات میں (مذکور) ہے اور ان کی صفت انجیل میں (مذکور) ہے۔ (ان کی صفت ایسے ہے) جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی باریک سی کونپل نکالی پھر اسے طاقت دی پھر وہ موٹی ہوگئی پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی، کسانوں کو اچھی لگتی ہے (اللہ نے مسلمانوں کی یہ شان اس لئے بڑھائی) تاکہ ان سے کافروں کے دل جلائے۔ اللہ نے ان میں سے ایمان والوں اور اچھے کام کرنے والوں سے بخشش اور بڑے ثواب کاوعدہ فرمایا ہے۔ (کنزالعرفان)
فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰىۚ-بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍۚ-فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۚ-ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ(سورہ ال عمران195)
تو ان کے رب نے ان کی دعاقبول فرمالی کہ میں تم میں سے عمل کرنے والوں کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا وہ مرد ہو یا عورت ۔تم آپس میں ایک ہی ہو،پس جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں انہیں ستایا گیا اور انہوں نے جہاد کیا اور قتل کردیے گئے تو میں ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹادوں گا اور ضرور انہیں ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں (یہ) اللہ کی بارگاہ سے اجر ہے اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔ (کنزالعرفان)
وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(100سورہ التوبہ)
اور بیشک مہاجرین اور انصار میں سے سابقینِ اولین اوردوسرے وہ جو بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ہیں ان سب سے اللہ راضی ہوا اور یہ اللہ سے راضی ہیں اور اس نے ان کیلئے باغات تیار کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ،ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہی بڑی کامیابی ہے۔ (کنزالعرفان)
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا(18سورہ الفتح آیت)
بیشک اللہ ایمان والوں سے راضی ہوا جب وہ درخت کے نیچے تمہاری بیعت کررہے تھے تو اللہ کووہ معلوم تھا جو ان کے دلوں میں تھا تو اس نے ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا۔ (کنزالعرفان)
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ-فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا(سورہ الفتح آیت10)
بیشک جولوگ تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے تو جس نے عہد توڑا تو وہ اپنی جان کے خلاف ہی عہد توڑتا ہے اور جس نے اللہ سے کئے ہوئے اپنے عہد کو پورا کیا تو بہت جلد اللہ اسے عظیم ثواب دے گا۔ (کنزالعرفان)
اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ٘-یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْؕ-فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ( ال اعراف157)
وہ جواس رسول کی اتباع کریں جو غیب کی خبریں دینے والے ہیں ،جو کسی سے پڑھے ہوئے نہیں ہیں ، جسے یہ (اہلِ کتاب ) اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ، وہ انہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں اور انہیں برائی سے منع کرتے ہیں اور ان کیلئے پاکیزہ چیزیں حلال فرماتے ہیں اور گندی چیزیں ان پر حرام کرتے ہیں اور ان کے اوپر سے وہ بوجھ اور قیدیں اتارتے ہیں جو ان پر تھیں تو وہ لوگ جو اس نبی پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ (کنزالعرفان)
وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُؕ-هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ(62ال انفال)وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْؕ-لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْؕ-اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(الانفال63)
اور (اے حبیب!) اگر وہ تمہیں دھوکہ دینا چاہیں گے تو بیشک اللہ تمہیں کافی ہے۔وہی ہے جس نے اپنی مدد اور مسلمانوں کے ذریعے تمہاری تائید فرمائی۔
اور اس نے مسلمانوں کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کردیتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کرسکتے تھے لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو ملادیا، بیشک وہ غالب حکمت والا ہے۔ (کنزالعرفان)
لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(117 التوبہ)
بیشک اللہ کی رحمت متوجہ ہوئی نبی پر اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل وقت میں نبی کی پیروی کی حالانکہ قریب تھا کہ ان میں سے بعض لوگوں کے دل ٹیڑھے ہوجاتے پھر اللہ کی رحمت ان پر متوجہ ہوئی ۔ بیشک وہ ان پر نہایت مہربان، بڑا رحم فرمانے والا ہے۔ (کنزالعرفان)
صحابہ کباررضی اللہ تعالی عنہ کی شان احادیث کی روشنی میں
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری بہترین امت میرے زمانے کی ہے۔ پھر ان سے متصل زمانے کے لوگ اور پھر ان سے متصل زمانے کے لوگ حضرت عمران رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں کا ذکر فرمایا یا تین زمانوں کا (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) پھر تمہارے بعد ایسی قوم آئے گی وہ گواہی دیں گے،حالانکہ ان سے کوئی گواہی طلب نہیں کی جائے گی ،وہ خیانت کریں گے اور ان پر اعتماد نہیں کیا جائے گا ۔وہ نذر یں مانیں گے مگر ان کو پورا نہیں کریں گے ۔اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوگا( یعنی آرام طلب ہو جائیں گے) یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
(عظمت صحابیت اور حقیقت خلافت صفہ 52) منہاج القران
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سے لوگ بہتر ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے زمانے کے لوگ پھر جو ان سے متصل ہے ۔پھر جو ان سے متصل ہے یہ حدیث متفق علیہ ہے (عظمت صحابیت اور حقیقت خلافت صفہ 53) منہا ج القران
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ میں سے جو صحابی جس زمین پر فوت ہوگا اس سے قیامت کے دن اس خطے کے لوگوں کے لیے قائد اور نور کے طور پر اٹھایا جائے گا۔ (اس سے امام ترمذی، تمام الرازی ، ابن عبدالبر اور خطیب بغدادی نے روایت کیا ہے۔
( عظمت صحابیت اور حقیقت خلافت صفہ 63)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا ستارے اہل آسمان کے لیے امان کا باعث ہے ۔میں اپنے صحابہ کے لیے امان کا باعث ہوں اور میرے صحابہ میری امت کے لیے امان کا باعث ہے ۔
اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے امام ہثیمی نے فرمایا اس کی سند عمدہ ہے۔
(عظمت صحابیت اور حقیقت خلافت صفحہ 63)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کی مثال ستاروں کی طرح ہے جن سے راستے تلاش کیے جاتے ہیں سو تم میرے صحابہ میں سے جس کے قول کو بھی پکڑو گے ہدایت پا جاؤ گے۔
اس سے امام عبد بن حمید نے روایت کیا ہے
(عظمت صحابیت اور حقیقت خلافت صفحہ 63)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک میرے صحابہ کی مثال آسمان پر ستاروں جیسی ہے۔ ان میں سے جس کو بھی تھامو گے ہدایت پا جاؤ گے۔ اور میرے صحابہ کا اختلاف بھی تمہارے لیے باعث رحمت ہے۔
اسے امام بہقی قضاعی ابن عبدالبر اور خطیب بغدادی نے روایت کیا ہے
(عظمت صحابیت اور حقیقت خلافت صفحہ 65)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی ۔تو ان سے پوچھا جائے گا کیا تم میں سے کوئی ایسا شخص ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہو وہ لوگ کہیں گے ہاں اس پر انہیں ان صحابہ کی برکت سے فتح دے دی جائے گی ۔پھر لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جب لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی تو ان سے پوچھا جائے گا کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی صحبت پائی ہو۔ وہ کہیں گے ہاں پھر انہیں ان تابعین کی کے توسل سے فتح دے دی جائے گی ۔ پھر لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ ایک جماعت جہادکرے گی۔ تو ان سے پوچھا جائے گا کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی صحبت پانے والوں یعنی تابعین کی صحبت پائی ہو وہ کہیں گے۔ ہاں سو انہیں ان تبع تابعین کے توسل سے فتح دے دی جائے گی ۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے
(عظمت صحابیت اور حقیقت خلافت صفحہ 67)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا بے شک زمانہ گزرنے کے ساتھ لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا جبکہ میرے صحابہ کی تعداد ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے سبب کم ہو جائے گی۔ لہذا ان کی قدر کرو اور اہانت نہ کرو جو ان کی اہانت کرے ۔اس پر اللہ تعالی کی لعنت ہو ۔اس حدیث کو امام ابو یعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ مذکورہ الفاظ طبرانی کے ہیں ۔
(عظمت صحابیت اور حقیقت خلافت صفحہ 79)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ اس امت کے افضل ترین نفوس قدسیہ ہے ۔وہ نہایت پاکیزہ و سلم قلوب کے حامل تھے ۔وہ علم میں بہت زیادہ درک اور گہرائی کے ساتھ ساتھ نہایت سادہ طرز زندگی اپناتے تھے۔ اللہ تعالی نے انہیں اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور اپنے دین متین کی خدمت و نصرت کا شرف عطا کیا ۔اپنے پاک کلام میں ان کی تعریف و توصیف بیان فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے راضی ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بے شمار احادیث میں اپنے صحابہ کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔ ان میں سے بعض احادیث مبارکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے عمومی فضائل بیان کرتی ہے۔ جبکہ دیگر احادیث مبارکہ وہ ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے مخصوص طبقات کے فضائل بیان کرتی ہے۔ جیسا کہ انصار و مہاجرین اور اہل بدر وغیرہ ان کے یہ تمام احوال جن کا ہم ذکر کر ائے ہیں اس وجہ سے تھے، کہ انہوں نے ایمان کی سچائی عقلوں کی پختگی نفوس کی شرافت وہ بزرگی اصابت رائے اور صبر جمیل کی توفیق کے سبب اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاں باقی سب امور پر ترجیح دی تھی۔


