منڈری نالہ تحصیل ناروا و بارہمولہ کشمیر
آ ج میں آ پ کو ایک مشہور نالہ جو تحصیل ناروا کے بیچ میں سے ہو کر گزرتا ہے اس نالے کا مشہور نام منڈری نالہ ہے یہ نام
اس کو لوکل عوام کی طرف سے بولا جاتا ہے یہ نالہ تحصیل نارو او کا بہت پرانا نالہ ہے اس نالے کی تواریخ بہت پرانی ہے پرانے زمانے سے یہ نالہ تحصیل ناروا کے بیچ میں سے ہو کر گزرتا ہے اور پورے تحصیل کا ایک اہم ترین نالہ ہے جس پر آس پاس کے سبھی گاؤں کا ذرا عت منحصر ہے اس کے ساتھ ساتھ اس نالے کا پانی ارد گرد کے سب گاؤں پینے کے لیے استعمال کرتے ہیں یہ نالہ چونکہ قدیم ترین نالہ ہے اور تحصیل ناروا کے گنے جنگلوں سے ہو کر اتا ہے ان گنے جنگلوں کا نام یہاں نیور بولا جاتا ہےیہ نالہ نملن گاؤں کے اوپر گنّے جنگلوں میں سے ہو کر اتا ہے یہ جنگل چونکہ بہت گنے جنگل ہے اس لیے ان جنگلوں میں سردی کے موسم میں جو برف پڑتی ہے وہ برف سردی کی وجہ سے جیسے کشمیر میں چلے کلان کے مہینوں میں یہ برف ان پہاڑوں پر جم جاتی ہے اور جم جانے کے بعد یہی برف موسم تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ پگھل جاتی ہے اور ایک بڑے نالے کی صورت میں پورے سال بہتی رہتی
چونکہ اوپر کے ان گنے جنگلوں میں چھوٹے چھوٹے نالے جو مختلف سمت سے آتے ہیں اور نمبلن گاؤں کے اوپر ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں اور ایک بڑے نالے کی صورت اختیار کر کے نیچے منڈری نالا کی صورت میں بہتی رہتی ہیں
اس نالے کا پانی چونکہ برف کا پانی ہونے کی وجہ سے صاف ہوتی ہے اور پینے میں بھی اس پانی کا میٹھا لذت انسان محسوس کر سکتا ہے چونکہ یہ پانی برف کا پگھلا ہوا پانی ہے اس لیے اس پانی کو گورنمنٹ نے فلٹریشن پلانٹ بنا کر تقریبا تحصیل نارووا کے 30 فیصد گاؤں کو اس پانی کی سپلائی دی گئی ہے اس پانی کو نمبلن گاؤں کے اوپر جو نالہ مشہور ہے جس نالے کو آج کے وقت میں نملن واٹر فال سے بھی جانا جاتا ہے وہاں پر ہی گورنمنٹ پی ایچ ای ڈیپارٹمنٹ نے اس پانی کو پائپوں میں بند کر کے وہاں سے مشکل ترین جنگل میں سے لا کر نملن گاؤں سے ہو کر شری گاؤں تک پہنچایا ہے اس کا فلٹر یشن پلانٹ ہی ون گاؤں میں بنایا گیا ہے جہاں سے اس پانی کو فلٹر کرنے کے بعد با باریشی شیری روڈ کےآس پاس پائپوں میں باقی گاؤں میں سپلے کیا جاتا ہے اور لوگ اس پانی کو کھانے پینے میں استعمال کرتے ہیں.
اس نالے کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس نالے کے ارد گرد جو بھی گاؤں ہے ان گاؤں کے جو کھیتی باڑی کا زمین جیسے دا ں فصل اور باغات وغیرہ کا فصل سب اسی نالے کے پانی پہ منحصر ہے اس نالے کا پانی کم ہونے کی وجہ سے ارد گرد کے گاؤں کے زراعت پر براہ راست اثر پڑتا ہے اس لیے اس نالے کا تحصیل نارو کے علاقے کے فصل کے ساتھ ایک اہم رشتہ ہے یہ نالہ اگرچہ سال بر رواں رہتا ہے مگر گرمی کے کچھ مہینے میں اس نالے کا پانی بھی کم ہو جاتا ہے مگر خوش قسمتی یہ ہے کہ اس نالے کا پانی ختم نہیں ہو جاتا ہے کیونکہ اگر اس نالے کا پانی پورا ہی ختم ہو جائے گا جس کا پورا اثر علاقہ نارواؤ کے ارد گرد کے گاؤں میں براہ راست ان گاؤں کے فصل پر اور ان گاؤں کے پینے کے پانی پر بھی اثر پڑے گا اور ایک بحرانی شکل بھی اختیار ہو سکتی ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس منڈری نالے کا پانی علاقہ نارواؤ تحصیل نارواو کے تقریبا 30 فیصد گاو ں کےاوپر اثر پڑ سکتا ہے اب چونکہ اس نالے کی علاقہ نارواو کے گاؤں پر ایک بہت بڑی مہربانی ہے کہ اس نالے کا پانی آج تک تقریبا کم نہیں ہوا ہے یا ختم نہیں ہوا۔
اس نالے کی شروعات چونکہ گواہس کے جنگل سے شروع ہو کر نملن گاؤں کے واٹر فال سے ہو کر شروع ہوتا ہے اور آڈورا گاؤں کے بیچ میں سے ہو کر دوسرے گاؤں کے بیچ میں سے گزرتا ہے جس کا نام پلے ہارن ہے اس کے بعد یہ نالہ بدمولہ گاؤں کہ ایک طرف سے نکل کر اور فتح گڑھ کے شالی کی زمین کے بیچ میں سے ہو کر آگے دوسرے گاؤں کی طرف جاتا ہے جس کا نام شالٹینگ ہے اور اس کے بعد شیری کے مین بازار کے زیارت شریف سد صاحبَ کے مشرقی جانب نکل کر دریائے جہلم کے ساتھ مل جاتا ہے۔
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جو منڈری نالہ علاقہ ناروا میں سے ہو کر گزرتا ہے اس نالے پر علاقہ نارواؤ براہ راست منحصر ہے اس لیے اس بات کو بھی لازما کہنا چاہتا ہوں کہ اج دیکھا جا رہا ہے کہ اس نالے کے ارد گرد جو گاؤں رہائش پذیر ہے ان گاؤں کے لوگوں نے اس نالے کی بجا یہ اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے باوجود اس نالے میں اپنے گاؤں کی گندگی پھینک دیتے ہیں ان کے گھروں میں جو بھی کوڑا کرکٹ نکلتا ہے وہ اس گندگی کو بجائے کسی جگہ دفن کرنے کے بجائے اس گندگی کو اس قیمتی نالے میں پھینک دیتے ہیں جس کی وجہ سے آج دیکھا جا رہا ہے کہ اس نالے کا پانی گندا لگ رہا ہے کسی ایک وقت میں جیسے 1990 کے دور میں ہم جب چھوٹے تھے تو اپنے ہیون گاؤں سے بڑے شوق سے اس نالے میں بچے نہانے جاتے تھے اور اس وقت اس نالے کا پانی نہانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا مگر آج اگر دیکھا جائے تو منظر کچھ برعکس نظر آتا ہے کہ جس نا لے کا پانی لوگ بڑے شوق سے نہانے میں استعمال کرتے تھے اور اپنے گھروں کے برتن دھونے میں بھی استعمال کرتے تھے اور آج 2024میں اس نالے کا پانی ہاتھ میں بھی نہیں لے سکتے ہیں کیونکہ اس پانی کی بدبو ج برداشت نہیں ہو پا رہی ہے
یہ علاقہ ناروا کے ان لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو لوگ اس منڈری نالے کے ارد گرد رہائش پذیر ہے کہ انہوں نے اس علاقے ناروا کے اس قیمتی سرمایہ کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ابھی بھی وقت باقی ہے اگر یہ لوگ باخبر ہو کے اس نالے کے ارد گرد کوڑا کرکٹ نہ ڈالے اور اس نالے کے پانی کو خراب نہ کریں کیونکہ اگر ہم نے اس کی حفاظت آج نہیں کی تو آنے والے وقت میں جو ہمارے بعد آنے والے لوگ ہوں گے وہ ہمارے قبرستان کی طرف دیکھ کر ہم لوگوں کو جہنم کی دعا دینے کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتے ہیں۔
گورنمنٹ کو بھی اس بات پر غور و خوض کرنا چاہیے کہ جو محکمہ ان نالوں کی دیکھ بھال کے لیے قائم کیے گئے ہیں ان محکمو ں کی ڈیوٹیز کو دیکھنا چاہیے کہ کیا یہ محکمے اپنے فرائض قانون کے مطابق دہرے ہیں کہ نہیں کہ کیا یہ محکمے ان قیمتی اثاثے کی رکھوالی کرتے ہیں یا نہیں کیونکہ یہ ندی نالے کشمیر کے قیمتی سرمائے ہیں انہی کی وجہ سے کشمیر کی یہ رنگ برنگین نظارے قائم ہے اس لیے وقت کی حاکموں کی بھی لازما یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان قیمتی سرمایوں کی حفاظت کرے اور اس منڈری نالہ کے ارد گرد جو لوگ جو گاؤں رہائش پذیر ہے ان گاؤں کو اس نالے میں گندگی ڈالنے پر قانون کے مطابق سختی ہونی چاہیے تاکہ اس منڈری نا لے کے اس لذیذ پانی کو اپنے آنے والے نسلوں کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔
چونکہ یہ منڈری نالہ صرف ناروا کے لوگوں کو پانی ہی نہیں دے رہا ہے بلکہ اس نالے سے بہت سارے جوانوں کا روزگار بھی وابستہ ہے جو اس نالے سے باجری اور پتھر نکال کر لوگوں میں ٹریکٹروں کے ذریعے سے پہنچاتے ہیں جس با جری کو لوگ مکانوں کے تعمیروں میں استعمال کرتے ہیں جس سے سینکڑوں ایسے بہت سارے خاندانوں کا روزگار بھی اس نالے سے چلتا ہے اتنا ہی نہیں اس نالے کی جو باجر ى مکانوں کے تعمیروں میںاستعمال کی جاتی ہے وہ باقی تمام اس باجری سے اچھی مانی جاتی ہے جو دوسرے علاقوں سے اس علاقے میں لائی جاتی ہے اس لیے ہم سب لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس قیمتی سرمایہ کو محفوظ کرنے میں اپنا پورا کردار نبھائے کیونکہ یہ ہم سب لوگوں کی ذمہ داری ہے جو تحصیل نارواؤ کہ کسی بھی گاؤں میں رہتے ہیں ان کو اس نالے کی حفاظت لازما کرنا چاہیے.
منڈری نالہ تحصیل ناروا و بارہمولہ کشمیر
ر






Nice information
ReplyDeletegood information
ReplyDelete