maha rajab ke fazilat. t ماہ رجب کی فضیلت

Tajamul sir
0

                     


       ماہ رجب کی فضیلت

                                                                  ماہ رجب" ( Mah  Rajab) کا مطلب ہے "رجب کا مہینہ"۔ لفظ "ماہ" فارسی سے آیا ہے اور اس کا مطلب "مہینہ" ہوتا ہے، جبکہ "رجب" اسلامی قمری تقویم کا ساتواں مقدس مہینہ ہے۔ماہِ رجب کی اسلامی تاریخ میں خصوصی مقام ہے کیونکہ اس میں اہم واقعات رونما ہوئے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کا معراج کا واقعہ اسی مہینے کی 27 ویں رات کو پیش آیا تھا، جسے "شب معراج" کہا جاتا ہے۔ اس رات کی فضیلت بہت زیادہ ہے اور مسلمان اس رات عبادت اور دعاؤں کا اہتمام کرتے ہیں۔   ماہ رجب  کو عبادت اور توبہ کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس مہینے میں مسلمان روزے رکھتے ہیں، نفل عبادات کرتے ہیں، اور اللہ سے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔ 

                              لفظ 'رجب کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ "خرما" کے درخت کے آس پاس کانٹے گاڑ دئے جاتے ہیں تا کہ لوگ اسے تو ڈ نہ,سکیں اور خر ما محفوظ رہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ جب پھل دار درخت کی ٹہنی میوؤں کے بوجھ سے جھک جاتی ہے، اس کے سہارے کو ترجیب کہتے ہیں ۔ بعض کا قول ہے کہ ترجیب' سامان تیار کرنے کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے؟ کیونکہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہے کہ رجب کے مہینے میں ماہ شعبان کے لئے بہت سی نیکیاں تیار کی جاتی ہیں۔

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:            "إنَّ رجبَ شهرُ اللهِ، وشعبانَ شهري، ورمضانَ شهرُ أُمَّتي"
(الجامع الصغير للسيوطي)ترجمہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رجب اللہ کا مہینہ ہے، شعبان میرا مہینہ ہے، اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔"یہ حدیث رجب کی خصوصی اہمیت کو بیان کرتی ہے کہ اسے "شہرُ الله" یعنی اللہ کا مہینہ کہا گیا ہے، جو اس کی فضیلت اور تقدس کو ظاہر کرتا ہے۔

 بعض اہلِ علم رقمطراز ہیں کہ ذکر الہی اور یا د حق کے تکرار اور اللہ کی بزرگی بیان کرنے کو ترجیب کہتے ہیں کیونکہ ماہ رجب میں فرشتے بار بار اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں بعض نے رجب " نے بجائے "رجم" کا لفظ کہا ہے جس کے معنی ہنکانے کے ہیں کیونکہ اس مہینے میں شیطان اور اس کے لشکر کو ہنکایا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں کو تکلیف نہ ہو۔

رجب کو اس لئے رجب کہتے ہیں کہ اس ماہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت نازل فرماتا ہے، اپنے انعام اور اکرام سے نوازتا ہے، ثواب بخشتا ہے۔ جو اس سے قبل نہ سُنے ہوں گے اور نہ دیکھے ہوں گے ۔ حضرت ابوسعید خدری رضہ اللہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کئے تو اپنی کتاب میں


 .إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْراً فِي كِتَابِ اللهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِوَالأرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ط ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ لا فَلاَتَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَايُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ 


(التوبة ؛ ٣٦) بیشک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب ( یعنی نوشتہ قدرت) میں بارہ مہینے (لکھی) ہے جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین (کے نظام) کو پیدا فرمایا تھا ان میں سے چار مہینے (رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم) حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے سو تم ان مہینوں میں ( از خود جنگ و قتال میں ملوث ہو کر ) اپنی جانوں پر ظلم نہ کرنا اور تم ( بھی ) تمام مشرکین سے اسی طرح ( جوابی ) جنگ کیا کرو جس طرح وہ سب اکٹھے ہو کر ) تم سب پر جنگ مسلط کرتے ہیں، اور جان لو کہ بیشک اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔ (ترجمہ آیت مذکور ؛ عرفان القرآن) ان میں سے رجب کا مہینہ الگ ہے باقی تین ایک ساتھ آتے ہیں۔ آپ اللہ نے فرمایا: رجب اللہ کا مہینہ ہے، شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا ۔ چنانچہ رجب کے مہینے میں ایک روزہ رکھنے والا بھی آخرت کا طلب گار ہوگا اس کی خوشنودی حاصل کر لیتا ہے اور جنت پالیتا ہے۔ جو شخص رجب کے مہینے میں روزہ رکھے گا اُسے دوہرا ثواب ملے گا؛ ہر حصہ وزن میں دُنیا کے پہاڑوں کے برابر ہے۔


اب ہم کچھ احادیث کی روشنی میں ماہ رجب  کی فضیلت جاننے کی کوشش کریں گے; 


عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ   صَوْمِ رَجَبٍ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ فِي رَجَبٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا   يَصُومُ.          ( رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ)


ترجمہ;  عثمان بن حکیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ میں نے رجب کے مہینے میں ہی حضرت سعید بن جبیر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ماہ رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا ۔ انہوں نے کہا: میں ۔ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بیان کرتے سنا ہے: رسول اللہ ﷺ جب روزے رکھتے تو ہم یہ کہتے کہ اب آپ روزے نہیں چھوڑیں گے اور جب آپ روزے چھوڑتے تو ہم یہ کہتے کہ اب آپ ﷺروزے نہیں رکھیں.



وَفِي رِوَايَةِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يُتِمَّ صَوْمَ شَهْرٍ بَعْدَ   رَمَضَانَ، إِلَّا رَجَبَ وَشَعْبَانَ .        (رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ)


ترجمہ; حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان المبارک کے علاوہ 

کسی ماہ کے روزے پورے نہیں رکھے سوائے رجب اور شعبان کے۔


عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَارِكْ لَنَا فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ يَقُولُ. لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ غَرَّاءُ وَيَوْمُهَا أَزْهَرُ. (رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ)


ترجمہ; حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں کہ جب ماہ رجب کا آغاز ہوتا تو حضور نبی اکرم ﷺ دعا کرتے: اے اللہ ! ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمارے لیے رمضان میں بھی برکت عطا فرما۔ اور آپ فرمایا کرتے تھے: جمعہ کی رات قابل احترام ہے


ان احادیث کو پڑھ کر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ماہ رجب کا جو مہینہ ہے اس کی کتنی فضیلت اور برکت اللہ تعالی نے عطا کی ہے جس مہینے کو خود پیغمبر صاحب صلی اللہ علیہ وسلم تعریف فرمائیں گے اور جس مہینے کی عبادت کا تذکرہ اور ثواب ملنے کی پیشن گوئی خود سرور کائنات نیکی ہو تو پھر ہم کو اس ماہ رجب کے مہینے میں عبادت کا کتنا خیال اور احترام کرنا چاہیے یہ مہینہ چونکہ سال بھر میں ایک ہی بار اتا ہے اس لیے ہم کو اس مہینے کی برکت سے واقف ہونے کا علم لازما ہونا چاہیے اور اس مہینے سے برکت حاصل کرنی چاہیے 

         

  جوشخص اس مہینے میں تین روزے رکھے گا اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک خندق حائل کر دی جائےگی جس کی چوڑائی ایک سال کی مسافت کے برابر ہوگی اور جو شخص ماہ رجب میں چار روزہ رکھے گا وہ دیوانگی ، برص، جذام اور فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔ پانچ روزے رکھنے والے کو عذاب قبر سے نجات ملے گی، چھ روزہ رکھنے والا جب قبر سے نکلے گا تو اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن ہوگا۔ ساتویں روزہ رکھنے والے پر دوزخ کے ساتوں دروازے بند کر دیئے جائیں گے اور آٹھ روزہ رکھنے والے کیلئے جنت کے آٹھ دروازے کھول دیئے جائیں گے یعنی ہر روزہ کے عوض ایک دروازہ کھولا جائے گا۔ نو روزہ رکھنے والا اپنی قبر سے کلمہ شہادت کہتا ہوا اٹھے گا اور اس کا منہ جنت کی طرف ہوگا۔ دس روزہ رکھنے والے کے لئے اللہ تعالی پل صراط پر ہر کوس کے فاصلے پر ایک فرش بنائے گا چنانچہ وہ پل صراط سے گذرتے وقت اس فرش پر آرام کرے گا۔ گیارہ روزہ رکھنے والا قیامت کے دن سب سے بہتر ہوگا اللہ تعالیٰ اسے دو حلے پہنائے گا؛ روز قیامت ہر حلہ ساری دُنیا سے بہتر ہوگا۔ بارہ روزہ رکھنے والے کو اللہ تعالیٰ وہ خلعت فاخرہ عطا فرمائے گا جس کی قیمت دُنیا و مافیہا سے افضل اور بیش قیمت ہوگا۔ تیرہ روزہ رکھنے والا قیامت کے دن عرش کے سایہ کے نیچے ہوگا اس کے سامنے ایک دستر خوان لایا جائے گا اور وہ مزے سے اس میں سے کھائے گا حالانکہ اس وقت دوسرے لوگ سختی میں ہوں گے۔ چودہ روزہ رکھنے والے کو رب ذوالجلال ایسی چیز عنایت فرمائے گا جو اس نے کبھی نہ دیکھی ہوگی اور نہ اس کا گمان کیا ہوگا۔ جو پندرہ روزہ رکھے گا قیامت کے دجملہ آفات سے محفوظ ہوگا۔ سولہ روزہ رکھنے والا اللہ کی زیارت سے سب پہلے فیض یاب ہوگا۔ سترہ روزہ رکھنے والے کے لئے پل صراط پر مخصوص آرام گاہ ہوگا۔ اٹھارہ روزہ رکھنے والے کے لئے حضرت ابراہیم صلى الله عليه وسلم کے قبہ ہوگا۔ انیس روزہ رکھنے والے کے لئے حضرت آدم ان کے محل کے سامنے محل ہوگا ۔ جب یہ شخص وہاں پہنچے گا تو وہ اُسے سلام کہیں گے اور یہ انہیں سلام عرض کرے .


مشہور ولی کاملین حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ماہ رجب کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ رجب فصل بونے کا مہینہ ہے شعبان پانی دینے کا اور رمضان فصل کاٹنے کا مہینہ ہے ہر شخص جو بوتاہے وہی کاٹتا ہے اسی کا بدلہ پاتا ہے جس نے فصل کو ضائع کیا وہ کٹائی کے دن نادم ہوتا ہے اور اپنے گمان کے خلاف  پاتا ہے اور برے انجام  کو دیکھتا ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ماہ رجب ہوا کی مانند ہے شعبان بادل کی مانند اور رمضان بارش کی مانند ہے بعض علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سال درخت کی مثل ہے ماہ رجب اس درخت کی ہریالی کے دن ہیں شعبان اس کے پھل پھلے کے دن ہیں اور رمضان اس کے کاٹنے کے دن ہیں اس کو کاٹنے والے مومن ہوتے ہیں جس شخص نے اپنے نامہ اعمال کو گناہوں سے سیاہ کر لیا ہو اس کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ اس مہینے میں توبہ کے ذریعے اسے سفیدی میں بدل دے اور جس نے سرکشی میں اپنی عمر کو ضائع کر دیا ہو وہ اس ماہ کو اپنی بقیہ عمر کے لیے غنیمت سمجھے یہ الفاظ بھی علمائے اسلام نے براے نصیحت فرمایا ہیں۔

☆☆☆☆

خادم ملت; شیخ تجمل اسلام بارہمولہ  کشمیر


                                                                                                                                                                                                     7september 2024

 

 







Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)